ہندوستان کی وزیر خارجہ کا دورہ تہران، ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ پر تاکید

  • News Code : 870529
  • Source : irib.ir
Brief

ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے دورہ تہران میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات کی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اپنے دورہ تہران میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات میں ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کی اہمیت اور ان تعلقات کو فروغ دیئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔
اس ملاقات میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی ایران اور ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چابہار میں شہید بہشتی بندرگاہ کا افتتاح دو طرفہ اور علاقائی تعاون کی تقویت کے علاوہ علاقائی اور بحیرہ عمان اور بحر ہند کے ذریعے دنیا کے دیگر ملکوں کے ساتھ وسطی ایشیا کے ملکوں کے رابطوں کی توسیع میں اس بندرگاہ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
دوسری جانب ہندوستان کے وزیر جہاز رانی پون رادھا کرشنن نے بھی ایک بیان میں چابہار بندرگاہ کے افتتاح کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے علاقے میں ایران اور ہندوستان کی پوزیشن پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
انھوں نے اپنے دورہ تہران سے قبل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ چابہار کی یہ بندرگاہ ایران اور ہندوستان، دونوں ملکوں کے لئے خاص اہمیت کی حامل ہے، کہا کہ چابہار بندرگاہ کی توسیع دونوں ملکوں کے لئے اہم مواصلاتی راہ قائم کرتی ہے جس سے افغانستان تک ہندوستان کی دسترسی بھی آسان ہوتی جا رہی ہے۔
انھوں نے چابہار بندرگاہ کے منصوبے کو ہندوستان اور علاقے کے ملکوں کے لئے اہمیت کا حامل قرار دیتے ہو‏ے کہا کہ ہندوستان کی حکومت، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور توانائی کے شعبوں میں ایران کے ساتھ تعلقات کو خاص اہمیت دیتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی، اپنے صوبائی دورے میں اتوار کے روز صوبے سیستان و بلوچستان میں دنیا کے ستائیس ملکوں کے حکام کی موجودگی میں چابہار میں شہید بہشتی بندرگاہ کے پہلے مرحلے کا افتتاح کریں گے۔
چابہار کے سہ فریقی ٹرانزیٹ سمجھوتے پر مئی دو ہزار سولہ میں ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی، ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی کی موجودگی میں تہران میں تینوں ملکوں کے وزرائے ٹرانسپورٹ نے دستخط کئے تھے۔
اس منصوبے پر عملدرآمد سے ہندوستان پاکستان کے بغیر ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان کی چابہار بندرگاہ کے ذریعے زمینی راستے سے افغانستان تک دسترسی حاصل کر پا رہا ہے۔
ایران کی چابہار بندرگاہ اپنی اسٹریٹیجک پوزیشن اور آزاد سمندر میں وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ملکوں منجملہ افغانستان، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، کرغیزستان اور قزاقستان کی سمندر تک دسترسی کا نزدیک ترین راستہ فراہم کرتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے دورہ تہران میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات کی۔

اپنے دورہ تہران میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات میں ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کی اہمیت اور ان تعلقات کو فروغ دیئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔
اس ملاقات میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی ایران اور ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چابہار میں شہید بہشتی بندرگاہ کا افتتاح دو طرفہ اور علاقائی تعاون کی تقویت کے علاوہ علاقائی اور بحیرہ عمان اور بحر ہند کے ذریعے دنیا کے دیگر ملکوں کے ساتھ وسطی ایشیا کے ملکوں کے رابطوں کی توسیع میں اس بندرگاہ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
دوسری جانب ہندوستان کے وزیر جہاز رانی پون رادھا کرشنن نے بھی ایک بیان میں چابہار بندرگاہ کے افتتاح کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے علاقے میں ایران اور ہندوستان کی پوزیشن پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
انھوں نے اپنے دورہ تہران سے قبل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ چابہار کی یہ بندرگاہ ایران اور ہندوستان، دونوں ملکوں کے لئے خاص اہمیت کی حامل ہے، کہا کہ چابہار بندرگاہ کی توسیع دونوں ملکوں کے لئے اہم مواصلاتی راہ قائم کرتی ہے جس سے افغانستان تک ہندوستان کی دسترسی بھی آسان ہوتی جا رہی ہے۔
انھوں نے چابہار بندرگاہ کے منصوبے کو ہندوستان اور علاقے کے ملکوں کے لئے اہمیت کا حامل قرار دیتے ہو‏ے کہا کہ ہندوستان کی حکومت، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور توانائی کے شعبوں میں ایران کے ساتھ تعلقات کو خاص اہمیت دیتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی، اپنے صوبائی دورے میں اتوار کے روز صوبے سیستان و بلوچستان میں دنیا کے ستائیس ملکوں کے حکام کی موجودگی میں چابہار میں شہید بہشتی بندرگاہ کے پہلے مرحلے کا افتتاح کریں گے۔
چابہار کے سہ فریقی ٹرانزیٹ سمجھوتے پر مئی دو ہزار سولہ میں ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی، ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی کی موجودگی میں تہران میں تینوں ملکوں کے وزرائے ٹرانسپورٹ نے دستخط کئے تھے۔
اس منصوبے پر عملدرآمد سے ہندوستان پاکستان کے بغیر ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان کی چابہار بندرگاہ کے ذریعے زمینی راستے سے افغانستان تک دسترسی حاصل کر پا رہا ہے۔
ایران کی چابہار بندرگاہ اپنی اسٹریٹیجک پوزیشن اور آزاد سمندر میں وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ملکوں منجملہ افغانستان، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، کرغیزستان اور قزاقستان کی سمندر تک دسترسی کا نزدیک ترین راستہ فراہم کرتی ہے۔


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram