تیس راتیں، تیس نکتے

پانچویں رات / توحید عبادی، عبادت اور زیارت کے درمیان باریک سرحد

  • News Code : 833561
  • Source : ابنا خصوصی
Brief

پوری دنیا کے متدین لوگ چاہے وہ مسلمان ہوں، عیسائی ہوں یا یہودی ہوں یا کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے ہوں، اپنے بزرگوں اور رہنماوں کی قبروں کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ وہ اپنے مقدس مقامات پر حاضر ہوتے ہیں ان سے تبرک حاصل کرتے ان کی روضوں کا چکر کاٹتے اور ان کا بوسہ کرتے ہیں۔ کیا یہ کام عبادت ہے؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
قرآن کریم کی ایک تہائی آیتیں توحید سے مربوط ہیں اور تمام انبیاء اور مرسلین کی تبلیغ بھی عقیدہ توحید پر مبنی رہی ہے۔
توحید کے مقابلے میں شرک ہے، یعنی خدائے واحد کے لیے شریک قرار دینا۔ شرک دنیا میں سب سے بڑا گناہ ہے اور تنہا ایسا گناہ ہے جو بخشا نہیں جا سکتا۔ لہذا توحید اور اس کی اقسام( توحید ذاتی، توحید صفاتی، توحید افعالی اور توحید عبادی) کو پہچانیں تاکہ شرک جلی یا شرک خفی سے محفوظ رہیں۔
ان اقسام میں زیادہ تر لوگ توحید افعالی اور توحید عبادی کے حوالے سے شرک خفی میں آلودہ ہو جاتے ہیں۔
توحید عبادی
گزشتہ اقسام میں تحریر کیا کہ خداوند عالم یکتا ہے، اس کا کوئی شریک اور مثل نہیں ہے اور عالم ہستی میں اس کے علاوہ کوئی موثر اور تاثیر گزار نہیں ہے صرف وہ ہے جو زندہ کرتا ہے پروان چڑھاتا ہے رزق عنایت کرتا ہے اور موت دیتا ہے، اور کائنات میں رخ پانے والے تمام امور اسی کی قدرت سے وجود پاتے ہیں۔
لہذا صرف وہ عبادت کے لائق ہے اور صرف اسی کے آگے رکوع و سجود کرنا جائز ہے۔

دوسرے لفظوں میں:
۔ معبود وہ ہوتا ہے جو خالق اور پیدا کرنے والا ہو لہذا صرف خداوند عالم ہے جو خالق ہے؛ "اعبُدُوا اللَّـهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْض ـ اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی تمہارا معبود نہیں اس لیے کہ وہ ہے جو تمہیں زمین سے وجود عطا کرتا ہے۔( سورہ ھود، آیہ ۶۱)
معبود وہ ہوتا ہے جو رب اور پالنے والا ہو لہذا صرف خداوند عالم ہے جو رب ہے؛ "ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُو، یہ ہے تمہارا پروردگار اور پالنے والا، اسکے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ (سورہ انعام، آیت ۱۰۲)
معبود وہ ہوتا ہے جو الوہیت اور خدائی رکھتا ہو اور اپنے کاموں میں مطلقا طور پر مستقل ہو کسی کا محتاج نہ ہو لہذا صرف خداوند عالم ہے جو خدائی رکھتا ہے؛ "اعْبُدُوا اللَّـهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ ــ اس اللہ کی عبادت کرو جس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں۔ (سورہ اعراف، آیت ۵۹)
معبود وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں انسان کی زندگی، موت اور آغاز و انجام ہو، لہذا خداوند عالم ہے جو زندہ کرنے والا اور موت دینے والا ہے؛ "قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي شَكٍّ مِّن دِينِي فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلَـٰكِنْ أَعْبُدُ اللَّـهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِين۔ کہو اے لوگو! اگر تم میرے عقیدے میں شک کرتے ہو تو میں خدا کے علاوہ ان کی پرستش نہیں کرتا جن کی تم کرتے ہو، میں صرف اس خدا کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں موت دیتا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مومنین میں سے رہوں۔ (سورہ یونس، آیہ ۱۰۴)
کیا ہم معصومین علیہم السلام کی عبادت کرتے ہیں؟!
پوری دنیا کے متدین لوگ چاہے وہ مسلمان ہوں، عیسائی ہوں یا یہودی ہوں یا کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے ہوں، اپنے بزرگوں اور رہنماوں کی قبروں کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ وہ اپنے مقدس مقامات پر حاضر ہوتے ہیں ان سے تبرک حاصل کرتے ان کی روضوں کا چکر کاٹتے اور ان کا بوسہ کرتے ہیں۔ کیا یہ کام عبادت ہے؟
مذکورہ سوال کا جواب واضح ہے۔ اگر کوئی زائر کسی مقدس قبر کے مقابلے میں اس عقیدہ کے ساتھ جھکے کہ وہ خالق ہے رب ہے خدا ہے یا خدا کی کسی مخصوص صفت کا مالک ہے، تو یقینا اس نے مخلوق کی پرستش کی ہے اور وہ مشرک ہے۔ جیسا کہ مکہ کے مشرک اپنے بتوں کو ’’الہ‘‘ کے نام سے خطاب کرتے تھے اور انکے لیے الوہیت کے صفات کے قائل تھے۔
اگر بزرگوں کی قبروں پر حاضری دینا، محبت، اکرام اور تعظیم کے لیے ہو تو نہ صرف شرک نہیں ہے بلکہ ایک نیک عمل اور عقل و شرع کے مطابق جائز امر ہے۔ جیسا کہ انسان اپنے ماں باپ کے سامنے احترام سے جھکتا اور ان کا احترام کرتا ہے جو خود خدا کے حکم کے مطابق ہے۔
لہذا عبادت اور زیارت کے درمیان ایک باریک سرحد پائی جاتی ہے جو توحید کو شرک سے الگ کرتی ہے اور وہ سرحد عقیدہ اور نیت ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنے عقائد کی تصحیح کریں اور نیت کو خالص کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Mourining of Imam Hossein
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram