یمن میں سعودی اتحاد کے دو سو فوجیوں کی ہلاکت

یمن میں سعودی اتحاد کے دو سو فوجیوں کی ہلاکت

یمنی فوج نے مغربی صوبے الحدیدہ کے ساحلی علاقوں میں جاری جھڑپوں کے دوران سعودی اتحاد کے دو سو سے زائد فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ دوسری جانب بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف نے الحدیدہ میں انسانی صورت حال اور اسپتالوں میں زیرعلاج بچوں کی صورت حال کے حوالے سے خـبردار کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یونیسیف کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ الحدیدہ کے الثورہ اسپتال کےاطراف میں، جہاں انسٹھ بیمار اور زخمی بچے زیر علاج ہیں، دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

بیان کے مطابق اس اسپتال میں زیرعلاج انسٹھ میں سے پچیس بچے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ہیں اور ان کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ الحدیدہ تک پہنچنے والے راستوں کی بندش یا تباہی کی صورت میں اس علاقے میں انسانوں کی المناک موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اقوام متحدہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ مغربی صوبے الحدیدہ میں جنگ کے شدت اختیار کر جانے کے باعث ساڑھے پانچ لاکھ یمنی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت چودہ ملین یمنی شہریوں کو بھوک مری کا سامنا ہے۔
دوسری جانب یمن کی مسلح افواج کے ترجمان برگیڈیئر جنرل یحیی سریع نے بتایا ہے کہ الحدیدہ میں جاری جنگ کے دوران سعودی اتحاد کے دو سو فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
سعودی اتحاد نے جون دو ہزار اٹھارہ سے یمن کے صوبے الحدیدہ پر قبضے کے لیے شدید زمینی، فضائی اور سمندری حملے شروع کیے تھے تاہم ابھی تک اسے اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
الحدیدہ بحیرہ احمر میں واقع ایک اسٹریٹیجک بندرگاہ ہے اور جنگ زدہ ملک یمن میں انسانی امداد کی منتقلی کا واحد راستہ ہے جبکہ یمن کے لیے ستر فی صد غذائی امداد اسی راستے سے ارسال کی جاتی ہے۔
جنگ یمن میں انسانی سانحات کے حوالے سے عالمی اداروں اور تظیموں کے پے درپے انتباہات کے باوجود بہت سے مغربی ممالک سعودی عرب کی سرکردگی میں قائم فوجی اتحاد کو بدستور ہتھیار اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔
سعودی عرب نے امریکہ کی شہ پر متحدہ عرب امارات اور چند دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر مارچ دو ہزار پندرہ میں یمن کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا تھا۔
چوالیس ماہ سے جاری سعودی جارحیت میں اب تک چودہ ہزار سے زائد یمنی شہری شہید اور لاکھوں دیگر بے گھر ہو چکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram