ولادت یا ظہور؟/ میں نے کعبہ میں ولادت پائی: امام علی(ع)

ولادت یا ظہور؟/ میں نے کعبہ میں ولادت پائی: امام علی(ع)

جو مؤمنین ولادت کو ظہور بولتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ اپنے امام کے کلام کی پیروی کریں اور وہی بولیں جو انھوں نے خود اپنے بورے میں فرمایا ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کچھ حضرات معصومین علیہم السلام کی ولادت کے لئے ظہور کا لفظ استعمال کرتے ہیں جو درحقیقت ایک قسم زیادہ روی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمہ علیہم السلام کی تعلیمات کے موافق نہیں ہے۔ ذیل میں چند مثالیں تشنگان دانش کے پیش خدمت ہیں:

منقول ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام مسجد کوفہ میں زخمی ہوئے تو صعصعہ بن صوحان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ سوالات پوچھے اور جوابات وصول کئے دیکھئے:

"... قال: أنت أفضل أم عيسى بن مريم؟ فقال: عيسى كانت امه في بيت المقدس فلما جاء وقت ولادتها سمعت قائلا يقول: اخرجي، هذا بيت العبادة لا بيت الولادة، وأنا امي فاطمة بنت أسد لما قرب وضع حملها كانت في الحرم، فانشق حائط الكعبة وسمعت قائلا يقول لها: ادخلي، فدخلت في وسط البيت وأنا ولدت به، وليس لأحد هذه الفضيلة لا قبلي ولا بعدي...؛ صعصعہ نے کہا: آپ بہتر ہیں یا عیسی بن مریم علیہ السلام؟ فرمایا: عیسی علیہ السلام کی ماں بیت المقدس میں تھی اور جب عیسی(ع) کی ولادت کے آثار نمودار ہوئے ہاتف سے آواز آئی ہے مریم! بیت المقدس سے نکل جاؤ، [اور اپنے بچے کو بیت المقدس کی حدود سے باہر جنم دو] کیونکہ یہ عبادت کا مقام ہے نہ کہ بچہ جننے کی جگہ؛ جبکہ میری والدہ فاطمہ بنت اسد کے ہاں جب میری ولادت کے آثار ظاہر ہوئے ـ جبکہ طواف کعبہ میں مصروف تھیں، دیوار میں دراڑ پڑ گئی اور سنا کہ ہاتف ندا دے رہا ہے: "خانہ خدا میں داخل ہوجاؤ"، میری والدہ داخل ہوئیں اور اور میں بیت اللہ کے وسط میں متولد ہؤا، اور کسی کو بھی مجھ سے پہلے اور میرے بعد یہ فضیلت نصیب نہیں ہوئی"۔

حوالہ: اللمعة البيضاء فی شرح خطبه الزهراء، التبريزي الأنصاري، ص220؛ الإمام علي بن أبي طالب علیه السلام، أحمد الرحماني الهمداني، ص 368 – 370.

۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: "وَأَنَا وُلِدتُ في المحل البعيد المرتقى"؛ فرمایا: اور میں ایک بلند مرتبہ مقام پر پیدا ہؤا۔

حوالہ: الفضائل، فضل بن شاذان بن جبرئيل القمي، ص 80؛ الإمام علي بن أبي طالب علیه السلام، أحمد الرحماني الهمداني، ص370، ح19.

۔ ابن شاذان اپنی کتاب "الفضائل" میں لکھتے ہیں:

"حدثني الشيخ الفقيه (أبو الفضل شاذان بن جبرئيل القمي) قال حدثني الشيح محمد بن أبي مسلم بن أبي الفوارس الدارمي، وقد رواه كثير من الأصحاب حتى انتهى إلى أبي جعفر ميثم التمار قال بينما نحن بين يدي مولانا علي بن أبي طالب علیه السلام بالكوفة وجماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله محدقون به كأنه البدر في تمامه بين الكواكب في السماء الصاحية إذ دخل عليه من الباب رجل طويل علية قباء خز أدكن متعمم بعمامة أتحمية صفراء وهو مقلد بسيفين فدخل من غير سلام ولم ينطق بكلام فتطاول الناس بالأعناق ونظروا إليه بالآماق وشخصوا إليه بالأحداق ومولانا أمير المؤمنين علي بن أبي طالب علیه السلام لا يرفع رأسه إليه فلما هدأت من الناس الحواس فحينئذ أفصح عن لسانه كأنه حسام جذب من غمده، ثم قال أيكم المجتبى في الشجاعة، والمعمم بالبراعة، والمدرع بالقناعة، أيكم المولود في الحرم، والعالي في الشيم، والموصوف بالكرم؟

 «فعند ذلك رفع أمير المؤمنين علیه السلام رأسه إليه فقال له علیه السلام يا مالك يا أبا سعد بن الفضل بن الربيع بن مدركة ابن نجيبة بن الصلت بن الحارث بن الأشعث بن السميمع الدوسي سل عما بدا لك؟ ... [8]»؛ اس کے بعد سر کو اٹھایا اور فرمایا: ای سعید بن فضل بن ربیع بن مدرکة بن نخبة بن صلت بن حرث بن اشعث بن ابی سمیمع؛ ابوجعفر میثم تمار کہتے ہیں: ہم کوفہ میں اپنے مولا امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھے تھے اور صحابہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کی ایک جماعت رات کی تاریکی میں چمکتے ستاروں کی طرح ـ جنہوں نے دمکتے چاند کا احاطہ کیا ہوتا ہے ـ امیرالمؤمنین(ع) کے کے گرد اکٹھے ہوگئے تھے، کہ اسی وقت ایک بلند قامت مرد خزّ کی گہرے رنگ کی قبا زیب تن کئے ہوئے، سر پر زرد رنگ کا پھولدار عمامہ سجائے، دو شمشیریں باندھے ہوئے، سلام کئے بغیر داخل ہؤا؛ کچھ بھی بولے بغیر؛ پس لوگوں کی گردنیں اس کی کھنچ گئیں، آنکھیں اس کے اوپر ٹہر گئیں اور سب اس کے سامنے کھڑے ہوگئے؛ جبکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام سر نہیں اٹھا رہے تھے اور توجہ نہیں دے رہے تھے۔ جب سب کے حواس پرسکون ہوئے تو وہ شخص نیام سے نکلتی ہوئی چمکتی تلوار کی مانند خاموشی کو توڑ کر گویا ہؤا اور کہا: اے لوگو! تم میں  سے وہ کون شخص ہے جو شجاعت میں برگزیدہ، فصاحت کا تاج سر پر سجائے ہوئے اور قناعت کا جامہ زیب تن کئے ہوئے ہے؛ کعبہ میں پیدا ہؤا ہے اور شرافت میں عالی مرتبہ، اور سخاوت اور کرم سے موصوف ہے؟ ۔۔۔ چنانچہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس کی طرف رخ کرکے فرمایا: اے مالک، اے ابا سعد بن فضل بن ربیع بن مدرکہ بن نجیبہ بن صلت بن حارث بن اشعث بن سمیمع الدوسی، پوچھ لو جو کچھ تمہیں پیش آیا ہے۔۔۔

حوالہ: الفضائل، فضل بن شاذان بن جبرئيل القمي، ص2-7؛ نوادر المعجزات، محمد بن جرير الطبري، ص34؛ بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، ج40، ص75، ح113؛ احقاق الحق و ازهاق الباطل، نورالله بن السيد شريف الشوشتري، ج8، ص726.

۔ آخری بات یہ کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ایک زیارتنامے میں ہم سب پڑھتے ہیں:

"الْمَوْلُودِ فِى الْكَعْبَةِ؛ سلام ہو آپ پر اے وہ جو کعبہ میں پیدا ہوئے"۔

حوالہ: المزار الكبير، ابن المشهدي، الشيخ ابو عبدالله محمد بن جعفر، ص256-257، زیارت نمبر 10، تحقيق: جواد القيومي الاصفهاني، مؤسسة النشر الاسلامي، الطبعة: الأولى 1419ه‍

بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، ج97، ص302.

۔ 10 رجب امام جواد علیہ السلام کا یوم ولادت ہے اور مفاتیح میں ماہ رجب کے اعمال کے پانچویں حصے میں واردہ دعا میں پڑھتے ہیں:

"اَللّهُمَّ اِنّى اَسئَلُكَ بِالْمَوْلُودَيْنِ فى رَجَبٍ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلىٍّ الثانى وَابْنِهِ عَلِىِ بْنِ مُحَمَّدٍالْمُنْتَجَبِ؛ اے معبود! میں تجھ سے سوالی ہوں ماہ رجب کے دو مولودوں "محمد بن علی الثانی اور علی بن محمد نقی علیہما السلام" کے صدقے۔۔۔"۔  

۔ امام رضا علیہ السلام نے امام ابو جعفر محمد بن علی التقی الجواد علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں فرمایا: "هَذَا الْمَوْلُودُ الَّذِي لَمْ يُولَدْ مَوْلُودٌ أَعْظَمُ بَرَكَةً عَلَي شِيعَتِنَا مِنْهُ؛ یہ وہی مولود ہے جو ہمارے پیروکاروں کے لئے اس سے زیادہ عظیم مولود پیدا نہیں ہؤا"۔ (الکافی، ج1، ص 321)

۔ چنانچہ جو مؤمنین ولادت کو ظہور بولتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ اپنے امام کے کلام کی پیروی کریں اور وہی بولیں جو انھوں نے خود اپنے بورے میں فرمایا ہے۔ ہمیں ان سے ایک قدم بھی آگے بڑھانے کی اجازت نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram