فدک اور آپ کی عدالت

  • News Code : 815675
  • Source : ابنا خصوصی
Brief

ان تمام باتوں کا لب لباب یہ ہے کہ فدک حضرت فاطمہ زہرا کی ملکیت میں تھی جسے حاکم وقت نے حکومت کے بل بوتے پر اپنے قبضہ میں تو لے لیا لیکن زندگی کے آخری لمحات تک یہ احساس جرم رہا کہ اے کاش ! دختر رسول کے ساتھ عادلانہ رویہ سے پیش آتا اور ان کے غیض وغضب کا شکار نہ ہوتا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
بقلم؛ عظمت علی
    پیغمبر اسلام کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک مقصد ظلم و بربریت کی نابودی تھی ۔اس وقت پوری دنیا میں اور خصوصا عرب کے حالات اس قدر دگر گوں اور بد حال تھے کہ لوگ انساینت کا درد نہیں سمجھ رہے تھے ۔اپنی ننھی کلی اورخاندان کے چشم و چراغ کو زندہ در گور کردیتے تھے ۔لیکن رسول خدا کی تبلیغ نے مردہ دلوں کوجلابخشی ۔لوگ پروانہ کی طرح شمع اسلا م کے گرد جمع ہوگئے ...! ان نو مسلم میں افراد میں کچھ توایسے تھے جو اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ نچھا ور کرنے کو ہمہ وقت آمادہ رہتے تھے ۔مگر انہیں کے درمیان کچھ ایسے نام نہاد مسلمان بھی تھے جن کے ظاہر سے اسلام کی بو آتی تھی لیکن باطن میں نفاقی زہر ہلاہل رکھتے تھے اور سرکار ختم المرسلین کی وفات کے بعد انہوں نے خانہ وحی پر آگ و لکڑیاں لے کر جمع کیں ...۔جناب سیدہ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے اور باغ فدک  کو بھی اپنی ملکیت بنا لیا۔
    باغ فدک ایک وسیع و عریض علاقہ تھا جو سر سبز و شاداب درختوں سے گھنا ہوا تھا ۔یہ ایک قیمتی خزانہ کی حیثت رکھتا تھا۔کیوں کہ خلیفہ اول نے جناب فاطمہ زہرا کے فدک کے مطالبہ پر یہی جواب دیاتھ کہ فدک رسول اسلام کامال نہ تھا بلکہ یہ عام مسلمانوں کی ملکیت تھی جس کی آمدنی کی حضور ،مجاہدوں اور راہ خدامیں خرچ کرتے ۔اس کی آمدنی کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جاسکتا ہے کہ جب معاویہ حاکم ہواتو اس نے فدک کو مروان بن حکم ،عمر ابن عثمان اور اپنے فرزندیزید کے درمیان تقسیم کردیا ۔(شرح ابن ابی الحدید جلد١٦ صفحہ ٢١٦)
    ظہوراسلام سے قبل یہ وسیع ترین علاقہ یہودیوں کے قبضہ میں تھا۔لیکن اسلامی کی پیش رفتی دیکھ کرانہوں نے اسے رسول خدا کو جنگ کئے بغیر دے دیاتھا ۔دین اسلام کے قوانین کی رو سے جو زمین بغیر جنگ کے ہاتھ آئے وہ خالص اللہ کے رسول کامال ہوتاہے ۔آپ نے''وآت ذی القربیٰ حقہ ''(سورہ اسراء ٢٦) نازل ہونے کے بعد اسے جناب فاطمہ زہرا کو بطور ہبہ عطاکر دیاتھا۔اس سلسلے میں بہت سی روایات ہیں ۔منجملہ :
    ابو سعید کہتے ہیں کہ جب یہ آیت 'وآت ذی القربیٰ حقہ '' نازل ہوئی تو بنی اکرم نے فاطمہ زہرا کوبلایا اور فدک عطا فرمادیا ۔(ینابیع المودة جلد ١ ۔٣صفحہ ١٤٢،منشورات :موسسة الاعلمی للمطبوعات ،بیروت ،لبنان )
    امام رضا فر ماتے ہیں :جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو نبی خدانے جناب سیدہ کو سے فرمایا:یہ فدک میں نے تمہارے اختیار میں قراردیدیا۔(مذکورہ حوالہ )
طولانی تحریر سے پر ہیز کرتے ہوئے صرف دو ہی روایات کا سہار الیا گیا ہے ۔مزید معلومات کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کی طرف رجوع کریں ۔
(کشف الغمہ جلد ٢صفحہ  ١٩٤،ناشر :الطباعة والنشر للمجمع العالمی لاھل البیت ،بیروت ،لبنان ٢٠١٢ء
فاطمة بھجة قلب المصطفیٰ ٣٩٦،طبع :موسسة البدر للتحقیق و النشر ١٤١٠ھ اورمسند ابو یعلیٰ جلد ٢ صفحہ ٧٥وغیرہ ۔ )
رسول اکرم کی رحلت ہوتے ہی شیطان اپنے پرانے ہم خیالوں کے دل و دماغ پر پھر سے حاوی ہوگیا اور حاکم وقت نے احکام اسلامی کاگلادبوج کر فدک کوجناب فاطمہ کی ملکیت سے خارج کردیا ۔جب آپ کو یہ خبر ملی کہ باغ فدک سے میرے کارندوں کونکال دیا گیا ہے تو آپ سراپا احتجاج بن کر مسجد النبی تشریف لے گئیں ...۔خلیفہ وقت نے الٹے سے آپ سے گواہ طلب کرلئے جبکہ قانون عدالت کے مطابق صدیقہ کوگواہ مانگنے چاہئے تھے ۔
     بہر کیف،آپ اپنے دو گواہوں:مولائے کائنات اور ام ایمن کے ہمراہ دربار خلافت تشریف لے گئیں ۔لیکن رسول کی جعلی حدیث کاسہارالے کر اس نے فدک واپس نہیں کیا ...۔حالانکہ تینوں شخصیات (جناب فاطمہ زہرا ،امام علی اور جناب ام ایمن )کے کردار روز روشن کی طرح درخشان ہیں ۔
    حضرت فاطمہ اوراما م علی کی عصمت اورپاکیزگی کی ضمانت خود اللہ نے لے رکھی ہے ۔جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہوتا ہے :''انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطرکم تطھیرا ً''
بس اللہ کاارادہ یہ ہے کہ اے اہل بیت کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کاحق ہے ۔(سورہ احزاب  ٣٣)
    شیعہ اورسنی دونو ں فرقوں کے علماء کرام نے اس بات کوتحریر کیاہے کہ مذکورہ آیت پیغمبر اکرم ،حضرت امام علی ،حضرات حسنین علیہما السلام اورجناب فاطمہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
    جناب عائشہ سے روایت ہے کہ ایک روز حضرت رسول خدا اپنے کندھے پر سیاہ اون کا بنا ہواکپڑا ڈالے بیت الشرف سے نکلے۔اس کے بعد حسن ،حسین ،فاطمہ اورعلی آئے اور اس کپڑے میں داخل ہوگئے ۔تب آپ نے فرمایا: ''انما یرید اللہ...(تفسیر در منثور جلد ٥ صفحہ ١٩٨،طبع :المکتبةالاسلامیة و مکتب جعفری ،طہران ،شارع بوذر جمہری و مکتبة اعتماد ،عراق ،کاظمیة ... )
جناب ام ایمن کی گواہی تنہاکافی تھی چونکہ آپ نے خلیفہ اول سے کہاتھا کہ تمہیں خدا کی قسم دیتی ہوں کہ کیا تم جانتے ہوکہ رسول خدا نے میرے سلسلے میں فرمایاتھا:''ام ایمن امراة من اھل الجنة ''ام ایمن خواتین جنت میں سے ایک ہیں ؟
جناب نے جواب دیا :ہاں ! اسی وقت بلافاصلہ آپ نے گواہی دی کہ جب یہ آیت ''وآت ذی القربیٰ حقہ ''نازل ہوئی تو رسول خدا نے فدک جناب فاطمہ زہرا کوھبہ کر دیاتھا۔(فاطمہ چہ گفت ؟مدینہ چہ شد ؟صفحہ  ٦٣٩،ناشر :سروش پریس ،تہران ٢٠٠٢ء )
    ...آخر کار فد ک اپنے حقیقی مالک تک پہونچ سکا اور خلیفہ اول نے بالکل عجیب سی روایت کاسہارا لیاکہ :''انا معاشر الانبیاء لانورث ماترکناہ صدقة ''(ناسخ التواریخ جلد ٣ صفحہ ١٢٣،ناشر :کتابفروشی ،تہران ،ایران )
حدیث غربت یا حدیث رسول اعظم؟
اگر حدیث ،رسول کی ہوتی تو اہل بیت کے نزدیک اس کاتذکرہ ضرور پایاجاتا اور جناب فاطمہ ،امام علی اور ام ایمن کے ہمراہ اپنے حق کامطالبہ نہ کرتیں ۔  اگرحدیث صحیح السند ہوتھی توخلیفہ کو صدقہ کے عنوان سے اس کے مستحقین تک پہونچانے میں کوئی قدم اٹھانا چاہئے تھا۔
مذکورہ حدیث کے غلط ہونے پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آیت قرآنی سے موافق نہیں ہے اور خود رسول اسلام کاارشاد گرامی ہے کہ اگر میری کوئی حدیث قرآن سے ٹکراجائے تو اسے دیوار دے مارو۔
پرور دگا ر عالم ارشاد فرماتا ہے :''وورث سلیمٰن دائو'' اور پھر سلیمان دائود کے وارث ہوئے ۔(سورہ نمل ١٦)
دوسرے مقام پر حضرت زکریا اللہ سے یوں دعا گوہیں :''فھب لی من لدنک ولیا یرثنی ویرث من آل یعقوب واجعلہ رضیا''تو اب مجھے ایک ایسا ولی اوروارث عطا فرمادے جو میرااور آل یعقوب کا وارث ہو اورپر وردگار اسے اپنا پسندیدہ بھی قرار دینا ۔(سورہ مریم  ٥اور٦)
    اب دو ہی صورتیں نظر آتی ہیں یا تو مذکورہ حدیث کوطاق نسیاں کے حوالہ کردیں کیونکہ وہ آیات قرآنی سے موافقت نہیں رکھتی یا پھر سید الانبیاء کی احادیث میں تضاد اورٹکرائو کے قائل ہوجائیں جبکہ ایسا ممکن ہی نہیں چونکہ آپ بغیر وحی الٰہی کے کوئی کلا م ہی نہیں کر تے ۔
اب!اگر حادیث کے الفاظ حضر ت ختمی مرتبت کے ہوتے تووہاں موجود مہاجر اورانصار اس کی تائید تو کرتے ...!
چونکا دینے والی بات تو یہ ہے کہ ابھی یہی کوئی دوہفتہ کی بات ہے کہ ہونے والے خلیفہ دوم نے اپنے لئے صرف کتاب الٰہی کوکافی جاناتھا جس کی تائید میںخود خلیفہ اول بھی خاموش رہے اورچند روز میں عقیدہ بدل ڈالا...!!!
    ان تمام باتوں کا لب لباب یہ ہے کہ فدک حضرت فاطمہ زہرا کی ملکیت میں تھی جسے حاکم وقت نے حکومت کے بل بوتے پر اپنے قبضہ میں تو لے لیا لیکن زندگی کے آخری لمحات تک یہ احساس جرم رہا کہ اے کاش ! دختر رسول کے ساتھ عادلانہ رویہ سے پیش آتا اور ان کے غیض وغضب کا شکار نہ ہوتا...۔(صحیح مسلم ْْْْجلد ٣ باب کلام النبی ''انا لانورث کے ذیل میں )
لیکن
 عمر تو ساری کٹی عشق بتاںمیں مومن
آخری وقت میں کیاخا ک مسلمان ہوں گے
تمام تاریخی گواہوں اورثبوتوںکے بعد ْْْْ اب !!!
آپ کی عدالت آپ کافیصلہ !
Rascov205@gmail.com    

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


متعلقہ مضامین

اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram