سابق وزیر خارجہ کمال خرازی:

دہشت گردوں کی افغانستان منتقلی میں امریکہ اور جنوبی خلیج فارس کی ریاستوں کا کردار

دہشت گردوں کی افغانستان منتقلی میں امریکہ اور جنوبی خلیج فارس کی ریاستوں کا کردار

اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق وزیر خارجہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ دہشت گرد افغانستان، شمالی افریقہ اور وسطی ایشیا ہجرت کرکے بدامنی پھیلا سکتے ہیں / خلیج فارس کی جنوبی ساحلی ریاستیں اور امریکہ افغانستان سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی منتقلی میں کردار ادا کررہے ہيں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق وزیر خارجہ اور خارجہ تعلقات کی تزویری کونسل کے سربراہ سید کمال خرازی نے اسلام آباد میں کے پالیسی تحقیقات مرکز [The Institute of Policy Studies Islamabad (IPS)] میں "عالمی اور علاقائی صورت حال کی نسبت ایران کے نقطہ نگاہ" کے عنوان سے منعقدہ نشست سے خطاب کیا۔

کمال خرازی کے خطاب کے اہم نکات:

۔ دنیا میں حالیہ چند عشروں کے دوران غیر متوقعہ واقعات رونما ہوئے ہیں اور ہر واقعے نے اپنے الگ الگ اثرات مرتب کئے ہیں؛ ان ہی واقعات میں سے ایک 1979 میں ایران کا اسلامی انقلاب تھا جس نے علاقائی اور عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ سوویت یونین کی شکست و ریخت اور سرد جنگ کے خاتمے نے بھی دنیا دو قطبی حالت سے نکل کر یک قطبی حالت سے دوچار ہوئی؛ لیکن امریکہ کی خواہش اور ارادے کے برعکس ـ جو سمجھ رہا تھا کہ دنیا کا غیرمتنازع حکمران بن رہا ہے ـ ایک بار پھر دنیا ایک بار پھر کثیر القطبیت کی طرف گئی اور علاقائی طاقتوں نے زیادہ اہم کردار سنبھالا اور آج یہ طاقتیں امریک خواہشوں کے بغیر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

۔ ایشیا میں چین اور بھارت جیسی نئی معاشی طاقتیں ظہور پذیر ہوئیں، مشرق وسطی میں حالیہ برسوں میں عرب انقلابات رونما ہوئے اور ان انقلابات کی وجہ سے علاقے اور دنیا کی سطح پر تکفیری دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑت اور علاقہ عدم استحکام کا شکار ہوا۔

۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی برکت سے ایران امریکہ سے وابستگی اور امریکی پالییسیوں کی پیروی سے آزاد ہوکر ایک خودمختار ملک میں تبدیل ہؤا۔ ایران نے فلسطینی عوام کی حمایت کو میں سر فہرست رکھا نیز اسلامی اور علاقائی ممالک کے ساتھ دوستی کو اپنی خارجہ پالیسی اپنی ترجیح قرار دیا۔ ایران مغرب کے لئے  ـ جغرافیائی تزویری (Geostrategic) اور جغرافیائی سیاسی (Geopolitics) لحاظ سے ـ بہت اہم تھا چنانچہ ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد مغربی ممالک نے اس ملک کے خلاف مختلف النوع سازشیں کیں، آٹھ سالہ جنگ مسلط کی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بھاری اور شدید پابندیوں کا انتظام کیا، لیکن چونکہ ایران کے قائدین اور عوام اپنے منتخب راستے اور مکتب پر ایمان کامل رکھتے تھے چنانچہ انھوں نے ان تمام ساشوں کے آگے مزاحمت کی۔

۔ امریکہ اور اسرائیل نہ صرف اسلامی جمہوری نظام کو شکست دینے میں کامیاب نہ ہوسکے بلکہ آج تک ان کے تمام منصوبے بری طرح شکست کھا چکے ہیں۔

۔ آج اسلامی جمہوریہ ایران بدستور مضبوط اور استوار کھڑا ان سازشوں کا مقابلہ کررہا ہے۔

۔ اگرچہ سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کی شکست و ریخت مختصر سی مدت تک مغرب ـ بالخصوص امریکہ ـ کی خوشنودی کا باعث بنی لیکن تھوڑا ہی عرصہ بعد دنیا میں نئی طاقتیں نمودار ہوئیں اور دنیا کی واحد بڑی طاقت کا کردار ادا کرنے کی امریکی خواہش برباد ہوگئی۔ ایک طرف سے چین اور روس کا قریبی تعاون اور دوسری طرف سے چین کی تیز رفتار ترقی کا سد باب کرنے کے لئے امریکہ اور بھارت کے درمیان کی قربت، بھی وہ نئے حالات ہیں جن سے ایشیا کو گذرنا پڑ رہا ہے۔

۔ آج امریکی صدر کی پالیسیاں یورپی پالیسیوں سے متصادم ہیں جس کی وجہ سے یورپ پر سرگردانی کی کیفیت طاری ہے: وہ نہ تو اپنے حلیف امریکہ سے الگ ہوسکتے ہیں اور نہ ہی ٹرمپ کی تباہ کن پالیسیوں کے ساتھ ہمآہنگ ہوسکتے ہیں؛ اور اس صورت حال نے چین اور روس کو مزید باہمی قربتوں کا موقع فراہم کر دیا ہے۔

۔ اسی سمت میں، علاقے میں بھی کچھ حرکتیں ہورہی ہیں۔ ایران امریکیوں کی معاندانہ پالیسیوں سے نمٹتے ہوئے، اپنے مفادات کو چین اور روس کے ساتھ زیادہ قریبی تعاون میں دیکھتا ہے، بایں وجود اپنی سیاسی خودمختاری کی بنا پر یورپ، بھارت اور پاکستان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔

۔ پاکستان جنوبی ایشیا کا اہم ملک اور مغرب کا حلیف سمجھا جاتا تھا لیکن اس نے بھی چین کے ساتھ زیادہ قربت اور روس کے ساتھ تعلقات کی بہتری کا راستہ اپنایا ہے، جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ بھی اپنے تعلقات تزلزل کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔
۔ خلیج فارس کی جنوبی عرب ریاستیں ـ امریکہ سے مزید وابستگی اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی نیز علاقے کے ممالک میں بحران سازي اور مداخلت کی ـ پالیسی پر گامزن ہوچکی ہیں۔ اور ان کی اس پالیسی نے علاقے میں عدم استحکام کی صورت حال کو مزید ناخوشگوار بنا دیا ہے۔

۔ سنہ 2011 سے عرب تحریکیں شروع ہوئیں، عربی تحریکوں کا آغاز شمالی افریقہ سے ہؤا اور خلیج فارس کی جنوبی ریاستوں تک پہنچیں؛ ان تحریکوں نے علاقے میں عدم استحکام اور تزلزل کو جنم دیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی؛ تیونس اور مصر کی حکومتیں زوال پذیر ہوئیں تو ان دو ملکوں اور علاقے میں عدم استحکام کی صورت حال اور اقتدار کا خلا پیدا ہؤا؛ اس صورت حال میں دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کو وسعت ملی اور امریکہ اور علاقے میں اس کے حلیفوں نے دہشت گرد اور تکفیری دہشت ٹولوں کو عسکری تربیت دی، انہیں مسلح کیا اور تقویت پہنچا دی اور شام میں بھجوا کر وہاں کی قانونی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں میں مصروف ہوئے۔ دہشت گرد ٹولوں کو دنیا بھر کی مساجد و مدارس میں انتہاپسندانہ اور تکفیری تعلیمات حاصل کرنے والے نوجوانوں کی بھرتی میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور عظیم عسکری تنظیمیں تشکیل دیں؛ صرف داعش نے 80 ہزار کی فوج تشکیل دی جن میں 800 ممالک سے آئے ہوئے 20 ہزار بیرون ملکی نوجوان شامل تھے۔ اس فوج نے شام اور عراق کے وسیع حصوں پر قبضہ جمایا، ان ممالک کی حکومتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لئے سرگرم عمل رہی۔

۔ اس صورت حال میں شام اور عراق کی قانونی حکومتوں نے ایران سے مدد مانگی اور ایران نے ان کی مدد کی کیونکہ دہشت گرد ٹولوں کی پیشقدمی کا براہ راست تعلق ایران کی قومی سلامتی سے تھا اور دہشت گرد ایران کی سرحدوں کے قریب آپہنچے تھے۔

۔ ایران نے شام اور عراق کی قومی سلامتی اور ارضی سالمیت کے تحفظ کی غرض سے ان ممالک کی حکومتوں کی مدد کی۔ ایران نے ان حکومتوں کی مدد کی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ دہشت گرد ٹولے ان ملکوں میں کامیاب ہونے کی صورت میں ایران سمیت پورے علاقے بلکہ پوری دنیا کے لئے کیا کیا مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

۔ عراق اور شام میں دہشت گرد تنظيموں کی شکست کے باوجود یہ توقع بےجا ہوگی کہ تکفیری دہشت گردی پوری دنیا سے رخصت ہوجائے گی؛ بلکہ خدشہ ہے کہ وہ نئے سانچوں میں ڈھل کر نئے نام اختیار کرکے اپنی دہشت گردانہ اور پریشان کن کاروائیاں جاری رکھیں گے اور افغانستان اور شمالی افریقہ اور وسطی ایشیا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں منتقل ہوکر  بدامنی پھیلائیں گے۔

۔ بدقسمتی سے موصولہ رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیج فارس کی بعض جنوبی ساحلی ریاستیں امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو افغانستان سمیت مختلف ملکوں کی طرف منتقلی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔

۔ افسوس کا مقام ہے کہ تکفیری دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی قربانیوں کو ہمارے دشمن توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں؛ وہ اپنی وسیع تشہیری مہم میں اس جدوجہد کو علاقے کے استحکام کے خلاف ہونے والے اقدامات کا نام دے رہے ہیں؛ گوکہ بہت سی حکومتوں اور دنیا بھر کے عوام نے اس حقیقت کو بخوبی سمجھ لیا ہے کہ دشمن ایران پر الزام لگا رہے ہیں تا کہ وہ دہشت گردی کے حامی ملکوں کے طور پر اپنے جرائم کو چھپا سکیں؛ دوسری طرف سے دہشت گردی کے حامی اور علاقائی استحکام کو درہم برہم کرنے والے ممالک امریکہ کو کھربوں ڈالر بطور خوشامد ادا کررہے ہیں تاکہ اپنی تخریبی پالیسیوں کے لئے امریکی حمایت کے حصول سے مطمئن ہوجائیں۔

۔ دنیا کی تیز رفتار تبدیلیوں کے پیش نظر ضروری ہے کہ علاقے کے خودمختار ممالک باہمی تعاون کے ذریعے علاقائی استحکام میں مدد دیں۔ جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے عمل کے میدان میں ثابت کرکے دکھایا ہے، دوسرے ممالک کے ساتھ دو طرفہ یا چند فریقی تعاون کے دائرے میں، علاقے کے مسائل حل کرنے اور امن و استحکام کے قیام میں مدد دینے کے لئے تیار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram