سعودیوں کی ہرزہ سرائیوں کا رد عمل؛

اقوام متحدہ میں ایران کے دائمی مندوب کا سعودیوں کو انتباہ

اقوام متحدہ میں ایران کے دائمی مندوب کا سعودیوں کو انتباہ

غلام علی خوشرو نے کہا: سعودی عرب اپنی جنگ پسندانہ پالیسیاں ترک کردے / سعودی حکمرانوں نے دہشت گردی کی خفیہ حمایت کو اعلانیہ مہم جوئیوں میں بدل دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے دائمی مندوب غلام علی خوشرو نے نیویارک میں ایرانی ذرائع ابلاغ کے نمائندو‎ں سے بات چیت کرتے ہوئے یمن کے جوابی حملوں کے حوالے سے ایران کے خلاف سعودیوں کے بھجوائے ہوئے خط پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: دنیا جانتی ہے کہ یمن سعودیوں اور امریکیوں کے مکمل محاصرے میں ہے اور وہاں میزائل بھجوانا ممکن نہیں ہے؛ سعودی حکمران گذؤتہ تین برسوں سے بھوک، افلاس، بیماریوں اور جنگ کو یمن کے غیر عوام پر مسلط کرچکے ہیں، یمن کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرچکے ہیں اور اس کے باوجود انہیں کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے اور اب پنے جنگی جرائم چھپانے کے لئے مظلومیت کی اداکاری کرتے ہوئے ایران کے خلاف بےبنیاد الزامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔  
انھوں نے کہا: ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور ہمارے خیال میں یمن کا واحد راہ حل سیاسی ہے؛ ہم نے اس سلسلے میں کئی منصوبے بھی جنگ کے فریقوں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور یمن میں ان کے ایلچی کو پیش کئے ہیں اور ایران سیاسی عمل میں کردار ادا کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔
انھوں زور دے کر کہا: سعودی عرب مہم جوئیوں کو ترک کرے اور اپنے پڑوسی ملک کے عوام کے حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے اس ملک کے ساتھ وسیع البنیاد تعمیری مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ یمن پر سعودی حملے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی سعودیوں نے یمن میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ایران کے خلاف خط و کتابت کا  سہارا لیا ہے جبکہ عالمی برادری حقائق سے بخوبی آگاہ ہے۔
خوشرو کا کہنا تھا: سعودیوں نے مہم جوئیوں اور ناتجربہ کاریوں کی بنا پر یمن کے کروڑوں عوام کو بیماریوں اور وبا سے دوچار کیا ہے اور یمن پر بمباریاں کرکے وہاں کے بچوں اور شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا: ہم سعودی عرب سے چاہتے ہیں کہ جلد از جلد اپنے اقدامات کو بند کرے اور امن کے ایسے عمل میں شامل ہوجائے جس میں یمنی عوام کے حقوق کا پاس رکھا گیا ہو؛ سعودیوں کے اقدامات نہ صرف یمن میں امن قائم نہیں کرسکے ہیں بلکہ یمن میں داعش اور القاعدہ کو تقویت پہنچائی ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب نے سعودی عرب کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا: سعودی ان ہتھیاروں کو یمن کے بےگناہ اور نہتے عوام کے خلاف استعمال کررہے ہیں؛ بڑی طاقتیں یمنی عوام کے قتل عام میں براہ راست ملوث ہیں، اور یہ ایک خطرناک رویہ ہے۔
انھوں نے کہا: ہم تلقین کرتے ہیں کہ عالم اسلام اور عالمی برادری سعودی عرب پر دباؤ ڈالیں کہ وہ برادرکُشی کا سلسلہ بند کرے اور امن و سلامتی یمن میں پلٹ آئے۔
انھوں نے کہا: سعودی پالیسیوں کو فوری طور پر بدل دینا چاہئے؛ سعودی حکمران آخر کار مان گئے ہیں کہ کئی عشروں سے انتہاپسندی اور تشدد پسندی کو ترویج دیتے رہے ہیں؛ لیکن بدقسمتی سے اپنی اس عظیم اور طویل المدت غلطی سے عبرت حاصل نہیں کرسکے ہیں اور تشدد پسندی اور دہشت گردی کی خفیہ حمایت کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اعلانیہ مہم جوئیاں کرکے جنگ کی آگ بھڑکانے میں مصروف ہیں اور تشدد اور جنگ کو ہوا دینے کی یہ دو رویہ پالیسی سعودی حکومت کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram