مصری عدالت نے چرچ پرحملوں کے الزام میں 17 افراد کو سزائے موت سنادی

مصری عدالت نے چرچ پرحملوں کے الزام میں 17 افراد کو سزائے موت سنادی

مصر کی عدالت نے 2016 اور 2017 میں چرچ پر ہونے والے حملوں کے الزام میں 17 افراد کو سزائے موت سنادی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مصر کی عدالت نے 2016 اور 2017 میں چرچ پر ہونے والے حملوں کے الزام میں 17 افراد کو سزائے موت سنادی۔اطلاعات کے مطابق مصری عدالت نے دیگر 19 ملزمان کو عمر قید کی سزا جبکہ 10 کو 10 سے 15 سال قید کی سزا سنائی۔

مصر میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وکیل خالد المصری کا کہنا تھا کہ فوجی پراسیکیوٹر نے داعش سے تعلق رکھنے والے گرفتار ملزمان پر مسیحی عبادت خانے اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کا الزام لگایا تھا۔یاد رہے کہ مصر میں دسمبر اور اپریل میں ہونے والے خود کش دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

الیزینڈرا اور ٹانٹا کے 2 مسیحی عبادت خانوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں 45 عیسائي ہلاک ہوئے تھے جبکہ کچھ ماہ بعد قاھرہ کے ایک چرچ میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مصر کی فورسز کئی سالوں سے جنوبی سینائی کے علاقے میں داعش سے تعلق رکھنے والے مسلح دہشت گردوں سے جنگ میں مصروف ہیں۔

........

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram