بمناسبت رحلت پیغمبر خدا(ص)

رسول اسلام (ص) کی زندگی کے آخری لمحات

رسول اسلام (ص) کی زندگی کے آخری لمحات

امام علی(ع): بے شک اللہ کا رسولؐ زندگی میں بھی ہمارا امام ہے اور مرنے کے بعد بھی لہذا دستہ دستہ بغیر امام کے نماز جناہ پڑھیں اور لوٹ جائیں، چنانچہ سب سے پہلے آپؐ کی نماز جنازہ حضرت علی ؑ اور بنی ہاشم نے پڑھی اور ان کے بعد انصار نے پڑھی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ 

رسولؐ کی زندگی کے آخری ایام
۱۔وصیت لکھنے میں حائل ہونا
شدید بخار اور نہایت ہی تکلیف کے باوجود، رسولؐ، علی ؑ اور فضل بن عباس کا سہارا لیکر لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے گھر سے مسجد میں آئے تاکہ ان مفاد پرستوں کے منصوبوں کو ناکام بنا سکیں جنہوں نے خلافت و قیادت کو غصب کرنے کے لئے سازش کی تھی، اس مقصد میں کامیابی ہی کے لئے ان لوگوں نے بھی نہایت ہی ہوشیاری سے رسولؐ کے حکم سے روگردانی کی تھی جب رسولؐ نے انہیں لشکرِ اسامہ کے ساتھ جانے کا حکم دیا تھا۔ نماز پڑھانے کے بعد رسولؐ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

’’ایّھا النّاس سعرت النّار و اقبلت الفتن کقطع الّلیل المظلم، و انّی و اللّٰہ ما تمسکون علی بشیء انی لم احل الا ما احل اللہ ولم احرم الا ما حرم اللّٰہ‘‘[1]
اے لوگو! فتنہ کی آگ بھڑک اٹھی ہے اور وہ کالی رات کے ٹکڑوں کی طرح بڑھے چلے آ رہے ہیں۔

میں نے اسی چیز کو حلال قرار دیا ہے جس کو خدا نے حلال کیا ہے اور میں نے اسی چیز کو حرام قرار دیا ہے جس کو خدا نے حرام قرار دیا ہے۔

یہ آپؐ کی طرف سے ایک اور تنبیہ تھی کہ یہ لوگ آپؐ کے حکم کی نافرمانی نہ کریں اگر چہ ان کی نیتوں سے یہ بات آشکار تھی کہ یہ لوگ امت اسلامیہ کو مصائب میں مبتلا کریں گے خصوصاًجب جاہل افراداس کے سربراہ و خلیفہ بن جائیں گے۔

رسولؐ کے مرض میں شدت پیدا ہو گئی، صحابہ بھی آپؐ کے گھر میں جمع ہو گئے انہیں لوگوں میں وہ اشخاص بھی شامل ہو گئے جنہوں نے لشکر اسامہ سے روگردانی کی تھی۔ آنحضرت ؐ نے انہیں لعنت و ملامت کی تو انہوں نے کھوکھلے قسم کے عذر بیان کئے، اس موقعہ پر رسولؐ نے امت کو ہلاکت و تباہی سے بچانے کے لئے دوسرے طریقہ سے کوشش کی فرمایا:

’’ایتونی بدواۃ و صحیفۃ اکتب لکم کتاباً لا تضلون بعدہ‘‘۔

مجھے کاغذ و دوات دیدو تاکہ میں تمہارے لئے ایک نوشتہ لکھ دوں جس سے تم گمراہ نہ ہو۔

عمربن خطاب نے کہا: رسولؐ پر مرض کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن مجید ہے ، ہمارے لئے خدا کی کتاب کافی ہے ۔[2] اس طرح اختلاف و جھگڑا ہو گیا، پردہ کے پیچھے سے رسولؐ کی ازواج نے کہا: اللہ کا رسولؐ جو مانگ رہا ہے وہ انہیں دیدو، اس پر عمر نے کہا: چپ ہو جاؤ تمہاری مثال حضرت یوسف کی بیویوں کی سی ہے جب وہ بیمار ہوتے ہیں تو تم آنسو بہاتی ہوں اور جب صحت یاب ہو جاتے تو تم ان کے سر چڑھ جاتی ہو۔ رسولؐ نے فرمایا: وہ تم سے بہتر ہیں۔[3]

پھر فرمایا:

’’قوموا عنی لا ینبغی عندی التنازع‘‘
میرے پاس سے اٹھ جاؤ میرے سامنے جھگڑا کرنا مناسب نہیں ہے ۔

رسول ؐ کے اس نوشتہ کی امت کو شدید ضرورت تھی چنانچہ جب ابن عباس اس واقعہ کو یاد کر لیتے تھے تو افسوس کے ساتھ کہتے تھے: سب سے بڑا المیہ اور مصیبت یہ ہے کہ اللہ کے رسول ؐ کو نوشتہ نہیں لکھنے دیا گیا۔[4]

جب آپ کے پاس صحابہ میں اختلاف ہو گیا تو آپؐ نے نوشتہ لکھنے پر اصرار نہیں کیا، پھر یہ بھی خوف تھا کہ اس کے بعد ان کی سرکشی اور بڑھ جائیگی اور اس کا نتیجہ اس سے زیادہ خطرناک ہوگا۔ رسولؐ نے ان کی نیتوں کو سمجھ لیا تھا چنانچہ جب صحابہ نے قلم و دوات کی بات دہرائی تو اپؐ نے فرمایا:

’’ابعد الذی قلتم‘‘
کیا تمہاری گستاخی کے بعد بھی؟[5]

پھر آپ نے انہیں تین وصیتیں فرمائیں لیکن تاریخ کی کتابوں میں ان میں سے دو ہی نقل ہوئی ہیں وہ یہ ہیں کہ مشرکین کو جزیرہ نما عرب سے نکال دیا جائے اور وفود بھیجے جائیں جیسا کہ آپ بھیجتے تھے۔

علامہ سید محسن امین عاملی نے اس پر اس طرح حاشیہ لگایا ہے : جوشخص بھی غور کرے گا وہ اس بات کو بخوبی سمجھ لے گا کہ محدثین نے اسے جان بوجھ کر بیان نہیں کیا ہے ، فراموشی کی وجہ سے نہیں چھوڑا ہے ۔ سیاست نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اسے بیان نہ کریں وہ وصیت یہ تھی کہ رسولؐ نے ان سے دوات و کاغذ طلب کیا تھا تاکہ ان کے لئے ایک نوشتہ لکھ دیں۔[6]

۲۔ فاطمہ زہراؑ باپ کی خدمت میں
رنجیدہ اور غم سے نڈھال فاطمہ زہراؑ آئیں، اپنے والد کو حسرت سے دیکھنے لگیں کہ وہ عنقریب اپنے رب سے جا ملیں گے، دل شکستہ حال میں باپ کے پاس بیٹھ گئیں، آنکھیں اشکبار ہیں اور زبان پر یہ شعر ہے:

و ابیض یستسقی الغمام بوجہہ ثمال الیتامیٰ عصمۃ الارامل
نورانی چہرہ جس کے وسیلہ سے بارش طلب کی جاتی ہے ۔ وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیوہ عورتوں کا نگہبان ہے ۔

اسی وقت رسولؐ نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور آہستہ سے فرمایا: بیٹی یہ تمہارے چچا ابو طالب کا شعر ہے ، اس وقت یہ نہ پڑھو بلکہ یہ آیت پڑھو:

(وما محمّد الّا رسول ؐ قد خلت من قبلہ الرّسل افان مات او قتل انقلبتم علیٰ اعقابکم و من ینقلب علیٰ عقبیہ فلن یضر اللّہ شیئا و سیجزی اللّہ الشاکرین)۔ [7]
اور محمدؐ توبس رسولؐ ہیں ان سے پہلے بہت سے رسولؐ گزر چکے ہیں پھر اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دئیے جائیں تو کیا تم الٹے پیروں پلٹ جاؤ گے؟ یاد رکھو جو بھی ایسا کرے گا تو وہ خدا کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور خدا شکر گذاروں کو عنقریب جزا دے گا۔

اس طرح رسولؐ اپنی بیٹی فاطمہ ؐ کو ان افسوسناک حوادث کے لئے تیار کرنا چاہتے تھے جو عنقریب رونما ہونے والے تھے یقیناًیہ چیز حضرت ابو طالبؓ کے قول سے زیادہ بہتر تھی۔

اس کے بعد نبی ؐ کریم نے اپنی بیٹی کو قریب آنے کا اشارہ کیا تاکہ آپؐ سے کچھ گفتگو کریں، فاطمہ ؐ زہرا جھک کر سننے لگیں، آنحضرت ؐ نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ رونے لگیں، پھر آپؐ نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ مسکرانے لگیں، صورت حال سے بعض حاضرین کے اندر تجسس پیدا ہو گیا، انہوں نے فاطمہ زہراؑ سے دریافت کیا آپؐ کے رونے اور پھر مسکرانے کا کیا راز ہے ؟ آپؐ نے فرمایا؛ میں رسولؐ کے راز کو افشا نہیں کروں گی۔

لیکن جب رسولؐ کی وفات کے بعد آپؑ سے دریافت کیا گیا تو فرمایا:

’’اخبرنی رسول اللّہ ؐ انّہ قد حضر اجلہ و انہ یقبض فی وجعہ ھذا فبکیت ثم اخبرنی انّی اوّل اھلہ لحوقاً بہ فضحکت‘‘۔[8]
مجھے رسولؐ نے یہ خبر دی تھی کہ ان کی وفات کا وقت قریب ہے اور اسی مرض میں آپ ؐ دنیا سے اٹھ جائیں گے تویہ سن کر میں رونے لگی پھر مجھے یہ خبر دی کہ ان کے اہل بیت میں سب سے پہلے میں ان سے ملحق ہوں گی تو میں مسکرائی۔

۳۔رسولؐ کے آخری لمحاتِ حیات
علی ؑ رسول ؐ کے ساتھ ایسے ہی رہتے تھے جیسے ایک انسان کے ساتھ سایہ رہتا ہے ، زندگی کے آخری لمحات میں بھی آپؑ ان کے ساتھ ہی تھے آنحضرت ؐ انہیں تعلیم دیتے اپنا راز بتاتے اور وصیت کرتے تھے۔ آخری وقت میں رسولؐ نے فرمایا: میرے بھای کو میرے پاس بلاؤ، علی ؑ کو رسولؐ نے کہیں کام سے بھیجا تھا، بعض مسلمان آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن رسولؐ نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی کچھ دیر بعد علی ؑ بھی آ گئے تو رسولؐ نے فرمایا: مجھ سے قریب ہو جاؤ، علی ؑ آپؐ سے قریب ہو گئے آنحضرت ؐ علی ؑ کے سہارے بیٹھ گئے اور ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ آپؐ پر احتضار کے آثار ظاہر ہو گئے اور رسولؐنے حضرت علی ؑ کی گود میں وفات پائی، اس بات کو خود حضرت علی ؑ نے اپنے ایک مشہور خطبہ میں بیان فرمایا ہے ۔[9]

۴۔ وفات و دفن رسولؐ
آخری وقت میں رسولؐ کے پاس علی ؑ ابن ابیطالب ؑ ، بنی ہاشم اور ازواج کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا، آپؐ کے فراق میں آپؐ کے گھر سے بلند ہونے والی آہ و بکا کی آواز سے آپؐ کی وفات کی خبر سب کو ہو گئی تھی ، سرور کائنات ؐکے غم میں دل پاش پاش تھے، دیکھتے ہی دیکھتے مدینہ بھر میں آپؑ کی وفات کی خبر پھیل گئی۔ سبھی پر غم و الم کی کیفیت طاری تھی اگرچہ رسولؐ نے اس حادثہ کے لئے انہیں آمادہ کر دیا تھا اور متعدد بار اپنے انتقال کی خبر دے چکے تھے اور امت کو یہ وصیت کر چکے تھے کہ وہ آپؐ کے بعد آپؐ کے خلیفہ علی ؑ بن ابی طالب ؑ کی اطاعت کرے۔ یقیناًآپؐ کی وفات ایک بہت بڑاسانحہ تھا جس سے مسلمانوں کے دل دہل گئے تھے مدینہ پر ایک اضطرابی کیفیت طاری تھی، رسولؐ کے گھر کے اطراف میں جمع افراد عمر بن خطاب کی بات سے حیرت زدہ تھے وہ تلوار سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہہ رہے تھے: منافقین میں سے بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ اللہ کا رسولؐ مر گیا۔ خدا کی قسم! وہ مرے نہیں ہیں ہاں وہ موسیٰ بن عمران کی طرح اپنے رب کے پاس چلے گئے ہیں۔ [10]

اگر چہ موسیٰ ؑ کی غیبت اور محمدؐ کی وفات میں کوئی مماثلت نہیں ہے لیکن اس مماثلت و مشابہت پر عمر کے اصرار سے خود ان کے کردار سے پردہ ہٹتا ہے ۔

عمر آرام سے نہیں بیٹھے یہاں تک کہ ابوبکر آئے اور رسولؐ کے گھر میں داخل ہوئے اور رسولؐ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور تیزی سے باہر نکلے اورکہنے لگے: اے لوگو! سنو جو محمد کی پرستش کرتا ہے وہ جان لے کہ محمد مر گئے اور جو خدا کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے اسے موت نہیں آئیگی۔

پھر یہ آیت پڑھی:

(وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل)
اس سے عمر کا سارا جوش ٹھنڈا پڑ گیا اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ گویا وہ اس طرف متوجہ ہی نہیں تھے کہ قرآن مجید میں ایسی کوئی آیت ہے ؟[11]

اس کے بعد ابو بکر اور عمر بن خطاب اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ سقیفہ بنی ساعدہ گئے انہیں یہ خبر ملی تھی کہ سقیفہ میں ایک ہنگامی جلسہ ہو رہا ہے جس میں رسولؐ کی وفات کے بعد خلافت کا مسئلہ حل کیا جائیگا۔ یہ لوگ حضرت علی بن ابی طالب ؑ کا منصوب ہونا بھول گئے اور یہ بھی بھول گئے کہ انہوں نے خلیفہ کے عنوان سے علی ؑ کی بیعت کی تھی ، ان لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ان کے اس عمل کو رسولؐ کے جنازہ کی بے حرمتی تصور کیا جائے گا۔

علی ؑ بن ابی طالب ؑ اور آپؐ کے اہل بیت رسولؐ کے جنازہ کی تجہیز و تدفین کے امور میں مشغول تھے، علی ؑ نے آپؐ کی قمیص اتارے بغیر غسل دیا، عباس بن عبد المطلب اور ان کے بیٹے فضل نے مدد کی ، غسل دیتے وقت علی ؑ فرماتے تھے:

’’بابی انت و امی ما اطیبک حیاً و میتاً‘‘[12]
میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور مرنے کے بعد بھی طیب و طاہر ہیں۔

پھر آپؐ کے جسد اقدس کو ایک تخت پر لٹا دیا ۔ علی ؑ نے فرمایا:

’’ ان رسول اللہ ؐ امامنا حیاً و میتاً فلید خل علیہ فوج بعد فوج فیصلون علیہ بغیر امام و ینصرفون‘‘۔
بے شک اللہ کا رسولؐ زندگی میں بھی ہمارا امام ہے اور مرنے کے بعد بھی لہذا دستہ دستہ بغیر امام کے نماز جناہ پڑھیں اور لوٹ جائیں، چنانچہ سب سے پہلے آپؐ کی نماز جنازہ حضرت علی ؑ اور بنی ہاشم نے پڑھی اور ان کے بعد انصار نے پڑھی۔[13]

اس کے بعد علی ؑ رسولؐ کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا:

’’سلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللّہ و برکاتہ، الّلھم انّا نشھد ان قد بلغ ما انزل الیہ و نصح لامتہ و جاہد فی سبیل اللّہ حتّی اعز اللّہ دینہ و تمت کلمتہ الّلھم فاجعلنا ممن یتبع ما انزل اللّہ الیہ و ثبتنا بعدہ و اجمع بیننا و بینہ‘‘۔
سلام اور خدا کی رحمت و برکات ہوں آپؐ پر اے نبی ؐ ، اے اللہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے ہر اس چیز کی تبلیغ کی جو تونے ان پر نازل کی ، اپنی امت کو نصیحت کی اور راہِ خدا میں جہاد کیا یہاں تک کہ خدا نے اپنے دین کو عزت بخشی اور اس کی بات پوری ہو گئی۔ اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو ان چیزوں کا اتباع کرتے ہیں جو تونے ان ؐ پر نازل کی ہیں اور ان کے بعد ہمیں ثابت قدم رکھ ہمیں اور انہیں یکجا کر دے۔ اس پر لوگوں نے آمین کہا۔ پھر دوسرے مردوں نے ان کے بعد عورتوں نے اور سب کے بعد لڑکوں نے آپؐ کے جنازہ پر نماز پڑھی۔[14]

آپؐ کی قبر اسی حجرہ میں تیار کی گئی جس میں آپؐ نے وفات پائی تھی۔ جب حضرت علی ؑ نے آپ ؐ کو قبرمیں اتارنا چاہا تو دیوار کے پیچھے سے انصار نے ندا دی۔

اے علی ؑ ! ہم آپ کو خدا کا واسطہ دیتے ہیں رسولؐ کے بارے میں ہمارا جو حق ہے آج وہ حق ہاتھ سے جا رہا ہے اس کام میں ہم میں سے بھی کسی کو شریک کر لیجئے تاکہ رسولؐ کے امور دفن میں ہم بھی شریک ہو جائیں حضرت علی ؑ نے فرمایا: اوس بن خولی شریک ہو جائیں یہ بنی عوف سے تھے اور بدری تھے۔

علی ؑ قبر میں اترے ، رسولؐ کے چہرہ کو کھولا، آپؐکے رخسار کو خاک پر رکھا اور قبر کو بند کر دیا۔رسولؐ کے دفن اور نمازِ جنازہ میں وہ صحابہ شریک نہیں ہوئے جو سقیفہ چلے گئے تھے۔

اے اللہ کے رسولؐ ! آپ پر سلام ہو جس دن آپؐ پیدا ہوئے ، جس دن وفات پائی اور جس دن زندہ اٹھائے جائیں گے۔

[1] سیرت نبویہ ج۲ ص۹۵۴، طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۲۱۵۔

[2] صحیح بخاری کتاب العلم باب کتابۃ العلم و کتاب الجہاد، باب جوائز الوفد۔

[3] طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۲۴۴، کنز العمال ج۳ ص۱۳۸۔

[4] صحیح بخاری کتاب العلم ج۱ ص۲۲ و ج۲ ص ۱۴، الملل و النحل ج۲ ص ۲۲، طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۲۴۴۔

[5] بحار الانوار ص ۴۶۹ ج۲۲۔

[6] اعیان الشیعۃ ج۱ ص ۲۹۴، صحیح بخاری باب مرض النبی ؐ۔

[7] آل عمران: ۱۴۴۔

[8] طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۲۴۷، تاریخ کامل ج۲ ص ۲۱۹۔

[9] نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۷۔

[10] تاریخ کامل ج ۲ ص ۳۲۳، طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۲۶۶، سیرت نبویہ، زینی دحلان ، ج۲ ص ۳۰۶۔

[11] طبقات الکبریٰ ج۲ ص۵۳ و ۵۶۔

[12] سیرت نبویہ ، ابن کثیر ج۴ ص ۵۱۸۔

[13] ارشاد ج۱ ص ۱۸۷، اعیان الشیعۃ ج۱ ص ۲۹۵۔

[14] طبقات الکبریٰ ج۲ ص ۲۹۱۔

ماخوذ از کتاب منارہ ہدایت ج۱

.......

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram