امریکہ اور یورپ سے روسی سفارتکاروں کا اخراج، ماسکو کا سخت ردعمل

امریکہ اور یورپ سے روسی سفارتکاروں کا اخراج، ماسکو کا سخت ردعمل

روس نے امریکا اور مغربی ملکوں کو خبردار کیا ہے کہ ان ملکوں سے روسی سفارتکاروں کو نکالے جانے کا وہ بھی جلد ہی مناسب جواب دے گا۔ دوسری جانب یورپی یونین کے 14 ممالک نے بھی اپنے نیٹو اتحادیوں کا ساتھ دیتے ہوئے روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ یوکرین نے 13 روسی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا جب کہ جرمنی، پولینڈ اور فرانس نے 4،4 ، لیتھونیا نے 3، ڈنمارک نے 2 اہلکاروں کو ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سابق روسی جاسوس پر زہریلی گیس حملے کے شبہ میں امریکا نے بھی اپنے اتحادی ملک برطانیہ کا ساتھ دیتے ہوئے روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کردیے جب کہ اس فیصلے میں ان کے دیگر اتحادیوں نے بھی امریکا کا بھرپور ساتھ دیا۔ غیر ملکی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف 60 روسی اہلکاروں کو ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کیے بلکہ واشنگٹن کے شہر سیاٹل میں قائم روسی قونصلیٹ کو بھی بند کرنے کا حکم دیا۔ ترجمان وائٹ ہاؤس سارا سینڈر کے مطابق واشنٹگن میں قائم روسی سفارتخانے میں کام کرنے والے 48 اہلکاروں اور نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والے 12 روسی سفارتکاروں کو فیملی سمیت امریکا چھوڑنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔ سارا سینڈر کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے ان کے نیٹو اتحادی ملک برطانیہ کی سرزمین پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے رد عمل میں یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ خیال رہے امریکا 2016 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کے الزام میں 35 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرچکا ہے۔دوسری جانب یورپی یونین کے 14 ممالک نے بھی اپنے نیٹو اتحادیوں کا ساتھ دیتے ہوئے روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ یوکرین نے 13 روسی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا جب کہ جرمنی، پولینڈ اور فرانس نے 4،4 ، لیتھونیا نے 3، ڈنمارک نے 2 اہلکاروں کو ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔

واضح رہے برطانیہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ روس، سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپال اور ان کی بیٹی پر زہریلی گیس حملے میں ملوث ہے اور اسی سلسلے میں برطانیہ نے چند ہفتے قبل 23 روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کیا تھا جب کہ روس نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جواب میں برطانیہ کے بھی 23 سفارت کاروں کو ملک بدر کردیا تھا۔ روسی حکومت نے امریکا اور مغربی ملکوں سے سو سے زائد روسی سفارتکاروں کو نکالنے کے ان حکومتوں کے اقدام کو محاذ آرائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو بھی اس کا جلد ہی جواب دے گا- روسی وزارت خارجہ نے مغربی ملکوں کے اس اقدام کو غیر دوستانہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مغربی ملکوں کے اس اقدام سے ماسکو اور مغرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا- روس کے ایوان صدر نے بھی اپنے ایک الگ بیان میں مغربی ملکوں کے اس اقدام کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو جوابی اقدام کے اصول کی بنیاد پر مغربی ملکوں کے اس اقدام کا جلد جواب دے گا- امریکا، کینیڈا اور یورپی یونین کے چودہ رکن ملکوں نے برطانیہ میں مقیم روسی نژاد سابق ایجنٹ کو زہر دینے کا الزام روس پر عائد کرتے ہوئے اپنے یہاں سے سو سے زائد روسی سفارتکاروں کو نکال دیا ہے- امریکا نے واشنگٹن اور سیاٹل میں روسی سفارت خانے اور قونصل خانے اور اقوام متحدہ میں روس کے نمائندہ دفتر کے مجموعی طور پر ساٹھ سفارتکاروں کو آئندہ سات روز کے اندر اندر نکل جانے کو کہہ دیا ہے- جن مغربی اور یورپی ملکوں نے اپنے یہاں سے روسی سفارتکاروں کو نکال دیا ہے ان میں جرمنی، فرانس، برطانیہ، یوکرین، ڈنمارک، لیتھوانیا، پولینڈ، ہالینڈ، اسٹوینیہ اور جمہوریہ چک جیسے ممالک شامل ہیں- برطانیہ پہلے ہی تئیس روسی سفارتکاروں کو اپنے یہاں سے نکال چکا تھا-

.......

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram