ایران مخالف مصری نامہ نگار کا بیان

ایران مخالف مصری نامہ نگار کا بیان

ہم ہر سال عربوں سے خیانت کے عوض امریکا کی جانب سے بلا عوض مدد کے تناظر میں 4 ارب مدد لیتے ہیں اور ایرانیوں نے انقلاب کے آغاز سے ہی سیاسی اور اقتصادی دباؤ، پابندیوں، جنگ داخلی اور غیر مساوی جنگ کا تجربہ کیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فہوی حسین ایک مصری نامہ نگار ہیں، وہ عرب نیشنلسٹ کی جانب رجحان رکھتے ہیں، وہ مصر میں ایک ایران مخالف شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، اپنے ایک مقالے میں وہ ایران اور مصر کے درمیان مفصل مقایسہ کرتے نظر آتے ہیں۔

الشرق الاوسط میں شائع ہونے والے مقالے میں وہ لکھتے ہیں کہ ہم اور ایرانی تیس سال قبل بین الاقوامی سطح پر ایک ہی مقام پر تھے۔

ایرانیوں نے عالمی طاقتوں خاص طور پر امریکا کے مقابلے میں مزاحمت کا راستہ انتخاب کیا اور ہم نے سازش کے راستے کا انتخاب کیا۔

ہم ہر سال عربوں سے خیانت کے عوض امریکا کی جانب سے بلا عوض مدد کے تناظر میں 4 ارب مدد لیتے ہیں اور ایرانیوں نے انقلاب کے آغاز سے ہی سیاسی اور اقتصادی دباؤ، پابندیوں، جنگ داخلی اور غیر مساوی جنگ کا تجربہ کیا۔

  آج ایران ایک علاقائی طاقت سے ایک عالمی طاقت میں تبدیل ہوچکا ہے اور کوئی بھی علاقائی اور عالمی مسئلہ ایران کا موقف حاصل کئے بغیر حل نہیں ہو سکتا اور امریکا کے صدارتی امیدوار اپنے ٹیلیویژن مناظرے میں 64 بار ایران کا نام لیتے ہیں۔ گویا ایران کے علاوہ ان کا کوئی حریف ہی نہیں ہے۔ ایرانی سائنس، ٹکنالوجی، ایٹمی، خلائی، نینو اور سیمولیشن نیز طبی شعبوں میں دنیا کے دس بڑے ممالک میں شمار ہوتے ہیں اور میزائل صنعت میں دنیا کی چوتھی بڑی طاقت اور میزائیلوں کی تیزی اور دقت کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہیں۔

ایران علاقے میں امن و استحکام کا جزیرہ تصور کیا جاتا ہے اور ہم کو امریکا کی حمایت اور سالانہ امداد حاصل کرنے کے باوجود اپنے زیادہ تر عوام کو ایک روٹی فراہم کرنے میں تشویش لاحق رہتی ہے۔

جی ہاں جب کسی ملک میں حکیم اور دانا رہبر کا فقدان ہوگا تو اس کی حالت مصر جیسی ہی ہوگی اور جب معاشرے میں اتحاد نہ ہو تو اس کی حالت عراق جیسی ہوگی، جب کسی ملک میں مضبوط کمانڈر نہ ہو تو اس کا حال پاکستان جیسا ہوگا۔

جب کسی ملک کا رہبر اور صدر مملکت ظاہری طور پر مسلمان ہو اور وہ مشرق و مغرب کے ہاتھوں بکا ہوا ہو تو اس ملک کا حال ترکی جیسا ہوگا تاہم جب شیعہ ملک میں رہبر زمین اور زمان کو غنڈہ ٹیکس نہ دے، تمام دباو برداشت کرے، آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کی سختیوں کو برداشت کرے، 30 سالہ سیاسی اور اقتصادی پابندیوں کی پریشانیوں کو برداشت کرے، دشمن کو سانس لینے کا موقع نہ دے تو وہ ملک ایران ہوگا۔  جنگ زدہ علاقے میں گھرے ایران کی سرحد پر خونخوار بھیڑئے نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن کسی میں بھی یہ جرات نہیں ہے کہ وہ ایران پر غلط نظر ڈالے، یہاں تک کہ ان کی مکھیاں (ڈرون) بھی نہیں۔

بشکریہ : الشرق الاوسط

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram