ایران مخالف امریکی پابندیاں شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام

ایران مخالف امریکی پابندیاں شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام

ایران کے خلاف دوسرے مرحلے کی امریکی پابندیاں شروع ہونے سے پہلے ہی شکست سے دوچار ہو گئی ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: ٹرمپ نے رواں برس آٹھ مئی کو ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکل جانے اور ایران کے خلاف پابندیاں اگست اور نومبر میں دوبارہ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا-

ان پابندیوں کو دو مرحلوں میں یعنی نوے روز سے ایک سو اسّی روز کے اندر عائد کئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا- چنانچہ امریکی پابندیوں کے پہلے مرحلے کا نفاذ چھے اگست سے شروع ہوا تھا اور ایران مخالف امریکی پابندیوں کا دوسرا مرحلہ پانچ نومبر دو ہزار اٹھارہ سے شروع ہوا ہے-

ان پابندیوں میں ایران کے تیل کو بھی خاص طور سے نشانہ بنایا گیا ہے- اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے اتوار کو دعوی کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کی ہیں- ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف پابندیاں بہت ہی سخت ہیں اور یہ اب تک کی سب سے سخت پابندیاں ہیں جو ایران پر لگائی گئی ہیں-

امریکی وزیرخزانہ اسٹین منوچین نے بھی ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے موقع پر دعوی کیا ہے کہ یہ نئی پابندیاں ایران کو نیا ایٹمی معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیں گی- امریکی وزیرخزانہ نے کہا کہ ایران مخالف پابندیوں کا مقصد ایران کے اقدامات اور رفتار میں تبدیلی لانا ہے اور ہم مستقبل قریب میں ایران کے تیل کی برآمدت کو صفر تک پہنچانے کی کوشش کریں گے-

ایران کے تیل کی برآمدات اور دیگرملکوں کے ساتھ ایران کے تجارتی اور اقتصادی معاملات نیز بینکنگ کے تعلقات کو نشانہ بنانے کا امریکی حکومت کا مقصد ایران کے اقتصاد اور معیشت کو تباہ کرنا ہے اور اس کام کے لئے امریکا ایران کے ساتھ وسیع تر اقتصادی جنگ کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے-

یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی وزیرخارجہ نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے معاملے میں واشنگٹن اکیلا پڑ گیا ہے- امریکی وزیرخارجہ مائیک پمپیئو نے سی بی ایس ٹیلی ویژن چینل سے اپنی گفتگو میں ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے بے سود ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ملکوں کو چاہئے کہ وہ ایران کے ساتھ تجارت بند کر دیں-

دوسری جانب یورپی ملکوں نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا ساتھ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کی حفاظت کریں گے- یورپی ملکوں کے اس موقف سے امریکا مزید عالمی سطح پر الگ تھلگ پڑ سکتا ہے اور یوں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جائے گا-

امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این نے کہا ہے کہ ایران مخالف امریکی پابندیوں کا یورپ کی جانب سے ساتھ نہ دیئے جانے سے امریکا کی ساکھ پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو گی- اس درمیان جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خزانہ نے یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کو جاری رکھنے کے لئے یورپ نے ایک نیا مالیاتی سسٹم قائم کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس میں کافی پیشرفت ہو چکی ہے-

یورپی ملکوں کا کہنا ہے کہ اس مالیاتی سسٹم کے قیام کا مقصد امریکی پابندیوں کے دوران ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنا ہے-

.......

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram