اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ

برطانوی شیعہ سنی ٹی وی چینلوں کا بجٹ ملکہ الزبتھ اور برطانوی حکومت دیتی ہے

برطانوی شیعہ سنی ٹی وی چینلوں کا بجٹ ملکہ الزبتھ اور برطانوی حکومت دیتی ہے

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ نے پرس ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں شیعہ سنی اتحاد اور اختلافی مسائل سے پرہیز کی ضرورت پر زور دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ نے پرس ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں شیعہ سنی اتحاد اور اختلافی مسائل سے پرہیز کی ضرورت پر زور دیا۔
حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر علی رضا ایمانی مقدم نے برطانیہ سے نشر ہونے والے شیعہ چینلوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: حسن اللہیاری امریکہ میں مقیم ایک افغانی نوجوان تھا جو ٹیکسی چلایا کرتا تھا۔ اس کے والد ایک عالم دین کے پاس گئے اور کہا: ’’میرا بیٹا اچھی صلاحیت کا مالک ہے میری رہنمائی کریں تاکہ اسے دینی علم حاصل کرنے کی راہ میں لگا سکوں اور وہ ایک اچھا مبلغ بن سکے‘‘۔
ڈاکٹر ایمانی مقدم نے کہا: اللہیاری چار سال قم میں رہا اور اب وہ دعویٰ کرتا ہے کہ شیخ مفید سے لے کر اب تک میرے مقابلے میں کوئی عالم دین پیدا ہی نہیں ہوا ہے! وہ ٹی وی چینلوں سے کھلے عام گالیاں بکتا ہے۔ اہل سنت اور صحابہ کو کھلے عام لعنت بھیجتا ہے جو یقینا اختلاف کا سبب ہے۔ یہ لوگ منحرف ٹولیوں کے لیڈر ہیں اور افسوس کے ساتھ میڈیا بھی انہیں لوگوں کو آگے آگے لاتا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ نے کویتی مولوی یاسر الحبیب کی شرانگیز سرگرمیوں کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا: فدک ٹی وی چینل سے بالکل کوئی ایڈ نشر نہیں ہوتی اور اس کا مکمل بجٹ ذاتی ہے۔ ماہانہ ۸۰ ہزار ڈٓالر سیٹلائٹ پر اس چینل کا کرایہ ہے اور یہ سارا بجٹ ملکہ الزبتھ اور برطانوی حکومت دیتی ہے۔ جب یاسر الحبیب سے یہ کہتے ہیں کہ تو مولوی ہے، شیعہ ہے کیوں دین کی تبلیغ کے لئے ایک کافر حکومت سے پیسہ لیتا ہے؟ تو وہ کہتا ہے: ’’میں نے تحقیق کی ہے ملکہ الزبتھ سیدہ اور اہل بیت رسول (ص) میں سے ہے‘‘!!
انہوں نے مزید کہا: افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس طرح کے چینل سب سے زیادہ اپنا اثر چھوڑ رہے ہیں۔ اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ وصال اور کلمہ چینل جو اہل سنت سے تعلق رکھتے ہیں اور شیعوں اور اہل بیت(ع) کو گالیاں دیتے ہیں ان کا بجٹ بھی اسی جیب سے آتا ہے۔ ان دونوں طرح کے چینلوں کا بجٹ ایک ہی جیب سے آتا ہے تاکہ مسلمانوں میں اختلاف پیدا کر کے انہیں ایک دوسرے کے دست و گریباں کیا جائے۔
ڈاکٹر ایمانی مقدم نے شیعوں اور سنیوں کے درمیان اتحاد کی وجوہات کو بیان کرتے ہوئے کہا: لبنان کے سابق عالم دین شیخ حبیب آل ابراہیم نے اپنی ایک کتاب میں شیعوں اور سنیوں کے مشترکات کو اکٹھا کیا اور لکھا کہ ۸۹ فیصد شیعوں اور سنیوں کے فروع دین مشترک ہیں اور صرف گیارہ فیصد اختلاف پایا جاتا ہے اور اسی طرح ۹۱ فیصد اصول دین بھی مشترک ہیں۔ یعنی ہم صرف اصول دین میں ۹ فیصد اور فروع دین میں ۱۱ فیصد آپس میں اختلاف رکھتے ہیں۔ اور مجموعی طور پر ۱۰ فیصد اختلاف اور ۹۰ فیصد اتحاد رکھتے ہیں ہمارا دین، خدا، پیغمبر، قرآن اور قبلہ سب ایک ہے اچھا نہیں ہے کہ دشمن اس طرح سے ہمارے درمیان تفرقہ اندازی کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram