بیت المقدس میں تشدد اور کشیدگی پیدا کرنا یہودی مذہب کے نزدیک ناقابل قبول: یہودی ربی

بیت المقدس میں تشدد اور کشیدگی پیدا کرنا یہودی مذہب کے نزدیک ناقابل قبول: یہودی ربی

یہودی ربی 'یونس حمامی لالہ زار' نے کہا کہ مذہب اور ادیان کی توہین کرنے سے تشدد، کشیدگی میں اضافہ اور انسان امن و باہمی بقا سے دور ہوجائے گا.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کی یہودی برادری کے دارالشرع مرکز کے سربراہ نے تہران میں ’’القدس ادیان کا پرامن دار الحکومت‘‘ کے زیر عنوان منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہودیت میں القدس کی حرمت کو مقدس سمجھا جاتا ہے اور ہماری نظر میں کسی بھی دین و مذہب کی توہین سے امن کو خطرہ اور کشیدگی کی فضا میں اضافہ ہوگا.

یہودی ربی 'یونس حمامی لالہ زار' نے اس موقع پر مزید کہا کہ مذہب اور ادیان کی توہین کرنے سے تشدد، کشیدگی میں اضافہ اور انسان امن و باہمی بقا سے دور ہوجائے گا.

انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب بشمول یہودی مذہب میں بیت المقدس ایک تاریخی مقام کی حیثیت رکھتا ہے جو نہایت محترم ہے. بیت المقدس میں تمام ادیان کی تاریخی نشانیاں موجود ہیں اور ہمیشہ دنیا کی توجہ کا مرکز رہا ہے.

ایران کے یہودی رہنما نے بتایا کہ یروشلم کی سرزمین مسلمان، عیسائی اور یہودی پُرامن طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں. آخری الزمان میں ظہور ہونے والے کی آمد کے بعد اس عالم میں امن کا خواب مکمل طور شرمندہ تعمیر ہوجائے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح قرآن پاک میں یروشلم کا ذکر ہے اسی طرح یہودیوں کی مقدس کتاب تورات میں بھی یروشلم کا ذکر کیا گیا ہے.

ربی یونس حمامی نے کہا کہ یہودی بھی بیت المقدس کی حرمت برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں جبکہ اس مقدس مقام پر کشیدگی اور توہین آمیز اقدامات ہمارے نزدیک ناقابل قبول ہے.

واضح رہے کہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور دیگر اداروں کے باہمی تعاون سے ایران کے دار الحکومت تہران میں ’’قدس ادیان کا پرامن دار الحکومت‘‘ کے زیر عنوان ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram