دیوار کعبہ کی ابدی مسکراہٹ؛

کیا یہ حقیقت ہے کہ دیوار کعبہ ولادت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے وقت شکافتہ ہوئی تھی؟

کیا یہ حقیقت ہے کہ دیوار کعبہ ولادت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے وقت شکافتہ ہوئی تھی؟

یہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا معجزہ ہے کہ جو بھی نئی عمارت بنائی جاتی ہے وہی دیوار پھر بھی اسی نقطے سے شگافتہ ہوجاتی ہے اور وہ شگافتگی بہرصورت باقی رہتی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کعبہ میں پیدا ہوئے ہیں اور شیعہ ذرائع حدیث و تاریخ کے علاوہ اہل سنت کے معتبر ذرائع نے بھی اس اہم واقعے کا اعتراف کیا ہے۔ انھوں نے اس واقعے کو یہاں تک بھی بیان کیا ہے کہ "دیوار کعبہ پھٹ گئی، اور حضرت سید فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کعبہ میں داخل ہوئیں اور دیوار بند ہوئی اور پھر کچھ دن بعد دیوار اسی نقطے پر دوبارہ پھٹ گئی اور سیدہ اپنے مطہر نومولود کے ہمراہ باہر آئیں اور دیوار دوبارہ بند ہوگئی۔

یہ نکتہ قابل غور ہے کہ کعبہ کی عمارت ـ جس میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی ـ اسی دور میں ـ طلوع اسلام سے قبل ہی گر گئی اور دوبارہ بنائی گئی اور پھر کعبہ شریف کو؛
شام پر بنی امیہ کی حکمرانی اور حجاز شریف پر عبداللہ بن زبیر کی حکمرانی کے دور میں شہید کیا گیا:

ایک بار یزید بن معاویہ کے دور میں اسی کے حکم پر اس کے کارندے حصین بن نمیر نے کعبہ کو منجنیقوں کا نشانہ بنا کر کعبہ کو شہید کردیا. اور دوسری بار عبدالملک بن مروان کے حکم پر کوفہ اور بصرہ میں اس کے مقرر کردہ بدنام زمانہ خونخوار اور مجرم گورنر حجاج بن یوسف نے پھر بھی کعبہ کو منجنیقوں کا نشانہ بنا کر شہید اور پھر مسجد الحرام کے احاطے میں ہی عبداللہ بن زبیر کو قتل کردیا۔

سو کعبہ کی عمارت کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولادت کے بعد کئی بار ویراں اور پھر تعمیر کیا گیا ہے۔

بایں وجود ولادت مولائے کائنات کی ولادت کے لئے مسکرائی دیوار کعبہ اپنی مسکراہٹ کبھی نہیں بھولی۔



 یہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا معجزہ ہے کہ جو بھی نئی عمارت بنائی جاتی ہے وہی دیوار پھر بھی اسی نقطے سے شگافتہ ہوجاتی ہے اور وہ شگافتگی بہرصورت باقی رہتی ہے۔

 سابقہ زمانوں میں اور مقدس سرزمین پر خبیث وہابیت کی حکمرانی سے قبل، مکہ کے اشراف کی حکومت کے زمانے میں ـ جن میں سے بعض حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی ذریت میں سے تھے ـ اس شگاف کو چاندی سے بھر دیا گیا تھا اور شیعیان اہل بیت اور خاندان رسالت کے حبداروں کے لئے باعث افتخار و اعتزاز تھا؛ تاہم دیوار کی مسکراہٹ مٹانا ممکن نہیں ہے:

وہابیت تقریبا ایک صدی سے مکہ اور مدینہ پر مسلط ہے اور خبیث آل سعود نے اس عرصے میں خانہ کعبہ کے اس شگاف کو چھپانے کی بُہتیری کوششیں کی ہیں لیکن یہ شگاف بدستور باقی ہے اور وہ عاجز آچکے ہیں چنانچہ اب ان کی کوشش رہتی ہے کہ حج اور عمرہ کے دوران اس نقطے کے زائرین سے چھپایا جاتا ہے تا کہ شیعیان اہل بیت اپنے تحسین و عقیدت کا اظہار نہ کرسکیں لیکن دیکھنے والے پھر بھی اسے دیکھ لیتے ہیں۔

دیوار کعبہ کے اس نقطے کو مستجار کہا جاتا ہے۔

ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی ۔۔۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد حسین رجبی دوانی کے جواب سے ماخوذ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram