گھاٹے کا سودا

  • News Code : 862956
  • Source : ابنا خصوصی
Brief

جب ضمیر بیدار ہوتا ہے تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے سامنے کسی مختار وقت کی تلوار ہوتی ہے اس کے آگے لپکتے ہوئے جہنم کے شعلے کتنا گھاٹے کا سودا یہ ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

ابن زیاد کو اس کے شہر میں پھیلے ہوئے مخبر اطلاع دیتے ہیں بنت علی ؑ کے آتشیں خطبوں کی بدولت کوفے کے لوگ حقائق کی تہہ تک پہنچ رہے ہیں... حکومت کے خلاف کبھی بھی بغاوت ہو سکتی ہے ، لوگ اپنے کئیے پر پشیمان ہیں اور سلیمان بن صرد خزاعی جیسے لوگ عملی توبہ کی صورت قاتلین امام حسین علیہ السلام کے خلاف قیام کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ ابن زیاد شاطر زمانہ  رہ چکے زیاد بن ابیہ کا بیٹا ہے تیز طرار ہے جوان ہے اور آنے والے خطرہ کو بھانپنا اس کی وہ خصلت ہے جس کے سب معترف ہیں سمجھ رہا ہے کہ دیر یا زود سید الشہداء کا کربلا کی زمین پر گرنے والا لہو زنجیر بن کر اسے جکڑ لیگا اور کوئی راہ فرار نہ ہوگی لہذا اپنے مشیروں کے ساتھ بیٹھتا ہے پریشان ہے، گھبرایا ہوا ہے حکومت تو ہاتھ سے پھسلتی صاف صاف دکھ ہی رہی ہے ساتھ ہی یہ بھی نظؓر آ رہا ہے کہ کس طرح انتقام حسینی کے شعلے اسے جلا کر راکھ کر دیں گے کوئی چارہ کار تلاش کرناضروری ہے.
                  .......
 دیکھتا ہے کہ پسر سعد دربار میں موجود ہے ۔سمجھ گیا حکومت رے کا پروانہ لینے آیا ہے ۔ ابن زیاد کی مکاریوں سے واقفیت برملا کرتی ہے کہ اسکے ذہن میں کیا چل رہا ہے '' بہت خوب کچھ ایسا کرتا ہوں کہ یہ پسر سعد مجرم قرار پائے اور قتل حسین کا دھبہ میرے دامن پر نہ آنے پائے اور ہے بھی ایسا ہی میں تو کوفہ میں تھا حسین ع کے مقابل قرار پانے والے لشکر کا سردار تو عمر سعد ہی تھا اور اسی نے جنگ کا فرمان صادر کیا تھا اسی کی فوج نے حسین کے ۷۲ جانثاروں کو چند گھنٹوں میں تہہ تیغ کر دیا ،اور یہ کوفی لوگ تو بہت سادے ہیں جسکی حکومت ہوتی ہے اس کی بات مانتے ہیں اور ڈرتے بھی اسی سے ہیں اس سے پہلے کہ پسر سعد اپنے پیر اور مضبوط کرے ضروری ہے کہ اسے ہی اپنی سپر بنالیا جائے میں ایسا کر سکتاہوں کہ لوگوں میں یہ مشہور کرادوں کہ عمر سعد نے حکومت کی خاطر ملک ری کی خاطر میرے حکم سے سرپیچی کرتے ہوئے میرے منع کرنے کے باجود حسین ع و اصحاب حسین ؑ  کو کربلا میں شہید کر دیا جبکہ میں آخری وقت تک صلح کا خواہاں تھا لیکن...... یہ تو تب ہوگا جب میرے خلاف کوئی ایسا ثبوت نہ  ہوجس سے ثابت ہوتا ہو کہ قتل حسین ؑ کا حکم نامہ میں نے ہی صادر کیا تھا ، ماتھے پر پسینہ کے قطرے ہیں وجود لرز رہا ہے اب کیا ہو؟ حکم تو میں نے ہی دیا تھا میں نے ہی تو وہ مکتوب پسر سعد کو لکھا تھا کہ اگر اس نے یہ کام انجام دیا تو اسکے عوض حکومت رے کا مالک ہوگا ، نہیں تو یزید بن معاویہ کی جانب سے حکومت ری کے وعدہ پر مشتمل  تحریر واپس کر دے  تو کیا بہتر ہوگا کہ پسر سعد سے
یہی حکم نامہ لے لیا جائے اور قتل حسین ؑ کا اصل مجرم قرار دے کر خود کو بچا لیا جائے اسکا مطلب ہے اگر یہ حکم نامہ میرے ہاتھ میں آ جائے تو کوفیوں کے وجود میں پلنے والے جذبہ انتقام سے خود کو بچا سکتا ہوں ۔

              ......
 ہاتھ میں شراب کا جام لئیے نظریں پسر سعد پر پڑتی ہیں دربار میں آواز گونجتی ہے مرحبا فاتح ایران کے بیٹے لشکر اسلام کے عظیم سورما سعد ابن ابی وقاص کے شجاع بیٹے ابن سعد  آو مل کر تمہاری کامیابی کا جشن مناتے ہیں آو خوشی کا موقع ہے ہر طرف تمہاری بہادری کے چرچے ہیں مل کر کچھ جام پتیے ہیں.
             .......

 ۔دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جاموں کو ٹکرا کر منھ سے لگاتے ہیں ابن زیاد پسر سعد سے نزدیک ہوتا ہے ، سرگوشی ہوتی ہے میں نے تمہیں جو حکومت ری کے وعدہ کے ساتھ قتل حسین ؑ پر مشتمل حکم نامہ
دیا تھا وہ ہے تمہارے پاس ؟ ذرا مجھے دے دو اس کی ضرورت ہے ؟ جیسے ہی یہ بات پسر سعد کے کانوں میں پڑتی ہے جام ہاتھوں سے گر جاتا ہے یہ تو بعینہ وہی بات ہے جو میں سوچ رہا تھا  میں نے بھی تو یہی سوچا ہوا تھا کہ کوفے میں ہمارے خلاف ہوتی ہوئی رائے عامہ کبھی بھی ایسی بغاوت کی شکل اختیار کر سکتی ہے کہ ہمارا وجود خطرے میں پڑ جائے میرے ذہن میں بھی تو یہی خیال تھا کہ حکومت رے کا پروانہ ملتے ہی سیدھا نکل جاؤنگا اس سر زمین سے جہاں کے لوگوں کا پتہ نہیں کب کس کو حکومت پر بٹھا دیں کب کسے نیچے گرا دیں کب کس کی بیعت کریں کب بیعت توڑ دیں ایسے میں عافییت تو اسی
میں ہے کہ یہاں سے بہت دور ملک رے کی طرف نکل لیا جائے اور جاتے جاتے ابن مرجانہ کا قتلِ حسین پر مشتمل حکم نامہ سرداران قبائلِ  کوفہ کو دکھایا جا سکے کہ اصل قتل حسین کا حکم دینے والا یہی ہے اور میرے پاس تو اتنے گواہ بھی ہیں جو گواہی دے سکیں کہ آخر وقت تک میں اس کام سے پیچھے ہٹ رہا تھا لیکن ابن زیاد ہی کے اصرار کی وجہ سے اس مصیبت میں گرفتار ہوا  لیکن اب پسر سعد کے
پیروں سے زمین کھسکنے لگتی ہے جس حکم نامہ کی بنیاد پر وہ کوفے سے محفوظ باہر نکل سکتا ہے وہی حکم نامہ ابن زیاد کے ذہن میں بھی چل رہا ہے ۔ گوکہ مکار ہی مکار کی حیلہ گری میں گرفتار ہوتا ہے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے کہتا ہے: لیکن امیر وہ حکم نامہ جو تم نے مجھے دیا تھا جنگ کے دوران کہیں مجھ سے گم ہو گیا ....۔
ابن زیاد کی آواز گونجتی ہے پسر سعد وہ حکمنامہ مجھے ہر حال میں چاہیے ،ابن زیاد کی سفاکیت سے واقف ہے پسر سعد اس سے پہلے کہ انتقام حسینی کے خونین طوفان میں غرق ہو ابن مرجانہ کی حیلہ گری کا شکار ہو سکتا ہے لہذا پینترا بدلنے میں ہی عافیت ہے امیر ، کوشش کرتا ہوں کہ کہیں سے ڈھونڈ نکالوں اور تیری خدمت میں پہنچاوں  میں نے شاید کسی محفوظ جگہ پر رکھ دیا تھا لیکن ابھی یاد نہیں؟ .

ابن زیاد کی آواز.... جیسے بھی ہو یہ حکم نامہ مجھے فورا چاہیے!
ٹھیک ہے  امیر! اجازت دے کہ فورا اسے جا کر تلاش کروں ...۔
جاو جہاں ملے لے کر آو...(۱)
                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر سعد ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح قصر سے باہر نکلتا ہے اسے گندم تو کیا وہ جو بھی نہیں مل سکی(۲) جسکی خاطر اس نے اتنا بڑا جرم انجام دیا اسے اچھی طرح پتہ چل چکا ہے  حکومت ری اور اس کی ذات کے درمیان بہت فاصلہ ہے اور قتل حسین ؑ جیسی جسارت بھی اسے ری تک نہیں پہنچا سکتی ۔وہ سوچ رہا تھا کتنی جلدی حسینؑ کی بدعاء قبول ہو گئی(۳) اوردنیا کی حقیقت اس کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کے پانی کی صورت واضح تھی اسے اس حقیقت کا علم ہو چکا تھا کہ ملک رے کو اسے بھول ہی جانا چاہیے۔  یہ تو دنیا و آخرت دونوں ہی میں گھاٹے کا سودا ہو گیا  وہ بھی کتنا گھاٹے کا پسر سعد سر
جھکائے کوفہ کی طرف نکل پڑا  ملک ری اس کی پہنچ سے دور تھابہت دور اور اگر نزدیک بھی ہوتا تو اس لائق نہ تھا کہ نواسہ رسول کے قتل کا سودا اس سے کیا جاتا  ادھار ونقد کے  چکر میں پڑ کر وہ کتنا خسارہ کا سودا کر بیٹھا تھا  یہ اسکے تھکے ہوئے ان بوجھل قدموں سے سمجھا جا سکتا ہے جو آگے بڑھاتا وہ جہنم کی سمت رواں تھا اور اس کے پاس اب کوئی اور راستہ نہیں تھا بس ایک ہی راستہ تھا جو جہنم کی طرف جا رہا تھا اور اسی راستہ پر اسے اسی دنیا میں ایک مختار سے بھی روبرو ہونا(۴) تھا اور اسی دنیا میں ایک مختار کے جہنم سے گزر کر دائمی جہنم کا سفر طے کرنا تھا۔پسر سعد کے جہنم کی طرف بڑھتے قدم ان تمام لوگوں کے لئیے عبرت ہیں جو سلاطین زمانہ و حاکمان وقت کو خوش کرنے کی خاطر اپنے ضمیر کو تھپک کر سلا دیتے ہیں اور جب ضمیر بیدار ہوتا ہے تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے سامنے کسی مختار وقت کی تلوار ہوتی ہے اس کے آگے لپکتے ہوئے جہنم کے شعلے  کتنا گھاٹے کا سودا یہ ہے ۔

---------------------
حواشی:
 ۱-   قال عبید اللہ لعمر:  ائتنی بالکتاب الذی کتبتہ الیک فی معنی قتل الحسین و مناجزتہ،فقال: ضاع، فقال لتجیئتنی بہ،  اتراک معتذرا فی عجائز قریش " مثیر الاحزان،  ابن نما ص ۸۸   
 ۲- جب سید الشھدا نے پسر سعد سے کہا کہ تجھے حکومت تو کیا گندم بھی کھانا نصیب نہ ہوگا تو اس نے جواب دیا کہ میرے لئیے جو ہی کافی ہے. اسے حکومت ری نے بدحواس کر دیا تھا کہ یہ اشعار پڑھا کرتا: أترک ملک الری و الری منیة ام ارجع مذموما بقتل حسین وفی قتله النار اللتی لیس دونها حجاب و ملک الری قره عین .   
ابن‌اعثم، الفتوح، ج۵، ص۹۲-۹۳.
خوارزمی، مقتل‌الحسین، ج۱، ص۲۴۵.
۳-فَاِنَّكَ لا تَفْرَحُ بَعْدِي بِدُنْيا وَلااخِرَةٍ... ذَبِّحَكَ اللَّهُ عَلي فِراشِكَ عاجِلاً اِنِّي لاَرْجُو اَنْ لا تَأَكُلَ مِنْ برِّ العراق اِلا يسيراً». الامامة والسياسه، ج 2، ص 24
۴-بعض روایات کےبموجب پسر سعد ۹ ربیع الاول جناب مختار کے ہاتھوں واصل  جھنم ہوا.
مجلسی، زاد المعاد، ص۲۵۸
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram