برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا سخت رد عمل

  • News Code : 852712
  • Source : ابنا خصوصی
Brief

برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے نئے دور اور ظلم و تشدد کی انتہا کے خلاف رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ان مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے ان متشددانہ واقعات کو رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے نئے دور اور ظلم و تشدد کی انتہا کے خلاف رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ان مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے ان متشددانہ اقدامات کو رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس بیان میں آیا ہے کہ روہنگیا کے مسلمان صرف ’’برمائی‘‘ نہ ہونے کے جرم میں سالھا سال سے ظلم و تشدد کی آگ میں جھلس رہے ہیں۔ یہ دردناک واقعات جو شدت پسند بودائیوں اور فوج کے ہاتھوں برما حکومت کے گرین سگنل سے رخ پا رہے ہیں ان میں مظلوم مسلمان قتل کئے جا رہے ہیں، ان کے گھر جلائے جا رہے ہیں، ان کی مسجدیں اور دوکانیں نابود کی جا رہی ہیں، اور انتہائی بے دردی سے انہیں ان کے گھروں و آشیانوں سے بھگایا جا رہا ہے۔
اس بیان میں تکفیری وہابیوں کے اقدامات کو برما میں جاری بحران کا اہم سبب قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے: انتہا پسند بدھسٹوں کے علاوہ، اس تشدد میں تکفیریوں اور وہابیوں کے کردار سے بھی غافل نہیں رہنا چاہیے۔ اس ٹولہ نے خلیجی ڈالروں کی پشت پناہی سے دنیا میں اسلام کے تئیں نفرت اور دشمنی کا بیج بویا ہے اور مسلمانوں، عیسائیوں، بودائیوں اور کسی بھی دین کے ماننے والوں پر رحم نہیں کھایا اور ان کے وحشیانہ اقدامات اس وقت صیہونیت کے کھیل کے میدان میں بدھسٹوں کے لیے بہانہ تراشی کا باعث بنے ہیں جن کی وجہ سے بودائیوں اور مسلمانوں میں تشدد کی آگ کے شعلے اتنی تیزی سے بھڑک اٹھے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے بیان کا مکمل ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم الله قاصم الجبارین
برما کی ریاست ’’راخین‘‘ کے علاقے روہنگیا کے مسلمانوں پر متشددانہ حملوں کا دوسرا دور ایسے حال میں شروع ہوا ہے کہ مغربی حکومتوں اور عالمی استعمار سے منسلک عالمی اداروں پر موت کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔
 یہ مظلوم قوم، صرف ’’برمائی‘‘ نہ ہونے کے جرم میں سالھا سال سے ظلم و تشدد کا نشانہ بن رہی ہے۔  یہ دردناک واقعات جو شدت پسند بدھسٹوں اور فوج کے ہاتھوں برما حکومت کے گرین سگنل سے رخ پا رہے ہیں ان میں مظلوم مسلمان قتل ہو رہے ہیں، ان کے گھر جلائے جا رہے ہیں، ان کی مسجدیں اور دوکانیں نابود کی جا رہی ہیں، اور انتہائی بے دردی سے انہیں ان کے گھروں اور آشیانوں سے بھگایا جا رہا ہے۔
تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ۴۰۰ مسلمانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے عرصے میں لاکھوں افراد کو یا براہ راست مار دیا گیا یا ہجرت کرنے پر مجبور کر کے سمندر میں غرق کرا دیا گیا۔ جبکہ برما سے بھاگے ہوئے مسلمانوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک ایسا غیرسرکاری ادارہ ہونے کی حیثیت سے جس میں پوری دنیا سے سیکڑوں برجستہ شخصیات رکنیت رکھتی ہیں عالمی برادری کی توجہ کو درج ذیل نکات کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہے:
۱۔ تمام ادیان کی بنیاد، ’’توحید‘‘، ’’اخلاق‘‘، ’’محبت‘‘ اور دوسرے انسانوں کے ساتھ پرامن زندگی گزارنے پر رکھی گئی ہے۔ لہذا جو بھی ٹولہ یا حکومت دوسرے انسانوں کے قتل و غارت کے لیے قدم اٹھاتی ہے وہ جس دین کی بھی دعویدار ہو جھوٹی ہے۔
۲۔ ایک آب و خاک سے وابستہ افراد کے شہری حقوق، ہر ملک کے لوگوں کے ابتدائی حقوق ہیں جن پر عالمی معاہدے بھی تاکید کرتے ہیں۔
۳۔ اگر کوئی ایک حکومت کسی گروہ کو اس سرزمین کا شہری ہونے کی رسمیت نہیں دیتی تب بھی اسے حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اسے مارے، جلائے یا اسے فرار کرنے پر مجبور کرے۔
۴۔ ایسے حال میں کہ ایک طرف دنیا کے بہت سارے ممالک، جنگ زدہ علاقوں سے بھاگنے والے مہاجروں اور پناہ گزینوں کو اپنے ملکوں میں جگہ دے رہے ہیں دوسری طرف انتہائی حیرت سے برما حکومت اپنے ہی لوگوں کو جو دسیوں سال سے اس ملک میں زندگی گزار رہے ہیں انہیں برمائی نہ ہونے کے بہانے سے ان کے ساتھ بدترین سلوک کر کے ان کے خون سے ندیاں بہا رہی ہے۔
۵۔ اس درمیان، انتہا پسند بودائیوں کے علاوہ، اس تشدد میں تکفیریوں اور وہابیوں کے کردار سے بھی غافل نہیں رہنا چاہیے۔ اس ٹولہ نے خلیجی ڈالروں کی پشت پناہی سے دنیا میں اسلام کے تئیں نفرت اور دشمنی کا بیج بویا ہے اور مسلمانوں، عیسائیوں، بودائیوں اور کسی بھی دین کے ماننے والوں پر رحم نہیں کھایا اور آج ان کے وحشیانہ کرتوت صیہونیت کے کھیل کے میدان میں بدھسٹوں کے لیے بہانہ تراشی کا باعث بنے ہیں جن کی وجہ سے بودائیوں اور مسلمانوں میں تشدد کی آگ کے شعلے اتنی تیزی سے بھڑک اٹھے ہیں۔
۶۔ امریکی حکومت اور دیگر سپر پاور طاقتیں جو شدت پسند مسلمانوں کی طرف سے سامنے آنے والی معمولی انتہا پسندی کو لے کر اتنا شور مچاتی ہیں کہ دنیا کے کان کھا جاتی ہیں، برما میں جاری سالھا سال سے انسان کشی کے مقابلے میں ذرہ برابر لب کشائی نہیں کرتیں اور ہمیشہ کی طرح بے اثر اور دوپہلو باتیں کرنے میں مصروف ہیں۔
۷۔ ہم اسلامی تعاون تنظیم اور مسلمان حکومتوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ برما کی حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر دباؤ ڈال کر مزید مسلمان کشی کا سلسلہ رکوائیں۔ جیسا کہ امام خامنہ ای نے اپنے حج کے پیغام میں واضح کیا: ’’ میانمار کے مظلوموں  جیسے مسلم اقلیتوں کے صریحی دفاع کی ذمہ داری اسلامی مملکتوں کے سربراہان اور دنیائے اسلام کی سیاسی، دینی و ثقافتی شخصیات کے دوش پر ہے‘‘۔
۸۔ ہم برما حکومت کو ان جرائم کے سخت نتائج کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے طرفین کو اخلاقی معیاروں کے مطابق اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اس بحران کے حل کے لیے گفتگو کی دعوت دیتے ہیں۔
۹۔ نیز حریت پسندوں اور دنیا کے مسلمانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دنیا کے کونے کونے سے صدائے احتجاج بلند کریں کہ شاید کوئی ضمیر بیدار ہو جائے اور دین کے نام پر ظلم و ستم کی بھڑکتی ہوئے آگ پر پانی چھڑک دے۔
الَّذينَ أُخرِجوا مِن دِيارِهِم بِغَيرِ حَقٍّ إِلّا أَن يَقولوا رَبُّنَا الله وَلَولا دَفعُ الله النّاسَ بَعضَهُم بِبَعضٍ لَهُدِّمَت صَوامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَواتٌ وَمَساجِدُ يُذكَرُ فيهَا اسمُ اللَّهِ كَثيرًا وَلَيَنصُرَنَّ الله مَن يَنصُرُهُ إِنَّ الله لَقَوِيٌّ عَزيز. ﴿سوره حج، آیه ۴۰﴾
(ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے ہیں، محض اس جرم میں کہ وہ یہ کہتے تھے: ہمارا پروردگار اللہ ہے اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے روکے نہ رکھتا تو راہبوں کی کوٹھریوں اور گرجوں اور عبادت گاہوں اور مساجد کو جن میں کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے منہدم کر دیا جاتا اور اللہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا جو اس کی مدد کرے گا، اللہ یقینا بڑا طاقتور اور بڑا غالب آنے والا ہے)
مجمع جہانی اہل بیت(ع)
۵ ستمبر ۲۰۱۷

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


متعلقہ مضامین

اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram