آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل

  • News Code : 870187
  • Source : ابنا خصوصی
Brief

بحرین کی یہ اہم شخصیت جنہیں کئی مہینوں سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے جسمانی طور پر صحت و سلامتی کی حامل نہیں ہیں اور ان کے علاج کے لئے تجربہ کار ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کی ضرورت ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی جسمانی صورتحال کی بحرانی کیفیت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیانیہ جاری کیا ہے۔
اس بیانیہ میں آیا ہے کہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک عالمی ادارہ ہونے کی حیثیت سے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لیے بین الاقوامی اداروں سے ایک ماہر اور قابل وثوق ڈاکٹر کا مطالبہ کرتی ہے۔
بیانیہ کا مکمل ترجمہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل
افسوس کی بات ہے کہ بحرین کے بزرگ عالم دین اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے رکن ’’آیت اللہ شیخ عیسی احمد قاسم‘‘ کی طبیعت انتہائی ناسازگار ہے۔
بحرین کی یہ اہم شخصیت جنہیں کئی مہینوں سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے جسمانی طور پر صحت و سلامتی کی حامل نہیں ہیں اور ان کے علاج کے لئے تجربہ کار ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کی ضرورت ہے۔
جیسا کہ اس دینی رہبر کے قریبی رشتہ داروں اور قرابتداروں نے بتایا ہے شیخ عیسی قاسم کا آدھا وزن بھی کم ہو گیا ہے اور ان کے معدے سے خونریزی بھی جاری ہے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ وہ اس سے پہلے ہی بلڈ پریشر، شوگر اور بڑھاپے کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہیں۔
گھر کو محاصرہ کرنے کے بعد انہیں طبی سہولیات فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے ان کا طبیب ٹھیک طرح سے ان کا علاج کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اب اس نے واضح کہہ دیا ہے کہ شیخ عیسی قاسم کو متخصص ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے آپریشن کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب آیت اللہ عیسی قاسم کے اہل خانہ، بحرینی حکومت کی جانب سے بھیجے جانے والے ڈاکٹروں پر بھروسہ نہیں کر رہے ہیں۔
مذکورہ باتوں کے پیش نظر، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک بین الاقوامی ادارہ ہونے کی حیثیت سے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، انسانی حقوق کے ہائی کمیشنر، یورپی یونین اور ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم نیز حریت پسند ممالک کے سربراہان کی توجہ درج ذیل نکات کی طرف مرکوز کرتی ہے:
۱۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کہولت سن اور نقاحت بدن کی وجہ سے مزید بیماریوں کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ باقی ماندہ معمولی توانائی کے خاتمہ سے اس بزرگ عالم دین کی جان یقینی خطرے سے دوچار ہو جائے۔
۲۔ بیمار انسان کو دوا اور علاج سے محروم کرنا، انسانی حقوق کی پامالی کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔
۳۔ آل خلیفہ کی حکومت، تقریبا سات سال سے مختلف حربوں کے ذریعے انسانی حقوق اور اس ملک کے باشندوں کے شہری حقوق کو پامال کر رہی ہے۔ اور اس بار بیماروں کی دیکھ بھال کا امکان فراہم نہ کر کے اپنی حکومت کے دامن پر ایک اور سیاہ دھبہ اضافہ کر رہی ہے۔
۴۔ ہم اس عالمی تنظیم عہدہ دار ہونے کے عنوان سے بین الاقوامی تنظیموں سے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج کے لئے ماہر اور قابل وثوق ڈاکٹروں کی ایل ٹیم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
۵۔ نیز انسانی حقوق کے سرگرم افراد اور مربوطہ تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت کی منسوخی کے قانون کو واپس لینے اور ان کے گھر کا محاصرہ خاتم کرنے کے لئے بحرین کی قانون شکن حکومت پر دباؤ ڈالیں۔
۶۔ بیشک اس امر میں سستی برتنے کے نتیجے میں پیش آنے والے ہر ناخوش گوار واقعہ کی براہ راست ذمہ داری حکومت بحرین اور اس کے بعد ان عالمی تنظیموں کے دوش پر ہو گی جو اس سلسلے میں سکوت اختیار کئے ہوئے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
۳۰،۱۱،۲۰۱۷

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


متعلقہ مضامین

اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram