ایام عزا کی مناسبت سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا اہم بیان

  • News Code : 856396
  • Source : ابنا خصوصی
Brief

محرم الحرام اور حضرت ابا عبد اللہ الحسین (ع) اور ان کے اعزاء و اقرباء اور اصحاب وانصار کی شہادت کے ایام پہنچ چکے ہیں۔ ان ایام میں، تاریخ بشریت کے سب سے زیادہ دردناک واقعہ اور ظلم و جور کے خلاف رونما ہونے والی سب سے بڑی جنگ یعنی ’’نہضت حسینی‘‘ کو یاد کیا جاتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سید الشہداء حضرت ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کے ایام عزا کی مناسبت سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس کا ترجمہ اپنے عزیز قارئین اور عزاداران مظلوم کربلا کے لئے پیش کیا جاتا ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
’’ایک مقام پر امام حسین علیہ السلام کچھ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد یہ خطبہ ارشاد فرمایا: اس طاغوتی نظام نے ہمارے اور ہمارے شیعوں کے ساتھ جو کیا آپ بخوبی جانتے ہیں اور دیکھ چکے ہیں۔ میں تم لوگوں سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اگر سچ کہوں تو میری تصدیق کرنا اور اگر جھوٹ بولوں تو مجھے جھٹلا دینا۔ میری باتوں کو بغور سنیں اور اس کے بعد انہیں اپنے درمیان اور اپنے قبیلے والوں کے درمیان جا کر پھیلائیں اور وہ لوگ جن پر آپ اطمینان رکھتے ہیں انہیں ان باتوں کی دعوت دیں جن کے بارے میں آپکو علم ہے۔ مجھے حق کے پامال ہوجانے کا خوف ہے۔ اگر چہ خدا اپنے نور کو مکمل کرتا ہے چاہے کافروں کو اچھا نہ لگے۔ آگاہ ہو جاو، پست باپ کے پست بیٹے (ابن زیاد) نے مجھے دو راہے کے بیچ لا کر کھڑا کر دیا ہے؛ یا تلوار چلاؤں یا ذلت قبول کر لوں؛ ’’ھیھات منا الذلہ‘‘ یاد رکھو ذلت ہم سے بہت دور ہے‘‘۔
محرم الحرام اور حضرت ابا عبد اللہ الحسین (ع) اور ان کے اعزاء و اقرباء اور اصحاب وانصار کی شہادت کے ایام پہنچ چکے ہیں۔ ان ایام میں، تاریخ بشریت کے سب سے زیادہ دردناک واقعہ اور ظلم و جور کے خلاف رونما ہونے والی سب سے بڑی جنگ یعنی ’’نہضت حسینی‘‘ کو یاد کیا جاتا ہے۔
انقلاب حسینی کی یاد، ہم مسلمانوں اور اہل بیت(ع) کے پیروکاروں کے دوش پر یہ ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ ہم اس مقدس تحریک کو جاری رکھنے، اس کے آثار و نتائج کو لوگوں کے دلوں میں اتارنے، معاشرے کی اصلاح، ظلم و ستم کے ساتھ مبارزہ اور مظلومین، مستضعفین اور کمزور انسانوں کا دفاع کرنے میں کوشاں رہیں۔
اس مناسبت سے ہم چند نکات کی طرف ان افراد کی توجہ مبذول کرنا چاہتے ہیں جن کے کاندھوں پر قوم کی ہدایت ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو سماج کی رہبری کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں اور وہ خطباء جو حسینی انقلاب کے آثار کی حفاظت نیز سماج کی بنیادوں کو تعمیر کرنے والے اصولوں کا دفاع اور مظلومین و مستضعفین عالم کی حمایت میں لب کشائی کرتے ہیں۔ اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی ایک عالمی ادارہ ہونے کے عنوان سے کہ جو لاکھوں مسلمانوں میں فکری اور ثقافتی مرکزیت کا کردار نبھا رہا ہے درج ذیل نکات کو جملہ مبلغین، ذاکرین اور ادارے سے منسلک افراد کے لیے بطور شمع راہ پیش کرتا ہے:
۱؛ مقبوضہ فلسطین میں مظلوم فلسطینی عوام کے خلاف صیہونی ریاست کے جارحانہ اقدامات، قدس شریف اور مسجد الاقصیٰ پر یہودیوں کی بربریت نیز علاقے پر امریکی تسلط کو باقی رکھنے کے لئے اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کی فریبانہ سازشوں کو برملا کیا جائے۔ یہ ریاست اسلامی ممالک میں نفوذ، اپنے ناجائز مفادات کے حصول اور مسلمان قوموں کو ضعیف سے ضعیف تر بنانے اور دھشتگرد ٹولیوں کی کھلے عام حمایت کرنے میں مسلسل جھٹی ہوئی ہے۔
۲؛ امت مسلمہ کے سرنوشت ساز مسائل منجملہ یمن، بحرین، اور شام کے مسائل کا دفاع کریں اور آل سعود اور ان کے ہم نوالہ حکمرانوں کے ان جرائم کو برملا کریں جو مختلف ممالک کے بنیادی ڈھانچوں کو بموں کے بوچھاڑ سے نابود کر رہے ہیں، مظلوم اور بے سہارا مسلمانوں کی بستیوں کو ویران کر رہے ہیں اور دھشتگردوں کی حمایت سے علاقے میں تشدد کو بڑھاوا دے رہے ہیں نیز مشرق وسطیٰ میں مذہبی، قبائلی اور دیگر تباہ کن جنگوں کی سربراہی کر رہے ہیں۔
۳؛ یمن، برما اور شام کے مظلوموں اور پناہ گزینوں کی حمایت میں پوری دلیری کے ساتھ سخت موقف اختیار کریں اور طاغوتی حکمرانوں اور ظالم حکومتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر کے عالمی تنظیموں کو حرکت میں لائیں نیز ان ممالک کے بے گھر لوگوں کے لیے انسان دوستانہ طبی اور مالی امداد اکٹھا کر کے ان تک پہنچائیں۔
۴؛ علماء اور مسلم و غیر مسلم مفکرین کے ساتھ کانفرنسیں منعقد کریں اور سعودی عرب کے العوامیہ میں آل سعود، بحرین میں آل خلیفہ اور برما میں صہیونی بودھسٹوں کے جارحانہ اقدامات پر بحث و گفتگو کریں اور ان کے پس پردہ چھپے حقائق سے نقاب ہٹائیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ان تمام بہیمانہ جرائم کی سختی سے مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے گزارش کرتی ہے کہ اس بربریت کی مذمت کریں اور مجرمین کے مدمقابل قیام کریں اور انسانہ دوستانہ امداد جمع کر کے ان بے گناہ اور مظلوم افراد تک پہنچانے میں جلدی کریں۔
نیز یہ ادارہ عالم اسلام کے تمام مفکرین اور علماء کو دعوت دیتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی فضا کو تقویت دینے کی مسلسل کوشش کریں اور ماہ محرم کے ایام سے بخوبی فائدہ اٹھاتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کی تحریک سے دوسرے لوگوں کو روشناس کرائیں، ظلم کے مقابلے میں قیام کے لیے انقلاب کربلا کو نمونہ بنائیں اور موجودہ دور کی یزیدیت اور جاہلیت کے ساتھ نبرد آزمائی کے لیے لوگوں کو تیار کریں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی منبر حسینی کے خطباء، واعظین اور نوحہ خوانوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ مجالس عزا کی عظمت کو تحفظ بخشیں، امام حسین(ع) کے فضائل و مناقب کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی تحریک کا بنیادی فلسفہ بھی بیان کریں اور عزاداری کے امور میں بدعتوں اور خرافات سے دوری اختیار کرنے کی تلقین کریں۔ ضروری ہے کہ ایام عاشورہ کی فرصت سے اسلامی معاشرے کے فکری اور معنوی پہلو کے ارتقاء کے لیے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔
آخر میں ہم ایام عزا کی مناسبت سے تمام مومنین، اہل بیت(ع) کے پیروکاروں اور فکر حسینی کے چاہنے والوں کی خدمت میں تسلیت و تعزیت پیش کرتے ہیں اور ان سے اپیل کرتے ہیں کہ پہلے سے زیادہ، درسگاہ حسینی سے اپنے حال اور مستقبل کے لیے درس حاصل کریں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
۱۹ ستمبر ۲۰۱۷؎

.................

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Mourining of Imam Hossein
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram