ڈاکٹر ظریف؛ ہمارے خطے کو بات چیت کے فقدان کا سامنا ہے/ امریکہ کو حق نہیں ہے کہ کیمیاوی ہتھیاروں کو سرخ لکیر قرار دے

ڈاکٹر ظریف؛ ہمارے خطے کو بات چیت کے فقدان کا سامنا ہے/ امریکہ کو حق نہیں ہے کہ کیمیاوی ہتھیاروں کو سرخ لکیر قرار دے

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے امریکی خارجہ تعلقات کونسل سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ایشیا کے ممالک کے درمیان بات چیت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: علاقائی بات چیت کے لئے ایک فورم قائم ہونا چاہئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آج صبح [منگل 24 اپریل 2018 کو] ڈاکٹر ظریف نے امریکہ کی خارجہ تعلقات کی کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ نشست سے خطاب کیا۔
ڈاکٹر ظریف کے خطاب کے اہم نکات:
ہمارے علاقے کو بات چیت کے فقدان کا سامنا
مغربی ایشیا میں بڑے بڑے بحرانوں نے جنم لیا ہے، ان میں سے اکثر بحرانوں کا سبب اضطراب اور تشویش ہے جو ایک پڑوسی ملک میں ایران کی نسبت پائی جاتی ہے۔
ہمارے علاقے کو شدت سے تبدیلی کی ضرورت ہے، ہمارا خیال ہے کہ مغربی ایشیا (مشرق وسطی) میں تنازعات کا خاتمہ ہونا چاہئے اور ابتداء سے شروع کرنا چاہئے، ایسا کیسے ممکن ہے؟ جبکہ ہمیں بات چیت کے فقدان کا سامنا ہے، ہم آپس میں گفتگو نہیں کرتے!
ہم ایک دوسرے کے بارے میں بہت زیادہ بولتے ہیں خاص طور پر جب امریکہ آتے ہیں!!! ہمارے پڑوسی بالخصوص سعودی عرب کی خواہش ہے کہ ایسا تصور پیدا کریں کہ ہم ان کے وجود کےلئے خطرہ ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ بس مذاکرات اور بات چیت کی کمی ہے، اور یہ بھی ایک سبب ہے کہ ہم نے ایک ڈائیلاگ فورم کے قیام کی تجویز دی ہے۔ میں نے اپنے کئی مضامین میں اس بات پر زور دیا ہے۔
یہ فورم کئی سال قبل قائم ہونا چاہئے تھا، فطری امر ہے کہ ممالک کی صلاحیتوں اور ان کی طاقت ایک جیسی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ بعض ممالک کی قوت اور طاقت بعض دوسروں کی تشویش کا سبب بنے گی اسی بنا پر ضروری ہے کہ بیٹھ کر بات چیت کی جائے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنا وجود جتانے کے لئے دوسروں کی نفی پر مبنی سوچ کا خاتمہ ہونا چاہئے، اور بعض اصولوں کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
ممالک کی قومی سالمیت کا احترام، سرحدوں کی عدم تبدیلی کے اصول کا احترام، دوسرے ممالک میں عدم مداخلت، ایسے اصول ہیں جنہیں تسلیم کرنا پڑے گا اور جو ان اصولوں کو تسلیم کرے گا وہ مجوزہ فورم میں داخلے کی سند پائے گا۔
خطے کے کچھ ممالک ہم پر دوسرے ممالک میں مداخلت کا الزام لگاتے ہیں، لیکن بات یہ نہیں ہے بات یہ ہے کہ ہمارے پاس کئی مثالیں ہیں کہ ان ممالک نے ہمارے اندرونی مسائل میں مداخلت کی ہے لیکن ہم نے کبھی سعودی ولیعہد کی طرح یہ نہیں کہا کہ ہم جنگ کو سعودی عرب کے اندر لے جائیں گے۔
مجوزہ فورم میں ممالک اپنے تجربات دوسروں کے سامنے رکھ سکتے ہیں اور اختلافی مسائل پر بات کرسکتے ہیں، تاکہ ہم آپس میں گفتگو کی بجائے امریکہ میں آکر آپ سے ایک دوسرے کے بارے میں بات کریں!
بےشک ہمیں کئی اصولوں کو تسلیم کرنا پڑے گا؛ ایسے تمام کھیلوں کا سلسلہ بند کرنا پڑے گا جن کا نتیجہ صفر سے آگے نہیں بڑھتا، تسلیم کرنا پڑے گا کہ اپنے ملک کی سلامتی کو باہر سے درآمد نہیں کیا جاسکتا، اور خزانہ لٹا کر اور اسلحہ خریدنے سے سلامتی اور استحکام کی ضمانت فراہم نہیں کی جاسکتی اور آقا بن کر ممالک میں اثر و رسوخ بڑھانے کی پالیسی کو ترک کرنا پڑے گا۔

نہ ایران نہ ہی سعودی عرب علاقے کی سیادت کے مدعی نہیں ہوسکتے
میں اپنے علاقے کے بارے میں بات کررہا ہوں۔ نہ ایران اور نہ ہی سعودی عرب علاقے پر اپنی سیادت نہیں جما سکتے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا پڑے گا؛ گوکہ ممکن ہے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہمارے لئے ناخوشایند ہو۔ لیکن ہم میں سے کوئی بھی علاقے پر حاویت کا دعوی نہیں کرسکتا۔
اگر ہم چاہیں کہ اس بات کو ایک خوبصورت فریم میں سجا دیں تو کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں ایک طاقتور خطے کے لئے کوشاں ہونا چاہئے نہ کہ علاقے پر اپنی طاقت مسلط کرنے کے لئے۔ ہم میں سے کچھ نے علاقے پر حاوی ہونے کے لئے اور طاقتور بننے کے لئے پورے علاقے کو آگ میں جھونک کر تباہ کردیا ہے، ہمیں یہ سلسلہ بند کرنا پڑے گا۔ ایران اس کے لئے تیار ہے۔ کیونکہ ہم کافی بڑے اور بالغ اور منجھے ہوئے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہمارے پڑوسی بھی اس بات کو قبول کریں اور ہمیں امید ہے کہ دوسری حکومتیں بھی اس سلسلے میں ان کی مدد کریں۔
یہ ایک اہم تبدیلی ہوگی اور جب تک یہ تبدیلی نہیں آئے گی امریکہ جس قدر بھی ان ممالک کو ہتھیار بیچ دے؛ جتنا کہ واشنگٹن کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی، اتنا منافع نہیں کما سکے گا۔

واشنگٹن میں مظاہرہ آزادی کے لئے؛  لیکن ایران میں ہو حکومت بدلنے کے لئے ہے!
انھوں نے ایران میں سزا پانے والے امریکی باشندوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: امریکہ میں ایران پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے کے بہانے بےشمار ایرانیوں کو سزائیں دی جاتی ہیں؛ ایران میں قید اور سزا جیسے مسائل کا تعلق عدلیہ سے ہے اور انتظامیہ صرف دو روشوں سے مداخلت کرسکتی ہے: انسانی ہمدردی کے حوالے سے اور قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے۔
انھوں نے ایران میں خواتین کے حقوق کے سلسلے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایران میں جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والی خواتین کے اعداد و شمار کی طرف اشارہ کیا اور کہا: آپ ہم سے ایران میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں تو سوال پوچھتے ہیں لیکن ہمارے علاقے میں آپ کے قریب ترین حلفاء کے ہاں عورتوں کو ابھی تک ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں ہے؛ یہی نہیں وہاں مردوں کو بھی حق رائے دہی حاصل نہیں ہے، کیونکہ وہاں انتخابات ہی نہيں ہوتے، اور جب وہاں ایک شخص اٹھ کر کہتا ہے کہ "ہماری عورتیں اس کے بعد سینما جاسکتی ہیں، تو آپ کے یہاں لوگ اس کو تبدیلی لانے والی شخصیت کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے، [تضادات]
اناؤنسر نے انہیں یاددہانی کرائی کہ شیرین عبادی نے حال ہی میں دعوی کیا ہے کہ ایرانی عوام نظام حکومت کی تبدیلی کے خواہاں ہیں تو ڈاکٹر ظریف نے کہا: احترام کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ایران میں کسی نے بھی انہیں ایرانی عوام کی طرف سے بات کرنے کے لئے نہیں چنا ہے۔ ہمارے 74 فیصد عوام نے آخری صدارتی انتخابات میں شرکت کرکے اپنی رائے کا اظہار کردیا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے عوام کیا چاہتے ہیں۔
ایران میں عوام مختلف جماعتوں اور سیاستدانوں کو ووٹ دیتے ہیں؛ جمہوریت صرف امریکہ میں نہیں ہے لیکن جب امریکہ میں مظاہرے ہوتے ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ یہ در حقیقت آزادی کا اظہار ہے لیکن جب ہمارے ہاں مظاہرے ہوتے ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ ایرانی عوام نظام حکومت کو بدلنا چاہتے ہیں۔
امریکہ اور فرانس میں وقتا فوقتا احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ چل نکلتا ہے لیکن یہاں کوئی نہیں کہتا ہے کہ یہ فرانس یا امریکہ کے نظام حکومت کے خاتمے کا آغاز ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے دورے پر گئے تو انھوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ وہاں کے عوام نے ان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ نہیں کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودی عوام مظاہرہ کرہی نہیں سکتے تھے؛ اب وہاں اگر کوئی مظاہرہ نہیں کرسکتا تو ٹرمپ صاحب کہتے ہیں کہ یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن ان کے خیال میں اگر ہمارے ہاں لوگ احتجاج کرسکتے ہیں، تو یہ بری بات ہے!

ہمارے عوام پوچھتے ہیں کہ عالمی برادری کے ساتھ بات چیت کا فائدہ کیا تھا؟
ایران میں لوگوں نے مظاہرے کئے اور ان کے احتجاج کا سبب معاشی مسائل تھے، ہمارے ملک میں معاشی ترقی کے اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں لیکن ہمارے عوام کو توقع تھی کہ بین الاقوامی برادری کچھ بہتر کارکردگی دکھاتی، اور جوہری معاہدے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتی۔
انھوں نے کہا کہ جب سے ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس کی چابی سنبھالی ہے، گذشتہ سولہ مہینوں سے اب تک ایران کے ساتھ تجارت کے لئے ایک او ایف اے سی (Office of Foreign Assets Control [OFAC]) بھی جاری نہیں ہوئی ہے۔ چنانچہ امریکہ اسی وقت جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے۔
ہمارے عوام ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا؟ ان نعروں کا کیا بنا کہ "بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعامل اور تعاون معاشی خوشحالی کا سبب بنتا ہے"؟ اور یہی بات لوگوں کے غیظ و غضب کا باعث بنتی ہے۔

اگر ایران نہ ہوتا دنیا کو دو دہشت گرد تکفیری حکومتوں کا سامنا کرنا پڑتا
انھوں نے شام میں ایران کے کردار کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: ایران نے دہشت گردی اور دہشت گرد ریاستوں کے قیام کا مقابلہ کرنے کے لئے شام کی حکومت کی درخواست پر وہاں اپنے فوجی مشیر روانہ کئے۔ ایران نے اربیل اور بغداد کی درخواست پر وہاں بھی اپنے مشیر روانہ کئے۔ چنانچہ مغربی دنیا کو ایران کا شکرگزار ہونا چاہئے کیونکہ اگر ایران شام اور عراق کی حکومت کا ساتھ نہ دیتا تو آج دنیا کو دہشت گرد ٹولوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے ان دو ممالک میں دو دہشت گرد ریاستوں کا مقابلہ کرنا پڑتا۔
ہم شام کا بحران مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں لیکن امریکہ کے بعض حلیف اب بھی وہاں فوجی کامیابیوں کے در پے ہیں۔
آپ اپنے سابق وزیر خارجہ جان کیری سے تصدیق کرائیں کہ "شام کے حامی گروپ" کے اجلاس میں میں نے اجلاس کی رپورٹ میں ایک جملے کا اضافہ کرایا اور وہ یہ تھا کہ "شام کے بحران کے حل کے لئے عسکری حکمت عملی کارآمد نہيں ہے" لیکن امریکہ کے حلیفوں نے کہا کہ ہم خدا کی مدد سے بشار اسد کو بہر صورت برطرف کرکے دم لیں گے۔ اور میں نے مذاق میں جان کیری سے کہا کہ خدا سے ان کی مراد امریکہ ہے۔
انھوں نے سات سال قبل رمضان کے مہینے میں کیمروں کے سامنے آکر شام کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ "رمضان کے کے آخر میں بشار اسد برسراقتدار نہیں ہونگے" لیکن اس وقت سے سات رمضان کے مہینے گذرے ہیں؛ کئی میلین شامی بےگھر ہوچکے ہیں؛ ان لوگوں کو ملزم ٹہرائیں جنہوں نے اس جنگ کا آغاز کیا تھا نہ ان لوگوں کو جنہوں نے دمشق کو داعش کے ہاتھوں فتح نہیں ہونے دیا۔

امریکہ کے حلیف جنگ یمن کے مجرم
تین سال قبل جب یمن پر سعودی عرب نے حملہ کیا تو ہم نے حوثیوں سے رابطہ کرکے انہیں جنگ بندی کے لئے رضامند کیا لیکن آپ کے حلیفوں نے کہا کہ تین ہفتوں میں یمن پر فتح حاصل کرلیں گے اور وہ جنگ کے راستے پر گامزن ہوئے۔ اور اب تین ہفتوں کے بجائے چوتھا سال شروع ہوچکا ہے اور جنگ جاری ہے۔
سعودی عرب میں وہ شخص (محمد بن سلمان) جو آپ کے ہاں تبدیلی لانے کا ہیرو سمجھے جاتے ہیں، کو عسکری کامیابی کے لئے تین ہفتوں کا وقت درکار تھا تا کہ اپنے اقتدار کے لئے راستہ ہموار کریں اور اندرون ملک ان کی اونچی اڑان یقینی بنے؛ تین سال سے یمن میں دس لاکھ افراد ہیضے اور وبائی امراض سے دوچار ہوئے ہیں اور سعودی حکمران شاید اگلے تین برسوں میں فتح کی امید کے ساتھ اس ملک پر جنگ مسلط رکھے ہوئے ہیں؛ لیکن امریکہ الزام ہم پر لگائے گا۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ یمن کی جنگ سے بری الذمہ نہیں ہے اور آپ کے موجودہ وزیر دفاع نے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ امریکہ یمن کی جنگ میں براہ راست ملوث ہے۔
امریکہ کیمیاوی ہتھیاروں کو سرخ لکیر نہ ہی سمجھے
ڈاکٹر ظریف نے کیمیاوی ہتھیاروں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: کیمیاوی ہتھیار جو بھی استعمال کرے ہم مذمت کرتے ہیں، شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے سلسلے میں ہمیں اقوام متحدہ کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرنا چاہئے؛ آٹھ سالہ جنگ میں صدام نے ہمارے خلاف وسیع سطح پر کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے تو امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک خاموش تماشائی تھے [اور صدام کو کیمیاوی ہتھیار بیچ رہے تھے] چنانچہ آپ کو حق نہيں پہنچتا کہ کیمیاوی ہتھیاروں کو سرخ لکیر قرار دیں؛ کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال ہمارے لئے سرخ لکیر ہے؛ ہم ان ہتھیاروں کا نشانہ بنے ہیں۔
منبع: http://www.farsnews.com/newstext.php?nn=13970204000094

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram