ڈاکٹر امیر عبداللٰہیان:

دمشق دو مرتبہ ہاتھ سے جاتے جاتے رہ گیا/ سعودی، یہودی لابیوں کے خطرناک جال میں پھنس چکے ہیں

دمشق دو مرتبہ ہاتھ سے جاتے جاتے رہ گیا/ سعودی، یہودی لابیوں کے خطرناک جال میں پھنس چکے ہیں

بین الاقوامی امور میں اسپیکر مجلس کے خصوصی معاون: مجھ سے بڑے بھی بعض مراحل میں ناامید ہوگئے، اور دو مرتبہ شام کی صورت حال اس مرحلے تک پہنچی کہ دمشق کے ہاتھ سے چلے جانے تک ایک قدم رہ گیا ہے اور اگر دو عوامل نہ ہوتے تو معلوم نہ تھا کہ کیا پیش آتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ڈاکٹر امیر عبداللٰہیان اسلامی جمہوریہ ایران کے نامی گرامی سفارتکار، جنہیں شہید رکن آبادی کے بعد محاذ مزاحمت کے برجستہ سفارتکار کے طور پر جانا جاتا ہے اور اگرچہ کچھ عرصے سے وزارت خارجہ سے علیحدہ ہوچکے ہیں اور مجلس کے اسپیکر کی معاونت کر رہے ہیں، لیکن وہ مؤثر ہیں اور ان کی رائے ملک کی پالیسی سازیوں اور فیصلہ سازیوں میں مؤثر ہے۔

اس پروگرام میں جناب ڈاکٹر امیر عبداللٰہیان کی خدمت میں حاضر ہیں جو اس وقت بین الاقوامی امور میں اسلامی مشاورتی اسمبلی (مجلس شورائے اسلامی) کے معاون خصوصی ہیں۔

ڈاکٹر حسین امیر عبداللٰہیان صاحب کے ساتھ اس گفتگو کے اہم موضوعات حسب ذیل ہیں:

- واقعۂ منٰی کے مختلف پہلو ابھی تک تشنۂ توضیح ہیں

- سعودی یہودی ـ صہیونی لابیوں کے خطرناک کھیل میں پھنس چکے ہیں

- یہودی ریاست مسلم ممالک کی تقسیم در تقسیم کے درپے ہے

- یمن کی جنگ میں سعودی ـ اماراتی مفادات میں تصادم

- یمن میں علی عبداللہ صالح کی غداری اور موت کا حال

- یمنی اسلحہ برآمد کرنے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں

- علاقے کو تکفیری دہشت گردی کا خطرہ بدستور لاحق ہے

- دمشق دو بار ہاتھ سے جاتے جاتے رہ گیا

- بحران شام کے آغاز پر امام خامنہ ای کے ساتھ ایک نشست کا حال

- فلم "بوقت شام" کا ایک نقص

- ڈاکٹر ظریف کو علاقے کی صورت حال کے سلسلے میں جنرل سلیمانی کا خط

- دشمنوں کا کہنا ہے: تمہارا رہبر بے مثل ہے

- اگر امام خامنہ ای کا پرزور اور طاقتور پیغام نہ ہوتا تو شہدائے منٰی میں سے ایک کا جسد خاکی بھی نہ پلٹ آتا

- 33 روزہ جنگ میں سلیمانی ـ نصراللہ کی ملاقات کا حال

- ایران سے سعود الفیصل کی ایٹمی درخواست

- امریکہ سعودی عرب کو ہتھیار بیچتا ہے مگر متعلقہ ٹیکنالوجی نہیں دیتا

- یمن میں امریکہ کس طرح سعودیوں کی مدد کررہا ہے؟

- برطانوی وزير اعظم کے ساتھ شام کے مسائل کے سلسلے میں ایک نشست کی ان کہی باتیں

مکالمے کی تفصیل:

س: بات کا آغاز یہاں سے کرتے ہیں کہ امریکیوں نے یمن میں انصار اللہ کے مجاہدین کی میزائل قوت کے سلسلے میں ایک نفسیاتی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ میزائل انصار اللہ کو ایران نے بطور تحفہ دے دیئے ہیں تاکہ سعودی عرب کو نشانہ بنا دے۔ بعض اوقات وہ کچھ تصاویر بھی دکھاتے ہیں اور حال ہی میں نیتن یاہو در میونخ اجلاس میں ایک ڈرون کا ٹکڑا لہراتے ہوئے دعوی کیا کہ "یہ ایرانیوں کے لئے ہے" اس کے پس پردہ منظرنامہ کیا ہے؟

ج: حقیقت یہ ہے کہ یمن کے مسئلے میں، ہم انصاراللہ کی اخلاقی حمایت کرتے ہیں۔ ہم انصار اللہ کے ساتھ اس لئے رابطے میں ہیں کہ وہ یمنی عوام کے حقوق کے حصول اور امریکہ اور یہودی ریاست کی غلط پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں سیاسی جماعت اور ایک عوامی تحریک کے طور پر اہم کردار ادا کررہی ہے؛ ہم ان کی اخلاقی حمایت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ رابطے میں ہیں، یہ ایسی حقیقت ہے جس کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔

لیکن یہ جو دعوی کیا جارہا ہے کہ ہم ان کو میزائل دے رہے ہیں، تو میں یہاں ایک نکتہ بیان کرنا چاہوں گا اور وہ یہ کہ: جس وقت جناب اسماعیل ولد الشیخ کو یمن میں اقوام متحدہ کے ایلچی کے طور پر تعینات کیا گیا، میں نے تہران میں اور اس کے دو ہفتے بعد برسلز میں ان کے ساتھ ملاقات کی۔ اسی وقت سعودی دعوی کررہے تھے کہ ایران انصار اللہ کو ہتھیار فراہم کررہا ہے۔

ولد الشیخ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا: میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں اور بعد میں آپ اس کا جواب دیں۔ اور انھوں نے جو واقعہ سنایا وہ یوں تھا کہ "چند سال قبل میں اقوام متحدہ کے غذائی پروگرام کے نمائندے کے طور پر یمن میں تعینات تھا اور میں اس وقت اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ یمن میں ہر شہری کے مقابلے میں چار ہتھیار پائے جاتے ہیں" یعنی آبادی: 23833376  افراد، ہتھیاروں کی تعداد: 95333504۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم یمن کے زمینی حقائق کی رو سے ایک مثلث دیکھ رہے ہیں جس کا ایک بازو امریکہ، دوسرا بازو یہودی ریاست اور تیسرا بازو ـ جس نے اپنی دولت کو بھی اور اپنی عزت و آبرو کو بھی اس بساط پر ڈال دیا ہے ـ سعودی عرب ہے۔

میرا خیال ہے کہ سعودی عرب یہودی لابی کی منصوبہ بندی کے تحت شروع ہونے والے ایک خطرناک کھیل میں الجھا ہؤا ہے۔ میں سعودی حکام اور علاقے کے ممالک کے نمائندوں سے اپنی ملاقاتوں میں ـ جو آج تک جاری ہیں ـ اپنی تشویش ظاہر کرتا رہا ہوں کہ یہودی ریاست کا منصوبہ یہ ہے کہ علاقے کے ممالک کو تقسیم در تقسیم کردے اور اس یہودی منصوبے میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔

عرب دنیا کے مفکرین، صاحبان نقد و نظر اور سیاستدان ـ جو کہ عرب معاشروں کے منورالفکر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ـ کہتے ہیں کہ سعودی عرب اپنے غلط اندازوں کی وجہ سے ایسے جال میں پھنس چکا ہے جو اس ملک کے مستقبل کو خطرات سے دوچار کررہا ہے، اور یہ مغربی ایشیا اور عالم اسلام کے ایک ملک کے طور پر مستقبل میں مزید بحرانوں اور بالآخر تقسیم کے خطرے کا شکار ہوسکتا ہے۔

سوال: سعودی عرب طویل عرصے سے یمن میں الجھا ہؤا ہے، کیا وہ یمن کا مسئلہ ختم نہیں کرنا چاہتا یا پھر ایسا کرنے سے عاجز ہے؟

جواب: میرا تصور یہ ہے کہ سعودی عرب یمن میں ایک بہت بڑی دلدل میں دھنسا ہؤا ہے؛ یمن پر سعودی عرب کی ٹھونسی ہوئی جنگ کا تیسرا ہفتہ شروع ہوچکا تھا اور جناب عادل الجبیر کی وزارت خارجہ کے وزیر خارجہ بننے کا بھی تیسرا ہفتہ شروع ہوچکا تھا کہ میں نے اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے جدہ کے دورے پر تھا۔ وہاں میری ملاقات عادل الجبیر سے ہوئی تو میں نے ان سے یہی کہا کہ "تم غلطی کے مرتکب ہوچکے ہو، اور یمن کے بحران کا حل سیاسی ہی ہے"۔  الجبیر نے غصے کی حالت میں کہا: دیکھ لوگے کہ ہم تین مہینوں سے بھی کم عرصے میں انصار اللہ کو شمالی یمن میں نیست و نابود کریں گے و۔۔۔" میں کھسیانی سی ہنسی ہنسا اور مسکرا کر کہا: "میرا نہیں خیال۔۔۔" لیکن آپ کہتے ہیں تو آنے والے دنوں کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب میں بہت سے وہ لوگ جو بہ زعم خویش یمن پر حملے کے حوالے سے عقلیت کے راستے پر گامزن تھے، سوچ رہے تھے کہ سعودی زیادہ سے زيادہ تین مہینوں کے عرصے میں یمن میں قطعی طور پر کامیاب ہوجائے گا اور یمن کا بحران اسی انداز سے ختم ہوگا جس طرح کہ سعودی عرب کی آرزو ہے۔

سعودیوں کو امریکہ سے بہت توقعات تھیں۔ ایک بار میں نے علاقے کے ایک عسکری ماہر سے کہا: میں فوجی نہیں ہوں اور فوجی مسائل کا زیادہ ادراک نہیں رکھتا اور میرا جنگی تجربہ دفاع مقدس کے دور میں ایک رضاکار بسیجی کا تجربہ ہی ہے، یہ جو امریکی کہہ رہے ہیں کہ یمن کی جنگ میں سعودیوں کی مدد کررہے ہیں، اس کی حقیقت کیا ہے تو اس نے کہا: امریکی کہتے ہیں کہ ہم سیارچوں کے ذریعے یمن میں سعودی کاروائیوں کی نگرانی کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ بہت بڑی قیمت وصول کرکے اپنے پیشرفتہ ترین جنگی طیارے سعودیوں کو فراہم کرتے ہیں لیکن امریکہ کی یہودی ـ صہیونی لابیوں اور امریکی سلامتی کے اداروں کے درمیان مسلسل تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر سعودی عرب میں بھی اچانک مصر کی طرح کا انقلاب آجائے اور حالات تبدیل ہوجائیں تو یہ جنگی سازوسامان کسی طور پر بھی یہودی ریاست کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ چنانچہ امریکہ نے جدیدترین طیارے تو سعودیوں کو دے دیئے ہیں لیکن انہیں کئی مسائل کا سامنا ہے:

1۔ یہ طیارے جب صنعا پر بمباری کے لئے جاتے ہیں تو واپسی میں یمن کی فضائی حدود سے نکلنے سے پہلے ہی ان جدید طیاروں کا ایندھن ختم ہوجاتا ہے لہذا انہیں یمن سے نکلنے سے قبل ہی ایندھن وصول کرنا پڑتا ہے۔ ایندھن لینے کی کاروائی کے لئے ایک خاص قسم کا پٹرول چاہئے جو امریکیوں نے سعودیوں کو فراہم نہیں کیا ہے، اور بحر ہند میں اس قسم کے ایندھن کا حامل ایک جہاز تعینات ہے جس سے انتقال پذیر ایندھن بھرنے کی صورت میں ان طیاروں کو ایندھن فراہم کیا جاتا ہے لیکن جو طیارے یہ ایندھن اس جہاز سے اٹھا کر اس طیاروں کو منتقل کرتے ہیں، بھی سعودی عرب کو فراہم نہیں کئے گئے ہیں اور وہ روش نیز وسائل امریکی ایندھن رساں طیاروں کے پاس ہیں۔ پس ان طیاروں کا ایندھن اور اس کی منتقلی کا کام ہر لحاظ سے اور 100 فیصد امریکیوں نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔

2۔ یہ طیارے بہت جدید ہیں اور جب یہ مثلا صنعا میں کسی ہدف کو نشانہ چاہیں تو اس سے پہلے ایک ڈرون پرواز کرتا ہے، علاقے کو دیکھ لیتا ہے اور ریکی کرتا ہے، مختصات کو سعودی فضائی کمانڈ کے لئے بھیجتا ہے، کمانڈ اسے طیارے کے پائلٹ کے لئے بھیجتی ہے جس کے بعد وہ جاکر کسی اسکول، پانی کی کسی ٹینکی، کسی چھاؤنی یا کسی بازار کو نشانہ بنانے چلا جاتا ہے۔ یہ ڈرون بھی سعودیوں کے پاس نہیں ہیں؛ چنانچہ یہ جو امریکی کہہ رہے ہیں کہ اس جنگ میں لاجیسٹک اور معلومات کے حوالے سے سعودیوں کی مدد کررہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے جدید ترین ہتھیار سعودیوں کو فروخت کئے ہیں لیکن وہ ان ہتھیاروں کے استعمال کا اختیار نہیں رکھتے۔

سوال: پس امریکی کسی صورت میں سعودیوں پر اعتماد نہیں رکھتے، آپ جب نائب وزیر خارجہ کے طور پر سعودی عرب کے دورے پر گئے تھے، تو اس وقت کے وزیر خارجہ سعود الفیصل نے آپ سے کہا تھا کہ "ہم امریکیوں پر اعتماد نہیں رکھتے"، یہ کیونکر ممکن ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے پر اعتماد بھی نہیں رکھتے اور ساتھ ساتھ بھی رہتے ہیں۔

جواب: عرب ممالک میں میرا تجربہ بتاتا ہے کہ یہاں کے حکام جب ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہیں، ان کا موقف کچھ ہوتا ہے، جب بین الاقوامی فورموں میں بات کرتے ہیں، ان کا موقف کچھ اور ہوتا ہے اور جب آپ سے سفارتی اور رسمی بات کرتے ہیں تو ان کا موقف بالکل مختلف ہوتا ہے۔ جناب سعود الفیصل نے وہ موقف علاقے کی صورت حال کے زیر اثر اپنایا تھا۔

امریکیوں نے حسنی مبارک کا ساتھ کیوں چھوڑا؟ جب انھوں نے دیکھا کہ انہیں مزید برسراقتدار نہیں رکھ سکتے؛ میں صرف ایک مثال لاتا ہوں تاکہ آپ دیکھ لیں کہ سیاسی میدان میں انجام پانے والے کسی کام میں اس رویے کا اثر کتنا زیادہ ہے؟ مجھے یاد ہے کہ جب شام کے بحران میں شامی افواج اور ہمارے عسکری مشیر اور حزب اللہ مل کر کسی ایسے علاقے میں داخل ہوتے تھے ان لوگوں کو چھڑانے کے لئے جنہیں مسلح دہشت گردوں نے یرغمال بنایا ہوتا تھا، اور جب جبہۃ النصرہ سے لے کر داعش تک کے دہشت گرد گھیرے میں آجاتے تھے، تو تکفیری دہشت گردی کا پیکر تشکیل دینے والے یہ دہشت گرد پیغام دے دیتے تھے کہ ہم بھاری ہتھیار تحویل میں دے کر اس علاقے سے نکلنے کے لئے تیار ہیں آپ بس ہمیں ماریں نہیں۔

میں اعتماد کے مسئلے کی طرف اشارہ کررہا ہوں؛ جب یہ تکفیری جو براہ راست یہودی ریاست کے ساتھ کام کرتے تھے اور ان سے تنخواہیں لیتے تھے، کہتے تھے کہ کیا ضمانت ہے کہ ہم یہاں سے نکلیں اور شامی افواج ہمیں پیچھے سے نشانہ نہ بنائیں؟ پہلی مرتبہ جب یہ کام انجام پا رہا تھا ہم نے اقوام متحدہ کے ذریعے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیسی ضمانت درکار ہے؟ تو کہنے لگے:

اگر ایرانی عسکری مشیران یا حزب اللہ ضمانت دیں کہ شامی افواج ہمیں نہیں نشانہ نہیں بنائے گی تو ہم علاقہ تحویل دینے کے لئے تیار ہیں۔

دیکھئے یہ وہی لوگ ہیں جو حزب اللہ کے مجاہدین اور ہمارے مدافعین حرم کا سر قلم کرنے والی تنظیمیں ہیں لیکن ان کے ساتھ ہمارا برتاؤ یہ تھا اور ان کا ہم پر اعتماد تھا کہ "یہ لوگ مرد ہیں، جوانمرد ہیں، مسلمان ہیں اور ان کے قول پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے"۔ یہی لوگ جو ہمارے ساتھ بیٹھ کر کہتے ہیں کہ "ہمیں امریکیوں پر بھروسہ نہیں ہے"۔ تاہم یہ لوگ آشکارا بیان بھی کرتے ہیں کہ ہم آپ کی طرح امریکیوں کو "نہ" نہیں کہہ سکتے۔

کہتے ہیں: آپ نے امریکہ کو "نہ" کہا اور انقلاب بپا کیا اور پوری قوت کے ساتھ ڈٹ گئے لیکن سعودی عرب میں ہمارا نظا کچھ اس طرح سے ہے کہ ہم انہیں "نہ" نہیں کہہ سکتے، اور ساتھ افسوس کا اظہار بھی کرتے ہیں؛ لیکن درحقیقت امریکیوں پر اعتماد بھی نہیں  کرتے کیونکہ انہیں مسلسل یہ احساس رہتا ہے کہ جو کچھ عرب دنیا کے راہنماؤں کے ساتھ ہؤا اور وہ زوال پذیر ہوئے اور ان کے ملکوں میں تبدیلیاں آئیں، یہی کچھ سعودی عرب میں ہمارے ساتھ کسی بھی لمحے دہرایا جاسکتا ہے۔

یہ واقعہ کیونکر پیش آیا کہ علی عبداللہ صالح یمن میں کسی وقت انصار اللہ کے ساتھ متحد ہوئے، اور بعد میں غداری پر اتر آئے اور آخرکار ان حالات سے دوچار ہوئے۔

یمن میں علی عبداللہ صالح ایک سیاستدان کھلاڑی تھا اور حکمرانی کو خوب سیکھ چکے تھے۔ یمن میں علی عبداللہ صالح سے یہ جملہ نقل کیا جاتا ہے کہ: یمن میں حکمرانی ایک سات سروں والے سانپ کے سر پر چلنے کے مترادف ہے اور آپ کو ہر لمحے خیال رکھنا پڑتا تھا کہ سانپ کے کسی ایک سر کی گزیدگی آپ کو اوپر سے نیچے نہ پھینک دے۔

سعودیوں کا خیال تھا کہ علی عبداللہ صالح کو پیسہ دے کر یمن کو سعودی عرب کے پچھواڑے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہاں کے لوگ سعودی عرب سے اس قدر نفرت کیوں کرنے لگے؟ اور کیا ہؤا کہ علی عبداللہ صالح ـ جنہوں نے اربوں ڈالر سعودی عرب سے لے لئے اور عوام کے لئے خرچ کرنے کی بجائے بیرونی بینکوں میں رکھ لئے ـ اچانک فیصلہ کرتے ہیں کہ سعودی عرب سے علیحدگی اختیار کرکے انصار اللہ کے حلیف کے طور پر کردار ادا کریں؟

صالح نے دیکھا کہ انصار اللہ نامی ایک طاقتور سیاسی اور معاشرتی قوت یمن میں موجود ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ انصار اللہ پورے یمن پر تسلط رکھتی ہے یا پورے یمن کو اپنے لئے چاہتی ہے؛ نہیں ایسا نہیں ہے۔ کہنا چاہتا ہوں کہ انصاراللہ کی جڑیں یمنی معاشرے میں بہت گہری ہیں اور ایک حقیقی یمنی قوت ہے اور آج سعودی جارحیت کے آگے کامیاب مزاحمت کے نتیجے میں ایک مرکزی قوت میں بدل گئی ہے جس کے یمن میں بہت سارے متحدین اور حلفاء ہیں؛ یمن کی کمیونسٹ پارٹی سے لے کر مختلف دینی اور قومی جماعتیں انصار اللہ کے ساتھ ہیں اور انصار اللہ ایک اہم طاقت بن چکی ہے۔

علی عبداللہ صالح کے لئے ان کے ساتھ کام کرنا، اہم تھا۔ کل تک سوچ رہے تھے کہ اصل قوت سعودی عرب ہے لیکن کل سمجھ چکے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ طاقت یہاں انصاراللہ اور اس کی حلیف جماعتوں کے پاس ہے۔ دوسری طرف سے سعودی عرب کے برتاؤ سے بھی نالاں تھے چنانچہ انھوں نے سوچ لیا کہ انہیں عمر کے اس آخری حصے میں انصار اللہ کی طرف مائل ہونا چاہئے، اسی میں بہتری ہے۔

لیکن کچھ عرصہ گذرجانے کے بعد انہیں بڑی رقوم کی پیشکش ہوئی اور وعدہ دیا گیا کہ ان کے بیٹے کو یمن کا صدر بنایا جائے گا، اور وہ خود یمن کے مستقبل میں اہم اور مرکزی رہنما کے طور پر کردار ادا کرسکیں گے۔ سعودیوں نے کہا: ہم نے کئی مرتبہ بڑی کاروائیاں کرکے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرنے اور انصار اللہ کو نکال باہر کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے، آپ (علی عبداللہ صالح) اندر سے کاروائی کریں، صنعا کے نظام کو درہم برہم کریں، خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کریں تاکہ دارالحکومت انصار اللہ کے ہاتھ سے نکل جائے اور بعد میں ہماری افواج داخل ہوجائیں!

علی عبداللہ صالح نے دھوکہ کھایا۔ وہ خود زیدی شیعہ تھے اور ایک زمانے میں تاکتیکی حکمت عملی کے تحت انصاراللہ کے قریب گئے اور انصاراللہ کا طے شدہ پروگرام بھی یہی ہے کہ یمن کی تمام جماعتوں کے ساتھ کام کرے۔ یعنی اگر اسی وقت عبدربہ منصور کی مستعفی حکومت کہہ دے کہ ہم انصار اللہ کے ساتھ ملکی آئین اور سیاسی مفاہمت کے دائرے میں کام کرنا چاہتے ہیں تو انصاراللہ "نہ" نہیں کہے گی اور کہے گی کہ آجائیں بیٹھتے ہیں، مذاکرہ کرتے ہیں ۔۔ یہ انصار اللہ کی وسیع النظری ہے۔ کیونکہ اسے یقین ہے کہ یمن یمنیوں کے لئے ہے۔

سوال: ان دنوں یمن میں سعودی عرب اور امارات کے درمیان اختلافات عروج پر ہیں، آپ اس کی وضاحت کریں گے؟

جواب: علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر یہ تصور درست نہیں ہے کہ کسی خاص پالیسی کے نفاذ کے لئے لئے حلیف قوتوں کا اتحاد حقیقی اور دائمی ہے، جو کھلاڑی محاذ مزاحمت کے رکن کسی بھی ملک کو نشانہ بناتے ہیں ان کے درمیان اتحاد یکسان نہیں ہوتا۔ امریکہ نے عراق پر قبضہ کیا تو کاروائی امریکہ اور برطانیہ نے مل کر کی تھی، لیکن 2003 سے لے کر 2011 میں ان کی فوجوں کے انخلا تک ان کے درمیان تنازعات چل رہے تھے اور عراق میں ایک دوسرے کو بہلانے پھسلانے میں مصروف تھے۔

اس سلسلے میں مثالیں بہت زیادہ ہیں۔ مولانا روم کہتے ہیں ہر کسی از ظن خود شد یار من [از درون من نجست اسرار من = ہرکوئی اپنے خیال سے میرا یار بن گیا، کسی نے بھی میرے اندر کے رازوں کو نہیں جاننا چاہا] امارات اپنے ذہنی تصور کے ساتھ اس معرکے میں کود پڑا اور سعودی عرب کا ذہنی تصور کچھ اور تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ امارات اور سعودی عرب کے سوا کوئی اور فریق اس جنگ میں شریک نہیں ہؤا۔ یہ جو "یمن میں دہشت گردی کے خلاف سعودی اتحاد" کا عنوان دہرایا جاتا ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف کچھ بھی نہیں کیا اور ہم نے کہیں بھی نہیں دیکھا کہ سعودی عرب اور امارات نے دہشت گردوں کے خلاف کوئی اقدام کیا ہو۔

انھوں نے ایک جگہ ایک علامتی کاروائی کا اہتمام کیا لیکن کئی گھنٹے یا کئی دن قبل انھوں نے دہشت گردوں کو اطلاع دی تھی کہ ہم یہاں کاروائی کررہے ہیں تمہارے لئے فلاں جگہ تیار کی گئی ہے، وہیں چلے جاؤ تاکہ محفوظ رہو۔ یوں دہشت گرد اس ٹھکانے سے بحفاظت نکل گئے اور ان کی کاروائی میں حتی ایک بھی دہشت گرد ہلاک نہیں ہؤا۔ یہ ایک ظاہر سازی اور نمائش تھی اور بعد میں اعلان کیا کہ "ہم نے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کاروائی انجام دی ہے۔

امارات امریکہ، برطانیہ اور دوسرے بڑے بازيگروں کے ساتھ کام کررہا ہے جن کا مشترکہ مقصد باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنا، آزاد پانیوں کو زیر تسلط لانا، اور عدن بندرگاہ پر قبضہ کرنا ہے جہاں ان کے مشترکہ مقاصد ہیں۔ جبکہ سعودیوں کے لئے ماضی کی طرح پورے یمن پر تسلط جمانا بدستور بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ یمن کے موجودہ حالات یہ ہیں کہ سعودی ـ اماراتی حملہ تین سالوں سے جاری ہے جبکہ عادل الجبیر نے ہم سے کہا تھا کہ تین مہینوں میں یمن کا بحران ختم ہوجائے گا!

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم ایک نشست میں شرکت کے لئے کویت کے دورے پر تھے جب سعودیوں نے ایک کویتی اہلکار کو پیغام دیا کہ "انصار اللہ نے پیغام دیا ہے کہ اگر تم اپنی کاروائی بند نہیں کروگے تو ہم سعودی عرب کو نشانہ بنائیں گے"۔ اس کویتی اہلکار نے مجھ سے کہا: کہ سعودی حکام نے مجھ سے کہا ہے کہ آپ سے کہہ دوں کہ انصاراللہ کے ایران کے ساتھ رابطے ہیں اور اگر انصار اللہ کی طرف سے کلاشینکوف کی ایک گولی بھی سعودی سرحدوں کی طرف چلے گی تو ہم کیا کیا کچھ کرسکے ہیں اور کیا کچھ کریں گے۔۔۔۔ اس سعودی نے ہمیں بہت تند و تیز پیغام دیا تھا۔

آج تین سال کا عرصہ گذرچکا ہے چوتھا سال شروع ہورہا ہے اور انصار اللہ ریاض کو میزائلوں کا نشانہ بنا رہی ہے اور سعودی کچھ بھی کرنے سے عاجز ہیں۔ ان کا جھگڑا اب اس مرحلے پر پہنچا ہے کہ [یمن پر قبضہ کرنے میں ناکامی کے باوجود تقسیم غنائم کے مسئلے پر جھگڑ رہے ہیں اور] سعودی عرب پورے یمن کا قبضہ چاہتا ہے جبکہ امارات بھی اپنے حصے سے چشم پوشی کے لئے تیار نہیں ہے۔ امارات کے 170 سے لے کر 180 تک افسر اور جوان یمن میں مارے گئے ہیں۔

سعودی استبداد پر یقین رکھتے ہیں اور مطلق العنان ہیں۔ میں نے کئی بار سعودیوں کے ساتھ بات چیت کی ہے تاکہ وزرائے خارجہ کے مذاکرات کے لئے ماحول فراہم کرسکوں۔ سعودی ابتداء میں مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور خوبصورت باتیں کرتے ہیں لیکن جب مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں تو کچھ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے بلکہ صرف لینے کی فکر میں ہوتے ہیں۔

جناب سعود الفیصل کے ساتھ ـ ان کے فوت ہوجانے سے قبل ـ میری آخری بات چیت میں، انھوں نے بڑے دوستانہ انداز سے کہا: آپ جوہری مسئلے پر امریکہ اور یورپ کے ساتھ مذاکرات کیوں کرتے ہیں؟ میں نے کہا: تو پھر کس کے ساتھ مذاکرات کریں؟ کہنے لگے: ہمارے ساتھ مذاکرات کریں۔ ہم اس علاقے میں ہیں اور آپ کو ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہئے۔ میں نے کہا: آپ کے ساتھ کس موضوع پر بات چیت کریں، جوہری مسئلے پر؟ تو وہ لاجواب ہوگئے۔۔۔ بہرحال یہ سعودی عرب میں حکام کی ذہنیت ہے۔

سوال: کیا اب یمنی خود میزائل بنا رہے ہیں؟

جواب: میں کچھ عرصہ قبل کسی جگہ یمنی وفد سے ملا تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ جو کام سعودیوں نے کیا، اگر انہیں علم ہوتا کہ یہ سب ان کے نقصان پر منتج ہوگا تو ایسا ہرگز نہ کرتے۔

سعودیوں نے حال ہی میں لبنان کے ساتھ جو سلوک کیا تاکہ لبنان کو غیر مستحکم کریں اور لبنان کو بےحکومت کردیں، یہی کچھ انھوں نے یمن کے ساتھ بھی کیا اور کہا کہ ہم یمن کو ایک بغیر حکومت کے ملک میں تبدیل کرتے ہیں جس کے بعد انصار اللہ اور اس کے حلیفوں کے پاس ہتھیار ڈالنے کے بغیر کوئی چارہ نہ رہے گا۔ ان کا خیال تھا کہ جب حکومت نہیں رہے گی تو یمن سعودیوں سے مدد مانگیں گے۔ یمنی وفد کا سربراہ کہہ رہا تھا کہ یمن میں ہر یمنی کے لئے چار اسلحے موجود ہیں۔ بھاری، نیم بھاری اور ہلکا اسلحہ بہ وفور پایا جاتا ہے۔ کہہ رہے تھے کہ جب انھوں نے یمن کو حکومت سے محروم کردیا تو اگر مسلح افواج کی میزائل یونٹ کے 12 افراد کا تعلق فلان قبیلے سے تھا تو انھوں نے اپنے زیر کمان میزائلوں کو اپنے قبیلے میں محفوظ کرلیا۔ اور فلاں قبیلے کے افراد نے بھی یہی کچھ کیا اور یوں ہماری میزائل قوت کا بڑا حصہ محفوظ رہا اور جب ان یمنیوں نے سعودیوں اور امریکیوں کے مظالم اور جرائم کو دیکھا تو خاموش نہ رہ سکے۔ آج ہماری پوزیشن یہ ہے کہ ہم بہت سے ملکوں کو ہتھیار برآمد کرسکتے ہیں کیونکہ یمن کے پاس پہلے سے بڑی مقدار میں میزائل اور مختلف قسم کے ہتھیار دستیاب ہیں۔

یمنی پہلے ایک دو برسوں کے دوران سعودیوں کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے لیکن دیکھ رہے تھے کہ جب سمجھوتے کا مرحلہ آن پہنچتا ہے تو سعودی مذاکرات کو درہم برہم کرتے ہیں۔ لہذا ان کے لئے ثابت ہؤا کہ مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اور اپنے دستیاب ہتھیاروں اور وسائل کو بروئے کار لاکر مزاحمت کے میدان میں اترے۔ حالیہ چند مہینوں میں ہم یمن کی طرف سے نئے اقدامات کا مشاہدہ کررہے ہیں کیونکہ انھوں نے بعض میزائلوں کو جدیدتر کردیا۔ یمنیوں کے پاس ایسے زبردست قسم کے ماہرین کی تعداد کم نہیں ہے جو دشمن کو عاجز کرسکتے ہیں۔ انھوں نے نئے ہتھیار تیار کئے ہیں اور کررہے ہیں کیونکہ دفاع کرنے کے سوا ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے اور عالمی برادری سے بھی ناامید ہوچکے ہیں۔

سوال: کہا جاتا ہے کہ جناب پیوٹن نے کئی بار یمن میں ایران کی مدد اور دو طرفہ تعاون کے لئے تیار ہیں، لیکن ایران نے کوئی قابل عمل خاکہ پیش نہیں کیا ہے، کیا یہ درست ہے؟

جواب: نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں نے شام کے سلسلے میں اپنے روسی ہم منصب جناب باگدانوف کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ وہ روس کے نائب وزير خارجہ ہیں۔ شام اور علاقے کے مسائل پر ہمارے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ روسیوں نے شام کے مسئلے میں ہمارے ساتھ بہت اعلی سطحی عسکری اور سیاسی تعاون کیا۔ میرے خیال میں یہ ماسکو اور تہران کے درمیان تعاون کا نہایت مستحسن اور کامیاب تجربہ تھا۔

لیکن ابتداء ہی سے روسیوں نے ہمارے ساتھ دو موضوعات پر بات چیت کی، ہماری باتوں کو سنا اور تجاویز پیش کیں۔ لیکن اس مسئلے میں سنجیدگی سے میدان میں نہیں آئے۔

ان موضوعات میں سے ایک موضوع بحرین کا تھا اور دوسرا یمن کا تھا۔ البتہ ان کی عدم سنجیدگی کے اپنے اسباب بھی ہیں۔

محمد بن سلمان جس وقت نائب ولیعہد تھے اور باپ کے بادشاہ ہونے کے ناطے وسیع اختیارات کے مالک تھے، ایک دفعہ ایک بڑے معاشی اور تجارتی وفد کے ساتھ ماسکو چلے گئے اور روسیوں کو وعدہ دی کہ وہ روس میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔ روسیوں کے خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعلقات ہیں۔ بہرحال ہم ایک روس کی بات کررہے ہیں جنہیں امریکیوں کی اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔

سوال: کیا شام میں داعش کا مسئلہ ختم ہوچکا ہے؟ جبکہ اس ملک میں ابھی تناؤ کی صورت حال ہے، تنازعات اور جھڑپیں بھی ہیں اور دوسرے دہشت گرد ٹولے بھی ہیں!

جواب: میں داعش کے بارے میں جو الفاظ ادا کرتا ہوں وہ یہ ہیں کہ "داعش کی ہڈیاں شام اور عراق میں ٹوٹ گئیں"۔ لیکن اگر زيادہ وضاحت کرنا چاہوں تو کہنا پڑے گا کہ جس خلافت کا دعوا داعش رکھتی تھی شام اور عراق میں، وہ مکمل طور پر ختم ہوگئی لیکن داعش کا خطرہ ختم نہیں ہؤا اور یہ کہنا درست نہیں ہے کہ تکفیری عناصر نے اپنی سرگرمیاں بند کردی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ داعش سمیت تکفیری دہشت گردی بدستور علاقے کے امن کے لئے خطرہ ہے شام اور عراق میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی۔

وسیع سطح پر داعش اور جبہہ النصرہ امریکہ اور اسرائیل کے پتوں کے طور پر ابھی تک ان کے ہاتھ میں ہیں اور وہ انہیں اپنے اوزاروں کے طور پر محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ جن عوامل نے ان ٹولوں کی امیدیں خاک میں ملائی ہیں وہ ان دو ممالک کی مسلح افواج بھی ہیں اور دینی علماء اور مراجع کا کردار بھی ہے، ہمارے عسکری ماہرین اور مدافع حرم شہیدوں کا کردار بھی عراق، شام اور لبنان کی مسلح افواج کا ساتھ دے کر بہت اہم اور بنیادی کردار ادا کرچکے ہیں۔

سوال: شام میں بیرونی شرانگیزیوں کے عروج کے دوران آپ نائب وزیر خارجہ تھے، کیا کبھی ایسا بھی ہؤا کہ آپ ناامید ہوگئے ہوں؟

جواب: مجھ سے کئی بڑے بھی بعض مواقع پر ناامید نظر آئے۔ دو مراحل میں شام کے حالات یہاں تک خراب ہوئے کہ دمشق کے ہاتھ سے چلے جانے کا خطرہ چند قدموں کے فاصلے پر آ پہنچا، اور اگر اس زمانے میں دو عوامل نہ ہوتے تو معلوم نہ تھا کہ کیا کچھ سامنے آنے والا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ ان ہی ایام میں ہماری اعلی قومی سلامتی کونسل کے اراکین رہبر معظم کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ ایک نشست کا حال ہے۔ جب بھی عالم اسلام یا ملک کی سلامتی یا علاقے کی سلامتی کے حوالے سے کوئی بات ہوتی ہے تو فطری طور پر قومی سلامتی کونسل کی ایک نشست رہبر معظم امام خامنہ ای کے ساتھ منعقد ہوتی ہے۔ ان ہی نشستوں میں سے ایک نشست جس میں اس وقت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی بھی شریک تھے، جو آج کل ایٹمی توانائی کے سربراہ ہیں۔ ڈاکٹر صالحی کہتے ہیں کہ اس نشست میں کچھ افراد نے وہاں کچھ باتیں بیان کیں جن میں فوجی حکام بھی شامل تھے، سیاسی حکام بھی تھے اور کچھ تو بہت زيادہ فکرمند تھے۔ یہاں تک کہ بعض پوچھ رہے تھے کہ "ہمیں کب تک اور کہاں تک شام کا دفاع کرنا چاہئے؟"۔

امام خامنہ ای نے اس نشست میں اپنے دلائل بیان کئے، کچھ بہت مستحکم انتباہات دیئے۔ انھوں نے فرمایا تھا کہ "یہ جو واقعات پیش آرہے ہیں یہ آپ کے موقف کی بنیاد پر پیش آرہے ہیں۔ اگر آپ وہاں استقامت نہ دکھائیں، تو کل کلاں آپ کو ایران کے اندر مقابلہ کرنا پڑے گا۔ تمام ادارے منصوبہ بندی اور سنجیدگی کے ساتھ ‏عزم و ہمت سے آگے بڑھیں [اسرائیلی ـ امریکی] دشمن کی سازش کامیاب نہ ہونے دیں۔

میں یہاں یہ نکتہ بیان کرنا چاہوں گا کہ ایک مرحلہ ایسا بھی تھا کہ دمشق دہشت گردوں کے رحم و کرم پر تھا، عین ممکن تھا کہ دمشق ہاتھ سے نکل جائے، ہماری کچھ فورسز شامی افواج اور حزب اللہ کے دستوں کے ساتھ مل کر دمشق کی سڑکوں اور گلی محلوں میں روٹی اور پنیر بانٹنے پر مجبور تھے تا کہ قریبی محصور گھرانے بھوکوں مرنے سے نجات پائیں۔ جن محلات میں جھڑپیں تھیں وہاں راتوں کو کھانا پہنچانا پڑتا تھا تا کہ گھروں کے اندر بچوں اور خواتین کی جان بچائی جا سکے۔

کچھ لوگ آج تک پوچھ رہے ہیں کہ "تم بشار اسد کی حمایت کیوں کررہے ہو؟، برطانیہ ـ ایران سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ (Philip Anthony Hammond) نے ایران کا دورہ کیا تو ڈاکٹر ظریف اور ہیمنڈ کے درمیان طے شدہ پروگرام کے مطابق مجھے علاقائی امور میں نائب وزیر خارجہ کے طور پر برطانیہ کے دورے پر جانا پڑا۔ اس دورے میں مجھ سے سب سے پہلے پوچھے گئے سوالات میں سے ایک سوال یہی تھا کہ "آپ مجرم صدر بشار اسد کی حمایت کیوں کرتے ہیں؟ وہ جمہوریت کو ملحوظ نہيں رکھتے اور 9 سال سے شام میں صدارت کے عہدے پر فائز ہیں"۔

میں نے کہا: میں کسی وقت بحرین میں اسلامی جمہوریہ ایران کا سفیر تھا۔ بحرین 1971 میں ایران سے علیحدہ ہوگیا اور اسی سال وہاں ایک شخص کو وزارت عظمی کا عہدہ دیا گیا اور یہ شخص آج 44 سال بعد بھی بحرین کے وزیر اعظم ہیں۔  [2018 میں البتہ خلیفہ بن سلمان کی وزارت عظمی 48 سالہ ہوچکی ہے] اور 300 سے زیادہ بحرینی باشندے بحرین کی سڑکوں پر تڑپ تڑپ کے شہید ہوچکے ہیں۔ بحرینیوں کا کم از مطالبہ ایک فرد ایک ووٹ ہے، وہ کہتے ہیں کہ 44 سال سے مسلط وزیر ا‏عظم کو برطرف کیا جائے۔ آپ بحرین میں 44 سال تک ایک شخص کی وزارت عظمی کو تو برداشت کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ بحرین کی حکومت اچھی ہے، جمہوری اصولوں سے ہمآہنگ ہے، سعودی عرب میں بادشاہ مرتے دم تک بادشاہ رہتا ہے اور کے لئے کوئی حد نہیں ہے لیکن شام میں 9 سال سے صدارت پر فائز ہونے کی وجہ سے ایک صدر کو مجرم ٹہرا رہے ہیں، ایسا کیوں ہے؟

برطانوی وزرائے خارجہ اور دیگر برطانویوں کے مذاکرات کا اسلوب ان کے لئے ہی مختص ہے۔ جب وہ لاجواب ہوجاتے ہیں تو فوری طور پر کہہ دیتے ہیں کہ "ہمیں انسانی حقوق کا خیال رکھنا پڑتا ہے؛ اچھا تو آپ اجازت دیں تو موضوع کو بدل دیتے ہیں!"۔ جب ان کے پاس جواب نہیں ہوتا تو اس روش سے بھاگ جاتے ہیں۔

سوال: آپ نے ابراہیم حاتمی کی فلم "بہ وقت شام" تو دیکھی ہوگی۔

جواب: جی ہاں!

سوال: آپ اس سے لطف اندوز ہوئے؟

جواب: میرے لئے دلچسپ تھی، کیونکہ میں شام کے مسائل کو قریب سے دیکھتا آیا تھا؛ اور پھر ہمارے عزیز ترین افراد شام میں جام شہادت نوش کرگئے۔ ایسے افراد جن میں سے ہر ایک، ایک ملک کا انتظام سنبھال سکتا تھا اور انتظامی صلاحیت، اخلاص اور قوت و مہارت اور تعلیمی سطح کے اعتبار سے مثالی حیثیت رکھتے تھے۔

اس فلم میں بہت سی اچھائیاں ہیں اور اس کی بہت زيادہ تعریف بھی ہوئی ہے لیکن اس فلم میں ایک بہت بڑی خامی بھی ہے وہ یہ کہ دیکھنے والا امریکی خفیہ اداروں اور اسرائیلی موساد سمیت دوسرے بیرونی اداروں کے ساتھ ان شام میں ہونے والے مظالم اور جرائم کے تعلق کو نہیں سمجھ پاتا۔

جنرل سلیمانی کے ساتھ ایک دیدار کی روئیداد

میں وزارت خارجہ سے منسلک تھا اور ایک موقع پر میری جنرل سلیمانی سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مجھے کچھ دستاویزات دکھا دیں اور کہا: آپ مغربی حکام اور اقوام متحدہ کے سفارتکاروں سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں، یہ دستاویزات لے کر ان کے منہ پر دے ماریں اور بیان کریں۔ حتی کہ جنرل سلیمانی نے کہا کہ جناب ظریف سے بھی کہہ دیں کہ جوہری مسئلے کے سلسلے میں مذاکرات کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ علاقائی مسائل پر بات چیت نہ کریں لیکن اگر کہیں جواب دینا چاہیں تو ان دستاویزات میں سے کوئی ایک اٹھا کر ان کے سامنے رکھیں اور کہہ دیں کہ "یہ تمہارا کردار ہے"۔

جنرل صاحب کی دستاویزات بہت ہی دقیق تھیں، ان میں معلومات بالکل دقیق تھیں، جغرافیائی محل وقوع سے لے کر تاریخ، اور ثانیوں تک اوقات کا تذکرہ بھی تھا۔ مثال کے طور پر جب موصل داعش کے قبضے میں تھا۔ دکھایا گیا تھا کہ موصل کے ہوائی اڈے میں امریکی سی 130 طیارہ کھڑا ہے اور کئی امریکی سینئر جرنیل طیارے سے اترے ہوئے ہیں اور فوجی سازوسامان بھی اتارا گیا ہے۔ وی آئی پی لاؤنج میں موصل میں موجود داعش کے راہنما امریکی جرنیلوں کے ساتھ بیٹھے ہیں اور تین گھنٹے اور 23 منٹ تک مذاکرات کرتے ہیں اور بعدازاں طیارے میں بیٹھ کر واپس چلے جاتے ہیں۔

سوال: ان امریکی جرنیلوں نے داعش کو کیا چیز فراہم کی تھی؟

جواب: یہ وہ ہتھیار اور آلات اور اوزار تھے جنہیں دو طرفہ مفاہمت کی بنا پر امریکہ کی طرف سے داعش کو فراہم کیا جانا تھا. ایک دوسرے نقطے پر تین امریکی ہیلی کاپٹر اترے ہیں، اور مختلف قسم کے ہتھیار اور وسائل اتار دیئے ہیں اور داعش کے کمانڈروں نے یہ سب اپنی تحویل میں لیا ہے۔ ہم نے یہ ان مسائل کی مختلف روشوں سے پیروی کی اور امریکیوں نے بالواسطہ طور پر جواب دیا کہ عراق میں ہمارے سفیر سے پوچھیں ہمیں ان مسائل کا علم نہیں ہے!!!

حالیہ مہینوں میں داعش کو شکست ہوئی اور قریب تھا کہ ان کے قاتل سرغنے گرفتار ہوجاتے لیکن امریکیوں نے جاسوسی اور سیکورٹی کی مختلف النوع روشوں سے بھی اور اقوام متحدہ کے ذریعے بھی ـ اس بہانے کہ عوام الناس عراقی افواج کے گھیرے میں ہیں اور ان کی مدد کرنا ضروری ہے اور یہ کہ جنگ بندی برقرار کرنے کی ضرورت ہے ـ داعش کے اہم کمانڈروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ بعد میں معلوم ہؤا کہ ان میں سے کئی کمانڈروں کو امریکیوں نے افغانستان منتقل کیا ہے اور انہیں شمالی افغانستان اور کچھ دوسرے علاقوں میں تعینات کررہے ہیں۔ امریکی کچھ داعشیوں کو لیبیا منتقل کررہے ہیں اور کچھ کو جنوبی یمن میں۔

سوال: ڈاکٹر صاحب آپ کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟

جواب: سنہ 1964ع‍

سوال: شادی کی تاریخ؟

سنہ 1992ع‍میں۔

سوال: شادی کس طرح طے پائی؟

جواب: ہم جنوبی تہران میں رہتے تھے۔۔۔ ہمارے محلے کے لوگ بڑے پیارے ہیں۔۔۔ ہمارے محلے کی آبادی اتنی نہیں تھی لیکن اپنے حساب سے بہت سارے لوگ دفاع مقدس میں شریک ہوئے۔۔۔ جنگ ختم ہوئی تو ہمارے محلے میں ڈسپنسری نہیں تھی ہم نے بہت کوشش کی کہ ایک ڈسپنسری کی بنیاد رکھیں۔ ہم مسجد کے کے لڑکے اور بسیجی تھے جو میڈیکل اور پیرا میڈیکل کے شعبے میں فارغ التحصیل ہوگئے اور ہمیں یہ تجویز سوجھی کہ ان ہی کو اکٹھا کریں اور ایک خیراتی ڈسپنسری کی بنیاد رکھیں۔

سنہ 91-1990 میں یہ خیراتی ڈسپنسری معرض وجود میں آئی جو آج تک فعال ہے۔ اس ڈسپنسری کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس کے عام کارکنوں سے لے کر اسپیشلسٹ ڈاکٹر تک سب بسیجی ہیں اور دفاع مقدس کے مجاہدین ہیں مرد بھی خواتین بھی۔

اس ڈسپنسری کے ایک ڈاکٹر میرے ہم زلف ہیں جو میرے رشتے کا سبب بنے تھے۔ میری زندگی میری والدہ کے مرہون منت ہے۔ میں چھ یا سات سال کا تھا جب والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور میری تربیت میں میری والدہ کا کردار تھا۔ البتہ میرے بڑے بھائی ـ جو مرحوم ہوچکے ہیں ـ نے بھی میری زندگی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ شادی کے بعد گھر کے مسائل کا انتظام میری شریک حیات نے سنبھال لیا جو میری اور گھر کی سربراہ ہیں۔ (ہنستے ہوئے) اور وہ میری زندگی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔

س: آپ کو نائب وزير خارجہ کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟

جواب: میں نے بھی سنا اور سائبر اسپیس پر دیکھا کہ بعض مغربی لکھاریوں اور بعض تھنک ٹینکس نے میری برطرفی کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی تجویز سے جوڑنے کی کوشش کی، جس کے بارے میں وزیر خارجہ ہی بتا سکتے ہیں۔ لیکن میں ایک نکتہ یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ پوچھ لیں کہ جو چیز سیاست اور خارجہ پالیسی کے جوہر کو تشکیل دیتی ہے۔ خارجہ پالیسی، بین الاقوامی تعلقات اور بین الاقوامی سلامتی "طاقت" اہم کردار ادا کرتی ہے۔

میں نے یہ بات بہت سے ایسے بڑے سیاستدانوں اور سفارتکاروں سے سنی ہے جن میں کچھ تو اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمن ہیں کہ انقلاب اسلامی نے پورے علاقے اور دنیا پر بہت اہم نقوش مرتب کئے ہیں۔ رہبر معظم امام خامنہ ای کے انتباہات، توجہات اور ہدایت ہمارے لئے "طاقت" پیدا کرتی ہیں۔

میں نوجوان نسل سے مخاطب ہوکر کہنا چاہتا ہوں: اندرون ملک [اور امت کی سطح پر] امام خامنہ ای کی شخصیت اور مقام و منزلت کے بارے میں بہت ساری تعریفیں سامنے آتی ہیں، میں وہ تعریفیں بیان کرنا چاہتا ہوں جو میں ان کے دشمنوں سے سنتا رہا ہوں۔ وہ لوگ جو میرے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ "ہماری ان باتوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کو مانتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایران میں جو آپ کے رہبر ہیں وہ عالمی سطح پر بےمثل ہیں اور ان کی کوئی مثال نہیں ہے۔

جناب محمد حسنین ہیکل مصر کے بزرگ اخبار نویس اور مفکر تھے جو دو سال قبل انتقال کرگئے۔ میری ان سے مصر کے حالیہ واقعات کی بنا پر کئی مرتبہ ملاقات ہوئی اور آخری ملاقات میں انھوں نے مجھ سے درخواست کرتے ہوئے کہا:

"میرا سلام امام خامنہ ای کو پہنچائیں اور کہہ دیں کہ میری خواہش ہے کہ صرف پانچ منٹ تک آپ سے ملاقات کروں"۔

انھوں نے وضاحت کی کہ جب شام میں بحران کا آغاز ہؤا تو میں منتظر تھا کہ دنیا کے راہنما کیا موقف اپناتے ہیں۔

حسنین ہیکل نے کہا: آپ گمان نہ کریں کہ میں اسلامی جمہوریہ کا حامی ہوں اور اسی بنا پر میں یہ بات کررہا ہوں، لیکن جب آپ کے رہبر نے شام کے بارے میں اپنے موقف کا اظہار کیا اور میں ان کے کلام کی روشنی میں اس سازش کی گہرائی کو سمجھ گیا جو شام کے سلسلے میں تیار کی گئی تھی، تو مجھے حیرت ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ عالم عرب کے ایک راہنما جو میرے دوست ہیں اور جب بھی مصر کے دورے پر آتے ہیں میری ثقافتی سرگرمیوں کے لئے ڈالروں سے بھرا ایک بریف کیس بھی میرے لئے لاتے ہیں، (جناب ہیکل نے بغیر کسی تحفظ کے کہا کہ) "میرے یہ دوست شام کے مخالف تھے، اور شام کے مخالف سمت کے محاذ میں تھے؛ کیونکہ خود بھی شام میں حالات خراب کرنے میں ملوث تھے اور جب بھی آتے تھے میں ان سے پوچھتا تھا کہ آپ کے خیال میں شام کا مستقبل کیا ہوگا، اور وہ بھی کہہ دیتا تھا کہ بس ایک ہفتے میں بشار اسد کا تختہ الٹ دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا: میں آپ کی ملاقات سے پہلے میں اس عرب حکمران کی رہائشگاہ گیا تھا اور ان سے پوچھا: جناب امیر! شام کے حالات کے بارے میں کچھ بتائیں، تو کہنے لگے: بشار اسد مزید چھ مہینوں کے عرصے تک برسر اقتدار رہیں گے۔ تو میں نے کہا: اب آپ عرب دنیا اور علاقے کے مسائل کو بہتر سمجھنے لگے ہیں۔

جناب ہیکل نے یہ سب اس لئے کہا کہ مجھ سے کہہ دیں کہ "میری خواہش کہ مرنے سے پہلے قریب سے آپ کے بے مثل رہبر کا دیدار کروں"۔

سوال: آپ نے سب سے پہلے سید حسن نصر اللہ کو کب دیکھا؟

جواب: ایک نکتہ ہمارے لئے بہت اہم تھا اور وہ یہ کہ ہم علاقے کے مسائل کے بارے میں اپنے دوستوں کی آراء سے بھی آگاہ ہوجائیں اور جناب سید حسن نصر اللہ ہمارے دوستوں کے حلقے میں بہت خاص اور اعلی مقام و مرتبت کے مالک ہیں، اور بہت اعلی سیاسی ادراک کے مالک ہیں اور علاقے کے حالات اور واقعات پر نظر رکھتے ہیں، ان کا تجزیہ درست اور دقیق ہے اور ان مسائل میں ان کا نظریہ بہت ہی مستحسن ہے۔

ان سے میری پہلی ملاقات 2011 میں ہوئی اور اس کے بعد ہر چند مہینوں میں ایک بار ان سے ملاقات کرتا ہوں اور ہماری نشستیں تین سے چھ گھنٹوں تک جاری رہتی ہیں۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ جب آپ صبح تین بجے سید حسن نصراللہ سے بات چیت کررہے ہوتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا صبح چھ بج چکے ہیں، اور انھوں نے نماز فجر ادا کرنے کے بعد ناشتہ بھی تناول کرلیا ہے اور بالکل تروتازہ ہیں اور مذاکرات کے لئے کافی شافی توانائی رکھتے ہیں۔

سوال: ان ملاقاتوں سے کوئی یادگار واقعہ سنائیں گے؟

جواب: ایک مرتبہ طے پایا تھا کہ وزارت خارجہ میں ایک ملک کے حالات کے سلسلے میں موقف اپنائیں جو بہت اہم تھا۔ مختلف انضباطی مراحل طے پاچکے اور قومی سلامتی کونسل میں بھی زیر غور آیا۔ رہبر معظم نے بھی اور اس وقت کے صدر نے بھی اس موضوع پر غور کے لئے سید حسن نصراللہ کی رائے پوچھنے پر زور دیا۔۔۔ رہبر معظم علاقائی مسائل پر خاص نظر رکھتے ہیں؛ وہ بات جو جناب حسنین ہیکل نے کہی تھی ایرانی اور عربی سوچ کے بارے میں، وہی بات میں نے بحران کے آغاز پر امام خامنہ ای سے سن لی۔ کہ اگر سفارتکاری کے شعبے میں علاقے کے کسی خاص مسئلے پر موقف اپنانا چاہتے ہیں تو خیال رکھیں کہ عرب دنیا کے بارے میں صرف ایرانی سوچ کو بروئے کار نہ لائیں اور ایرانی سوچ سے ہی عرب دنیا کے بارے میں کوئی سیاسی فیصلہ نہ کیا کریں بلکہ علاقے میں اپنے دوستوں اور رفقائے کار کی رائے ضرور پوچھیں۔۔۔ چنانچہ ہمارے لئے یہودی ریاست اور لبنانی اور فلسطینی مزاحمت کے سلسلے میں سید حسن نصراللہ کی رائے بہت اہم تھی تاکہ اس سلسلے میں ہم اپنا موقف مرتب کرکے اخذ کریں۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ کسی موضوع پر ان سے مشورہ کررہا تھا؛ تو انھوں نے مجھ سے پوچھا: کیا آپ نے اس سلسلے میں امام خامنہ ای کی رائے پوچھی ہے یا نہیں؟ میں نے ان کے سوال کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے: 33 روزہ جنگ میں ہمارے لئے صورت حال بہت دشوار ہوچکی تھی، بحران عروج پر تھا، جنرل سلیمانی نے آکر مجھ سے ملاقات کی۔ جنرل سلیمانی نے اس ملاقات میں جنرل سلیمانی نے امام خامنہ ای کا پیغام پہنچایا جو دو کلیدی نکتوں پر مشتمل تھا:

پہلا نکتہ یہ تھا کہ: اللہ کا وعدہ حق ہے، استقامت کرو، آپ کی کامیابی حتمی ہے

دوسرا نکتہ یہ تھا کہ: نہ صرف یہ کہ آپ کامیاب ہیں، بلکہ اس جنگ کے بعد اللہ کی راہ میں استقامت اور اللہ پر توکل کی برکت سے، آپ علاقے کی بہت بڑی طاقت میں تبدیل ہوجائیں گے۔

سید کہہ رہے تھے: میرا اور امام خامنہ ای کا تعلق باپ اور بیٹے کا تعلق ہے اور میں اصولا اپنے آپ کو امام کا فرزند سمجھتا ہوں۔ شاید وہ کہہ رہے تھے کہ یہ انھوں نے جنرل سلیمانی سے کہا تھا کہ حالات بہت دشوار تھے اور گھمسان کی جنگ جاری ہے، اور آپ امام خامنہ ای سے کہہ دیں کہ ہمارے لئے دعا کریں کہ ہم اس الجھن سے نجات حاصل کریں۔

سید کا کہنا تھا: ہم سب شہادت کے لئے تیار ہوچکے تھے، لیکن ایک دو دن بعد اسرائیلیوں نے ہاتھ اٹھا لئے اور اپنے ایک آدمی کو ہماری طرف بھیجا اور کہا: ہم اس جنگ کو مزید جاری نہیں رکھ سکتے۔

سید حسن نے فرمایا: اس کے بعد میں کچھ اس طرح سے ایمان لایا جیسا کہ سورہ قصص میں آخرت پر انبیائے الہی کے ایمان کا تذکرہ آیا ہے۔

سوال: کیا آپ سعد حریری کی سعودی عرب میں گرفتاری اور لبنان واپسی کے بعد سید حسن نصراللہ کے ساتھ ان کی ملاقات کے بارے میں کوئی نکتہ بیان کریں گے؟

جواب: اس وقت میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ سید حسن نصراللہ لبنان میں مختلف سیاسی جماعتوں اور گروپوں کے سلسلے میں ضبط نفس کی پالیسی پر کاربند ہیں اور اعلی تجاذبی قوت سے لبنان کی طوفان زدہ سیاسی صورت حال اور امن و امان کی صورت حال کے انتظام میں مدد دیتے ہیں۔

یہی جناب سعد حریری جب سعودیوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ۔۔۔ میرے خیال میں کچھ بھی بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور حریری جب ٹی وی اسکرین پر استعفے کا اپنا بیان پڑھ کر سنا رہے تھے، ان کے چہرے کے حالات اور ان کے حلیے سے سب کچھ صاف ظاہر تھا ۔۔۔ اس طرف سے جناب سعد حریری کے ساتھ سید حسن نصراللہ کا رویہ بالکل واضح اور روشن تھا جس سے کسی قسم کے دباؤ کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ حالانکہ 33 روزہ جنگ تک یہودی ریاست کے مد مقابل عربوں کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ داعش کے بعد دور میں اس قدر بڑی طاقت ہے جو استکبار کے دو بازؤوں "یہودی ریاست اور تکفیری دہشت گردی" کا مقابلہ کرنے کا تجربہ رکھتی ہے اور دونوں معرکوں میں فاتح و کامیاب رہی ہے۔ حریری اس سے پہلے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کے لئے بیٹھے جو 10 محاذوں میں شکست کھا چکا ہے، اور اب ایک ایسے سید حسن کے ساتھ مذاکرات کرنے بیٹھے ہیں جو دو بڑے محاذوں میں فتح و نصرت کا تجربہ رکھتے ہیں، تو ایسی ملاقات سے یہی ایک نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جناب سید حسن نصر اللہ جناب سعد حریری کو لبنان کا فرزند سمجھتے ہیں۔

سوال: لبنان کی حالیہ صورت حال میں میں سعد حریری کی پھوپھی کا کیا کردار تھا؟

جواب: جناب مرحوم رفیق حریری کی ہمشیرہ اور جناب سعد حریری کی پھوپھی [محترمہ بہیئہ حریری] کو ہرگز یہ توقع نہیں تھی کہ سعودی عرب ان کے بھتیجے کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھے گا اور انھوں نے بھتیجے کو سعودیوں کے قیدخانے سے چھڑانے کے لئے بہت کوشش کی۔

 
سوال: کیا انھوں نے اس عرصے میں سید حسن نصراللہ سے کوئی رابطہ کیا؟

جواب: مجھے تفصیلات کا کوئی علم نہيں ہے۔

سوال: لبنان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق سفیر شہید مظفر رکن آبادی کو مکہ میں شہید کیا گیا، ان کی شہادت کے بارے میں مختلف باتیں ہو رہی ہیں اور مثال کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ ان کے جسم کے کچھ اعضاء غائب تھے، کیا یہ درست ہے؟

جواب: جس دن بیروت میں ہمارے سفارتخانے کے سامنے دہشت گردانہ کاروائی ہوئی اور ہمارے دو رفقائے کار شہید ہوئے اور کئی افراد زخمی ہوئے۔ میں اس وقت ماسکو میں تھا اور مذاکرات میں مصروف تھا اور رات کے وقت بیروت چلا گیا۔ میں نے موقع کو قریب سے دیکھا اور معلوم تھا کہ منصوبہ یہ تھا کہ بم اسی وقت پھٹ جائے جب ہمارے سفیر جناب رکن آبادی اور ہمارے ثقافتی قونصلر دروازے سے باہر آتے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا خودکش حملہ آور صرف سفارتخانے کی عمارت کو نشانہ بنانا چاہتے تھے اور ایران کو کوئی پیغام دینا چاہتے تھے یا پھر ان کا مقصد اس سے بڑھ کر تھا؟

جواب یہ ہے کہ بات وہ نہیں تھی جو سیکورٹی افسروں نے ابتداء میں بیان کی تھی۔ علاقے کے ماہرین اور بعض اعلی سرکاری حکام نے واضح کرکے کہا کہ سب کچھ ہمآہنگ ہوچکا تھا [سعودی سیکورٹی اہلکار ابو ماجد جس نے لبنان کے قیدخانے میں خودکشی کی، بیروت میں موجود تھا اور اسی کیس میں گرفتار کرلیا گیا تھا] اور منصوبہ کچھ یوں تھا کہ جس لمحے شہید رکن آبادی دروازے کے باہرے پہنچتے خودکش حملہ آور بھی اسی لمحے اسی نقطے تک پہنچ جاتا اور بارود بھری کار دھماکے سے پھٹ جاتی اور اگر یہ حملہ آور کامیاب نہ ہوتا تو صرف پچاس قدم پیچھے بارود سے بھری ایک کار کھڑی تھی جس کی ذمہ داری تھی کہ شہید کی گاڑی سے ٹکرا کر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دے۔ [دہشت گرد اور ان کے سعودی سہولت کار بہر حال اس حملے میں ناکام رہے]۔

لیکن منٰی کے واقعے میں جب شہید رکن آبادی کا جسد خاکی نہیں ملا تو تشویش اور اندیشوں میں اضافہ ہؤا اور مختلف قسم کے اندازے لگائے گئے۔ کہ مثلاً ممکن ہے کہ انہیں اغوا کیا گیا ہو، اور ممکن ہے کہ انہیں قتل کیا گیا ہو، ابھی تک منٰی کے واقعے کے بہت سے پہلو روشن نہیں ہوسکے ہیں۔ اس حادثے میں حجاج کے راستے میں درجنوں سی سی ٹی وی کے کیمرے لگے ہوئے تھے اور سعودی اہلکاروں نے ابھی تک ان کیمروں سے حاصل شدہ ایک تصویر بھی کسی "تلاش حقیقت کمیٹی Fact Finding Committee" کو نہیں دکھائی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا اس موضوع کی پیروی کی ہے اور اس کو بیان کیا ہے۔ حقیقت ہے کہ اگر امام خامنہ ای کا پرزور اور طاقتور پیغام نہ ہوتا تو سعودی حکمران شہدائے منٰی میں سے کسی ایک شہید کا جسد خاکی بھی ہماری تحویل میں نہ دیتے۔

 یہ کیس کسی وقت میرے پاس تھا اور شہید رکن آبادی میرے بھائی بھی ہیں، بے شک شہید رکن آبادی اور دیگر شہدائے منٰی کے بارے میں ابہامات بہت زیادہ ہیں، سعودی عرب کو ان ابہامات کا جواب دینا ہے، اور تلاش حقیقت کمیٹی پر لازم ہے کہ اس مسئلے کو حل کرے۔ لیکن یہ کہ شہید رکن آبادی کے بعض اعضاء جسمانی غائب تھے یا نہيں تھے، جب تک اس کام کی ذمہ داری میرے پاس تھی، ہم ایسے کسی نتیجے پر نہیں پہنچے تھے۔

سوال: جس وقت آپ نائب وزیر خارجہ تھے، آپ کی یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی سے ملاقات کی ہوئی تھی، اس ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں؟

جواب: میں نے آخری بار محترمہ موگرینی کو صدر کی تقریب حلف برداری میں دیکھا۔ شاید 10 سے 15 منٹ تک بات چیت بھی ہوئی، لیکن اس سے قبل ایٹمی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد، یورپیوں اور مغربیوں کی دلچسپی علاقائی امور میں بڑھ گئی اور وہ ایران کے تعمیری کردار کو دیکھ رہے تھے۔

مغرب میں جو ابلاغیاتی ماحول سازیاں ہوتی ہیں وہ کچھ اور ہیں اور سفارتی حقوق کچھ اور ہیں۔ سارے مغربی اور امریکی سمجھتے ہیں کہ داعش کے خلاف جنگ میں وہ اس نقطے تک پہنچے کہ داعش کئی سروں والے سانپ میں بدل گئی جو اپنے آقاؤں کو ڈسنے لگا تھا حالانکہ وہ اپنے تمام وسائل بروئے کار لاچکے تھے لیکن محفوظ نہیں ہوسکے تھے۔

کون سا ملک مردانہ وار کھڑا رہا؟ اسلامی جمہوریہ ایران شہادت تک استقامت کرگیا۔ ہم جو بھی کہیں اس سلسلے میں، وہ سیاہ دل، سنگدل اور مذبذب ہیں لیکن اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں۔ اسی بنا پر مغربی اور امریکیوں کا اشتیاق ہے کہ علاقائی مذاکرات کا آغاز ہوجائے اور علاقے کے بارے میں ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں۔

محترمہ موگرینی کے ساتھ بات چیت میں میرے لئے جو چیز دلچسپی کا سبب بنی یہ تھی کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو علاقے میں ایران کے تعمیری کردار کا صحیح ادراک رکھتے ہیں؛ برطانویوں اور بعض دوسروں کے برعکس، جو مسائل کو سمجھتے ہیں لیکن حقائق  کو الٹ پلٹ کر ظاہر کرتے ہیں۔ میں نے موگرینی میں اس صداقت کو قریب سے دیکھا کہ وہ کم از کم سفارتی مذاکرات میں حقائق کا اعتراف کرنے سے نہیں ہچکچاتیں۔

تاہم ہم نے کچھ مسائل پر اتفاق کرلیا لیکن وہ بہت محدود سطح پر کچھ اقدامات کرسکیں، لیکن جعلی اسرائیلی ریاست کے حوالے مغرب، یورپی اتحاد اور بنیادی قسم کے مباحث، کے ڈھانچے کے پیش نظر چلینجوں میں بھی فرق نظر آیا۔

سوال: صدر روحانی نے سعودی عرب کے دورے کو ایک شرط سے مشروط کرلیا تھا جو پوری نہیں ہوئی، وہ شرط کیا تھی؟

جواب: سعودیوں کے درمیان صدر روحانی کے ساتھ کام کرنے کے لئےکسی قسم کا ارادہ ہمیں نظر نہیں آیا۔ انھوں نے کچھ پیشگی شرطیں متعین کی تھی جن میں سے اہم شرط کا ایک سرا ایٹمی مذاکرات کی طرف پلٹتا تھا جنہیں سعودی برداشت نہيں کر پا رہے تھے اور مذاکرات سے باہر ہوتے ہوئے عجیب قسم کی بدگمانیاں ظاہر کررہے تھے۔ دوسری اہم شرط یہ تھی کہ وہ علاقے میں ہمارے تعمیری کردار کو خاموشی میں تبدیل کرنا چاہتے تھے اور چاہتے تھے کہ ہم کوئی کردار ادا نہ کریں۔

وہ چاہتے تھے کہ ہم ایک طرف جاکر بیٹھ جائیں اور دیکھتے رہیں کہ شام کا تختہ الٹ دیا جائے، ہم خاموش تماشائی بنیں کہ ہمارے عراقی متحدین کو دیوار سے لگایا جائے؛ اور ہم خاموشی سے لبنان کے حالات کو سعودی مرضی کے مطابق بدلتا ہؤا دیکھتے رہیں اور وہاں سعودی ماڈل جو چاہے کرے۔

چنانچہ وہ ماحول فراہم نہیں ہوسکا اور پھر سعودی عرب کے نئے حکام برسر اقتدار آئے اور انتہاپسند جنگجؤوں نے اقتدار سنبھالا اور حالات مزید پیچیدہ ہوگئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکالمہ: محمد حسین رنجبران

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔

110



اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram