ہاں اسکا نام سجاد تھا

  • News Code : 860753
  • Source : ابنا خصوصی
Brief

سچ ہے کہ ایسے ساجد کو سید الساجدین کہا جائےاسی لئے آج تک اس پہ سجدے ناز کرتے ہیں کہ وہ حقیقت میں محض ایک ساجد نہیں سجاد تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

بقلم: مولانا سید نجیب الحسن زیدی
چلچلاتی دھوپ  تپتاصحرا، سورج سوا نیزے پر لوگ سورج ڈھلنے کا انتظار کر رہے ہیں کہ کچھ تپش کم ہو تو باہر نکلا جائے ایسے میں ایک نوجوان تنہا و اکیلا بیابانوں و صحراوں سے گزرتا تپتے ہوئے چٹیل میدانوں کو پیچھے چھوڑتا چلا جا رہا ہے راستہ میں کسی بزرگ کا سامنا ہوا اے نوجان اتنی دھوپ میں کہاں چلے جا رہے ہو وہ بھی اکیلے و تنہا ؟...
جواب: بیت اللہ کی زیارت کے لئے.
لیکن ابھی تو تمہاری عمر دیکھ کر لگتا ہے کہ تم پر حج واجب بھی نہیں ہوا؟
جواب: کیا آپ نے مجھ سے بھی زیادہ ایسے چھوٹوں کو نہیں دیکھا جو اس دنیا سے چھوٹے ہونے کے بعد بھی چلے گئے ؟
بزرگ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا
کچھ دیر خاموشی.......
             
 اچھا ٹھیک ہے لیکن یہ بتاو کہ سفر حج پر یوں ہی نکل پڑے کچھ زاد راہ کا انتظام تو کیا ہوتا؟
جواب: میری زاد راہ پرہیز کاری ہے، میرا مرکب میرے یہ دونوں پیر ہیں، مقصد و منزل خدا ہے، کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی خدا کا مہمان ہوا ہو اور خدا نے اس کی میزبانی میں کوئی کسر چھوڑی ہو؟...

میں تاریخ سے پوچھا یہ نوجوان کون تھا جو خدا کی میزبانی کے سلسلہ سے اتنا پر اعتماد تھا گو کہ اسے دیکھ رہا ہو
جواب ملا ، سجاد ...
                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب بھی کھانا کھایا اپنی والدہ گرامی سے علیحدہ، کسی نے پوچھا کہ آپ تو اپنی ماں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں پھر دستر خوان پر کیوں ساتھ نہیں بیٹھتے؟
جواب تھا : ڈرتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی لقمہ کو ماں اٹھانا چاہتی ہو اور میں اٹھا لوں۔
میں نے تاریخ کی ورق گردانی کی آخر یہ کون تھا جو اپنی ماں کے ساتھ محض اس لئیے کھانا نہیں کھاتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو لقمہ ماں نے اٹھاناچاہا ہےمیرا ہاتھ اس پر چلا جائے؟  جواب جو سامنے آیا وہ تھا ۔ سجاد۔۔۔
                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوڑھ کا مریض اکیلا و تنہا رہتا تھا کوئی اس کے پاس جانے کو تیار نہیں ایسے میں ایک شخص روز آتا کچھ دیر بیٹھتا مریض کے ساتھ باتیں کرتا حال چال پوچھتا ضرورت کا سامان لا کر دیتا اور بغیر نام بتائے چلا جاتا۔
  میں نے پھر جستجو کی یہ کون تھا جواب ملا. سجاد---
                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے غلام کو آواز دی ، کوئی جواب نہیں آیا پھر آواز گونجی غلام! کوئی جواب نہیں، آواز تھوڑی اونچی ہوئی غلام کتنی دیر سے بلا رہا ہوں کیا آواز نہیں سنی؟
غلام نے جواب دیا: سنی آقا! لیکن اس لئے فورا جواب نہیں دیا کہ دیر سے بھی جواب دونگا تو آپ مواخذہ نہیں کریں گے .....

بارگاہ الہی میں سجدہ ریز: مالک تیرا شکر ہے میرے غلام بھی میرے بارے میں غلط تصور نہیں رکھتے اور میری ذات سے انہیں نقصان پہنچنے کا خطرہ نہیں ہے.
 ایک بار پھر میرے ذہن میں سوال آیا یہ کون تاریخ نے جواب دیا سجاد....
               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احرام باندھنے کی نیت کی، اونٹ سے نیچے آتے ہی لوگوں نے دیکھا کہ اسکے چہرہ کا رنگ زرد ہو گیا بدن لرزنے لگا، لبیک کہنے کی کوشش کی لیکن آواز ہونٹوں کے درمیان دب کر ٹوٹ گئی۔
کسی نے کہا یہ کیا حالت ہے ؟ جواب دیا ڈرتا ہوں میں لبیک کہوں اور ادھر سے آواز آئے لا لبیک ولا سعدیک ، کافی دیر بعد ہمت بندھی خدا سے رازونیاز کیا اور اب لگا  کہ اس قدر دعاء و راز ونیاز کے بعد تو لبیک کہا جا سکتا ہے ایک تھرتھرائی ہوئی آواز نکلی لبیک ۔۔۔ اس کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ وہ شخص زمین پر گر کر بے ہوش ہو گیا۔
میں پھر سوالی تھا کون ؟ جواب ملا سجاد....
               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔سردیوں میں گرم لباس کی ضرورت کے پیش نظر گرم و ضخیم لباس خریدا، گرمیوں کا موسم آیا جو لباس ابھی پچھلی سردیوں میں خریدا تھا کہا اسے بیچ دو اور پیسہ کسی فقیر کو دے دو۔ یا اللہ یہ کون سخی ہے؟ جواب سجاد....
               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ۱۱ محرم ہے صحرائے کربلا میں شہدا کے لاشوں کے ٹکڑے ہیں ، پامال لاشے ہیں، رات کی تاریکی  چاند کی مدھم روشنی میں کچھ لوگ لاشہ ھای شہدا کو دفن کرنے کے قصد سے آئے ہیں، لیکن لاشیں اس طرح  پامال ہیں کہ پتہ نہیں چل رہا کسی کی لاش کونسی ہے ایسے میں ایک سوار آتا ہے کیا کرر ہےہو،؟
جواب: شہدا کے لاشوں کو دفن کرنے آئے ہیں، بنی اسد کے قبیلہ سے ہیں۔
آؤ میرے ساتھ ، یہ دیکھو ، حبیب کی لاش ہے ، یہ مسلم بن عوسجہ ، یہ ظہیر قین ، یہ سعید ، یہ عابس ، یہ بریر ، یہ جون ، ایک ایک کی لاش کی شناخت کرائی پھر سبکو دفن کیا ایک اور لاش پر پہنچا لاش پر خود کو گرا دیا گریہ کی آواز سے کربلا کا مقتل بھی رویا پھر لحد میں لاش کو اتارا قبر تیار کی ایک جملہ لکھا ھذا قبر حسین ابن علی الذی قتلوہ عطشانا  ۔۔ کسی نے پوچھا اے سوار نام تو بتاتا جا کون ہے ؟
ایک نحیف سی آواز : سجاد....
               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وضو کرتا تو بدن کانپنے لگتا، چہرہ کا رنگ زرد ہو جاتا، کسی نے پوچھا کہ یہ چہرہ کا رنگ کیوں پیلا ہے ؟
جواب: کیا نہیں دیکھ رہے کس کے حضور میں کھڑے ہونے جا رہا ہوں اور کس سے گفتگو کا ارادہ ہے ؟ مالک آخر یہ تیرا کیسا بندہ ہے جسکی خشیت کا یہ عالم ہے کہ  تیرے حضور میں آنے کا ہی سوچ کر کانپ اٹھتا ہے
جواب آیا سجاد ۔۔۔۔۔۔
               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹھا ہوا تھا لوگوں کے حلقہ میں ایک شخص آتا ہے اور جو کچھ زبان پر آیا بک کے چلا جاتا ہے اسکی ہرزہ سرائی کا جواب صرف یہ کہ گردن جھکا لی۔
جب گردن اٹھائی تو بدزبانی کرنے والے شخص سے صرف اتنا کہا جو کچھ تونے کہا ہے اگر وہ باتیں میرے اندر ہیں تو خدا سے طلب مغفرت کرتا ہوں اور اگر نہیں ہیں تو ان تہمتوں پر جو تونے لگائی ہیں خدا تجھے معاف کرے،  میں نے سوال کیا آخر اتنے بڑے دل کا مالک بھی کوئی بندہ ہو سکتا ہے؟
جواب آیا ہاں!  سجاد ...
               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی دنبے کو ذبیح ہوتے دیکھا رک کر پوچھا بھائی کیا اسے پانی پلا دیا تھا؟
جواب: ہم اپنے دنبوں کو بغیر پانی پلائے ذبح نہیں کرتے.
گریہ کی آواز..... ہائے میرا بابا پیاسا شہید کر دیا گیا...... ،
آخر یہ کون ہے جو اپنے بابا کو یاد کر کے دھاڑیں مار کر رو رہا ہے؟
  کسی نے روتے ہوئے جواب دیا سجاد....  ۔
               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کی تاریکی ہے ایک تاریک کوچے میں ایک شخص اپنی پیٹھ پر بوجھ لادے چلا جا رہا ہے راستہ میں کوئی آشنا ملا ،بھائی یہ اتنا سارا بوجھ اٹھاکر کہاں جا رہے ہو اتنی رات میں؟
جواب: سفر پر نکلا ہوں اور یہ زادِ  سفر ہے.
اچھا! اگر تم سفر پر ہی نکلے ہو تو میں نےتو تمہارے یہاں غلام دیکھے ہیں کسی غلام سے کہہ دیتے سامان سفر اٹھا کر منزل پر پہنچا دیتا۔
جواب :" میں اپنے بوجھ کو دوسروں پر نہ ڈال کر خود ہی اپنے بار کی سنگینی کو محسوس کرنا چاہتا ہوں"
چند دنوں کے بعد وہی آشنا پھر ملتا ہے ،پھر دیکھا کہ کل جسکی پیٹھ پر بوجھ تھا آج پھر ہے۔
سوال: کیا اس دن سفر پر نہیں گئے تھے؟
مسکرا کر جواب دیا، میرا سفر وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو میری مراد سفرآخرت ہے اور وہ جو بوجھ تھا وہ مستحقین کا حق تھا ،حرام سے دوری اور نیک کاموں کی انجام دہی کے ذریعہ ہر ایک کو سفر آخرت کے لئیے تیار رہنا چاہیے۔
مالک ! یہ کون تیرا بندہ ہے جو اس رات کی تاریکی میں جب لوگ اپنے نرم بستروں پر محو خواب ہیں تیرے بندوں کی پرسان حالی کے لئیے نکلتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے انکی ضرورت کا سامان و آذوقہ ان تک پہنچاتا ہے؟
جواب ملا  سجاد....
                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کی آوازیں تو مدینہ میں کسی نہ کسی گلی سے آتی ہی تھیں لیکن ایک گلی ایسی تھی جس کے ایک گھر سے آنے والی آواز اتنی نورانی ہوتی کہ آہستہ آہستہ پوری گلی بھر جاتی سننے والوں کا ایک اژدہام ہوتا۔ اِدھر کئی دنوں سے یہ آواز اب نہیں آتی تھی اور نہ ہی اس گلی میں پہلے کی سی چہل پہل ، آخر کون تھا جو اتنے دلنشین انداز میں قرآن پڑھتا ؟
 ایک ہی آواز سجاد....
                 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کی تاریکی میں سارے فقراء مل کر ایک چبوترے پر بیٹھ جاتے اور کسی آنے والے کا انتظار کرتے جو آکر انکے پاس کچھ دیر بیٹھتا انہیں روٹیاں دیتا اور بغیر نام بتائے چلا جاتا کسی کو خبر نہیں کہ کون ہے وہ مسیحا جو روز آکر انہیں کھانا دیتا، ۲۵محرم کو کوئی نہ آیا سارے فقیر بیٹھے آنے والے کی راہ تکتے رہے لیکن کوئی نہ آیا انکی آنکھیں ایک دوسرے سے سوال کر رہی تھیں کہ آخر وہ کون تھا جو آتا تھا اور ہم جیسے بھوکوں کے کھانے کا انتظام کرتا تھا اس کا نام کیا تھا ؟ وہ کس خاندان سے تعلق رکھتا تھا ؟ آج کیوں نہیں ۔ادھر مدینہ کی گلیوں میں ایک جنازہ تھا جو انکے جواب کی صورت اپنی دائمی منزل کی طرف گامزن تھا ، اور مدینہ کی گلی کوچوں سے آواز آ رہی تھی سجاد سجاد سجاد ....
              ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۲ مرتبہ حج کیا لیکن ایک تازیانہ بھی اپنے ناقے کو نہیں مارا جب زہرِ دغا سے شہادت ہوئی تو ناقہ مرقد پر آکر لوٹنے لگا یہ کس کی قبر ہے ؟ اسکی قبر ہے جس نے ناقہ کو ایک تازیانہ نہیں لگایا آخر یہ کون تھا؟
جواب:آخر وہ تازیانہ کیسے لگاتا جس نے اپنی چار سالہ بہن کی پشت پر تازیانے و دروں کے نشاں دیکھے ہوں کہیں یہ وہی تو نہیں جو کبھی تلاوت قرآن کرتا تو مدینہ کے لوگ اسکی آواز کو سننے جمع ہو جاتے ، کبھی غریبوں کے پاس ملتا ،کبھی یتیموں اور فقیروں کے ؟ یہ وہی تو نہیں تھا جسکا شام میں یہ مرثیہ تھا
اقاد ذَلیلاً فِی دمِشْقُ كَأنَّنِی
مِنُ الزَّنْجِ عُبًدُّ غابُ عُنْه نَصِیزه
وُ جُدُّی‌ رُسول‌ اللهِ فی‌كلَّ مُشْهُدٍ
وُشیخی أمیر‌المؤمنینُ وُ زِیره
فَیالَیًتَ أمُّی لَم‌تَلِدً وَ لَمً اَكنً
یُرانِی یُزید فِی‌الْبِلادِ اَسیره.....

 واقعات و حوادث زنجیر کے حلقوں کی صورت میرے سامنے ہیں میرے پورے وجود پر لرزہ طاری ہے اور میں پیکر خاموشی بنا تاریخ کے آئینہ میں ایک ایسے قیدی کو دیکھ رہا ہوں جس کی گردن میں طوق گرانبار ہے جسکے ہاتھوں میں ہتھکڑی ہے جسکے پاوں میں بیڑی ہے لیکن اس کے باوجود بھی شام کے زندان میں سر کو سجدے میں رکھ کر وہ آواز دے رہا ہے   ۔
عبیدک بفنائک، مسکینک بفنائک، فقیرک بفنائک، سائلک بفنائک.»
ایسے میں میرے  دم  بخودو بےحس وحرکت وجود میں ایک حرارت آتی ہے
اورآنکھوں سے آنسووں کے چند قطرے رخساروں پر ڈھلکتے ہوئے آواز دیتے ہیں
 ۔۔۔اس قیدی کو سجاد کے نام سے جانا جاتا ہے
 ۔سچ ہے کہ ایسے ساجد کو سید الساجدین کہا جائےاسی لئے آج تک اس  پہ سجدے ناز کرتے ہیں کہ وہ حقیقت میں محض ایک ساجد نہیں سجاد تھا۔
 جی ہاں اسکا نام سجاد تھا .....
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram