ایران اور افغانستان کے وزرائے دفاع کا ٹیلی فون رابط؛

وزیر دفاع اسلامی جمہوریہ ایران: امریکہ داعش کو شام اور عراق کے مہلکے سے نکال کر افغانستان منتقل کرنا چاہتا ہے

وزیر دفاع اسلامی جمہوریہ ایران: امریکہ داعش کو شام اور عراق کے مہلکے سے نکال کر افغانستان منتقل کرنا چاہتا ہے

بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی نے افغان وزیر دفاع سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ داعش کو شام اور عراق کے مہلکے سے نجات دلا کر افغانستان منتقل کرنا چاہتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور افغانستان کے وزرائے دفاع نے ٹیلی فونک مکالمے کے دوران افغاتستان کی سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے علاقے میں دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا.

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی نے افغانستان میں حالیہ متعدد دہشت گردانہ اقدامات اور بڑی تعداد میں افغان باشندوں کے جاں بحق اور زخمی ہونے کے بعد افغان وزیر دفاع لیفٹننٹ جنرل طارق شاہ بہرامی سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے افغان عوام، حکومت اور مسلح افواج سے تعزیت کی اور کہا: حالیہ ایام کے دہشت گردانہ اقدامات رہبر انقلاب اسلامی، اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت، عوام اور مسلح افواج کے لئے شدید صدمے کا باعث ہوئے۔

انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی میں دوست اور برادر ملک افغانستان کی غیر معمولی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایران ہمیشہ افغانستان کے عوام کے خلاف بیرونی سازشوں کی نسبت فکرمند رہا ہے اور ہم طویل عرصے سے افغانستان کے مظلوم عوام کے مصائب و آلام کم کرنے کے لئے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لاتا رہا ہے۔

حاتمی کا کہنا تھا کہ امریکیوں نے داعش قائم کی تا کہ شام اور عراق میں انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کریں لیکن امریکہ کو ان دو ملکوں میں نہایت بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد اس نے داعش کو وہاں کی ہلاکت خیزیوں سے نجات دلا کر افغانسان منتقل کرنے کی کوشش کی تا کہ وہ اپنے شرمناک وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کرتے رہیں اور امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی کا جواز پیش کرسکے۔

انھوں نے کہا: امریکہ ایک بار پھر افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرنا چاہتا ہے جس کے لئے اس کو داعش کی ضرورت ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ امریکیوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں اور انھوں نے قدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے کر اپنی امریکی منافقت اور دنیا کے مسلمانوں سے اپنی دشمنی کا ایک اور پردہ بھی گرا دیا ہے

انھوں نے کہا: ہمیں یقین ہے کہ افغانستان میں امن و سلامتی کی بحالی صرف اس صورت میں ممکن ہوگی کہ خطے کے ممالک اس مسئلے کی نسبت مثبت رویہ اپنائیں؛ اور علاقے کے تمام ممالک اپنے تمام تر مشترکہ وسائل کو بروئے کار لا کر افغانستان میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرسکتے ہیں۔

بریگیڈیئر جنرل حاتمی نے لیفٹننٹ جنرل طارق شاہ بہرامی کو اسلامی جمہوریہ ایران کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

افغان وزیر دفاع نے ایرانی وزیر دفاع کے ٹیلی فونک رابطے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: میں انقلاب اسلامی کے رہبر معظم اور اسلامی جمہوریہ ایران کی ملت، حکومت اور مسلح افواج کی طرف سے اظہار ہمدردی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انھوں نے کہا: پوری تاریخ میں ایران اور افغانستان کے درمیان نہایت اچھے تعلقات استوار رہے ہیں، اور میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ملت افغانستان کا دشمن بہرصورت نوع انسانی اور ملت ایران کا بھی دشمن ہے۔

انھوں نے کہا: اس وقت 20 دہشت گرد ٹولے افغانستان میں سرگرم عمل ہیں اور اگر ان جرائم پیشہ ٹولوں کو اپنے حال پر چھوڑا جائے تو علاقے کی سلامتی کو شدید بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انھوں نے کہا: ایران اور افغانستان نیز تمام پڑوسی ممالک کو مشترکہ دشمن سے غافل نہیں ہونا چاہئے اور انہیں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں مکمل تعاون کرنا چاہئے۔

طارق شاہ بہرامی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع کی دورہ ایران کی دعوت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ایران اور افغانستان کے دفاع کے وزارتخانوں کے درمیان قریبی تعلق اور تعاون حکومت افغانستان کی پالیسی میں شامل ہے اور میری کوشش ہوگی کہ مستقبل قریب میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں دوطرفہ تعاون کے مشترکہ امکانات کا جائزہ لیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram