حکومت نبوی کے ڈھانچے میں یہودی اثر و رسوخ

حکومت نبوی کے ڈھانچے میں یہودی اثر و رسوخ

پیغمبر اسلام(ص) کی صحت یکایک اور خلاف معمول ناساز ہوئی۔ اگر اسامہ بن زید اس جنگ میں کامیاب ہوجاتے تو قدس کی طرف یہودیوں کے مضبوط پشتے منہدم ہوجاتے اور دوسری طرف سے یہود کی شکست کے ساتھ ہی مدینہ میں منافقین کو بھی شکست ہوتی اور یہودی اپنی آخری امید بھی کھو جاتے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

رسول اللہ(ص) کی شہادت

معتبر روایات کے مطابق، اللہ کے پیارے رسول(ص) شہادت پا کر رحلت فرما گئے ہیں۔[۱] کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آنحضرت نے اس زہر کے نتیجے میں شہادت پائی جو غزوہ خیبر کے دوران ایک یہودی عورت نے بکری کے گوشت میں ملا کر آپ کو کھلایا تھا،[۲] جبکہ اس تصور میں سقم پایا جاتا ہے؛ اور وہ یہ کہ جنگ خیبر اور رسول اللہ(ص) کی شہادت کے درمیان چار سال کا عرصہ حائل ہے، اور یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا زہر کے اثر کرنے میں چار سال کا عرصہ لگا ہے؟ چنانچہ یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ رسول اللہ(ص) کی شہادت کا باعث ہونے والے زہر کا خیبر سے کوئی تعلق ہو۔ شاید تاریخ میں تحریف کرکے لفظ “خیبر” کا اضافہ کیا گیا ہو، تا کہ تاریخ کی بھول بھلیوں میں کسی نشان پا کو مٹایا جاسکے۔

رسول اللہ(ص) کی شہادت بہت اہم اور حساس ایام میں واقع ہوئی۔ بالکل اسی وقت جب آنحضرت نے جیشِ اسامہ کو تیار کرو الیا تھا کہ موتہ کی طرف عزیمت کرکے اس علاقے میں مسلمانوں کی سابقہ مہم کی شکست کا ازالہ کرے۔ پیغمبر اسلام(ص) کی صحت یکایک اور خلاف معمول ناساز ہوئی۔ اگر اسامہ بن زید اس جنگ میں کامیاب ہوجاتے تو قدس کی طرف یہودیوں کے مضبوط پشتے منہدم ہوجاتے اور دوسری طرف سے یہود کی شکست کے ساتھ ہی مدینہ میں منافقین کو بھی شکست ہوتی اور یہودی اپنی آخری امید بھی کھو جاتے۔ چنانچہ یہودی پیغمبر(ص) کے ہاتھ فتح قدس کا راستہ روکنے کے لئے سرگرم ہوئے۔ اگر پیغمبر صرف ایک ماہ تک بقید حیات رہتے اور یہ سپاہ حرکت میں آتی تو یہود کی موت یقینی تھی۔ اسی بنا پر مدینہ کے منافقین نے اپنی اور یہود کی بقاء کی خاطر پیغمبر(ص) کو زہر کا جام پلایا۔[۳]
دو رُخے یہودی

سطورِ بالا میں کہا گیا کہ یہودیوں نے پیغمبر کے مقابلے کے لئے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبے کا تعین کیا تھا:

۱۔ پیغمبر(ص) کی ولادت کا راستہ روکنا یا پھر آپ کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا۔

۲۔ رسول خدا(ص) کی قدس تک رسائی کے راستوں میں استحکامات اور رکاوٹیں قائم کرنا؛ موتہ میں رسول خدا(ص) کی آخری کاروائی آپ کی شہادت کی وجہ سے رک گئی۔

۳۔ اگر پیغمبر اسلام(ص) حکومت قائم کریں تو اس میں اثر و رسوخ پیدا کیا جائے۔

اب تک ہم نے یہودی کاروائی کے اول الذکر دو مراحل کی طرف اشارہ کیا ہے، اور پیغمبر(ص) کے حکومتی نظام میں یہودی اثر و رسوخ کی کیفیت کا جائزہ لیتے ہیں۔

یہودیوں کے پاس اسلام کے بارے میں جامع معلومات تھیں؛ وہ نہ صرف نبی اکرم(ص) کے بارے میں،[۴] سب کچھ جانتے تھے بلکہ آپ کے جانشینوں کے بارے میں بھی معلومات اپنی کتب میں جمع کئے ہوئے تھے؛ حتی کہ آخرالزمان کے نجات دہندہ کے بارے میں معلومات بھی دانیال، ارمیا، حزقیل اور اشعیا کی کتابوں میں بیان ہوئی تھیں۔ وہ جانتے تھے کہ رسول اللہ(ص) کی رسالت آپ کے جانشینوں کے ذریعے جاری رہے گی۔ چنانچہ اگر ایک پرچم موتہ میں گر چکا تھا تو یقیناً علی(ع) کے ہاتھوں دوبارہ لہرایا جاتا اور وہ اس کاروائی کو جاری رکھتے اور قدس کو فتح کرکے ہی سکھ کا سانس لیتے اور اس صورت میں یہ پیغمبر(ص) ہی تھے جو قدس کو فتح کر دیتے۔ چنانچہ اگر علی(ع) بھی کسی سرزمین کو فتح کرتے، تو وہ سرزمین کبھی بھی مسلمانوں کے ہاتھوں سے نہ نکلتی۔ اگر وہ نبی اکرم(ص) کو موتہ میں روکنے میں کامیاب ہوئے بھی تھے، تو علی(ع) پیغمبر(ص) کے بعد فتح قدس کا نبوی مشن پورا کرلیتے اور بہرحال یہودیوں کو شکست ہوتی۔ چنانچہ ضروری تھا کہ ان حالات کے لئے بھی کچھ تدبیر کرتے۔ اس گرہ کو ـ ان کے کارندوں کو رسول اللہ(ص) کے نظام حکومت میں رسائی دلانے کے بغیر ـ کھولنا ممکن نہ تھا۔

یہودیوں نے مسلمانوں کی حکومت میں اثر و رسوخ پانے کے لئے ایک جماعت کو منظم کرکے حکومت نبوی کے مختلف شعبوں میں متعین کرایا۔ یہ جماعت ـ جس کے بعض اراکین کو منافقین کے عنوان سے جانا جاتا ہے ـ وہ لوگ تھے جو بظاہر اسلام لاچکے تھے لیکن ان کے دل میں اسلام کے لئے کوئی عقیدت نہیں پائی جاتی تھی اور پیکر اسلام پر ضرب لگانے کے لئے مناسب موقع کی تلاش میں تھے۔ یہ افراد ایک طرف سے پیغمبر(ص) کے قریب آئے تاکہ آپ کے بعد حکومتی نظام میں کسی عہدے اور منصب کے مالک بن سکیں اور دوسری طرف سے ایک تنظیم بنا چکے تھے جس میں ایسے لوگوں کو جگہ دی گئی تھی جو ان کے ہم فکر تھے تاکہ وہ پیغمبر(ص) کے بعد اقتدار کے حصول کے لئے ان کی حمایت کریں۔ اس طرح یہود نے منافقت کی تہہ در تہہ جماعت منظم کرکے اسلام میں تحریف و انحراف کا منصوبہ بنایا۔

خداوند متعال نے بہت سی آیات کریمہ میں ان لوگوں کی سرزنش کی ہے اور ان کے صفات بیان کی ہیں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق، ان میں سے کئی لوگ بھیس بدل کر ظاہری طور پر اسلام کے دائرے میں آنے سے پہلے یا تو یہودی تھے یا پھر یہودیوں کے ساتھ مسلسل رابطوں میں تھے۔ بعض کتب نے ان افراد کے نام بھی بتائے ہیں؛[۵] گوکہ ان میں سے بعض دیگر کے نام کتب میں تلاش نہیں کئے جاسکتے لیکن ان کے طرز سلوک اور تاریخ حیات نیز ان کے اسلام لانے کی کیفیت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یا تو وہ یہودی تھے یا پھر یہودیوں کے ساتھ مرتبط تھے۔ بلاذری یہودی کنیسے میں منافقین کی آمد و رفت کی خبر دیتا ہے[۶] اور دوسرے مقام پر اسلام کے دامن میں پناہ لینے والے یہودی علماء کو گنواتے ہوئے کہتا ہے: مالک بن ابی قوقل یہودی عالم تھا جو اسلام کی پناہ میں آیا لیکن وہ رسول اللہ(ص) کی خبریں یہودیوں تک پہنچاتا تھا۔[۷]

منافقین میں سے بھی کئی افراد یہودی تھے چنانچہ صدر اول میں ان دو جماعتوں کے درمیان مثبت تعلقات تھے۔ بنی قینقاع اور بنی نضیر کے دو غزوات میں رسوا ہونے والے منافق عبداللہ بن اُبی نے اپنے یہودی دوستوں کی رہائی کے لئے جو کوششیں کی ہیں وہ خود اس مدعا کی دلیل ہیں۔

یہود نے دین مسیح میں کامیاب نفوذ اور اندرون تک رسائی حاصل کرکے، یہود دشمن اور مصلح مسیحی مکتب کو کھوکھلا اور بےبنیاد بنا دیا۔ عیسائیت میں یہودی گماشتے پولس کی کوششیں یہاں تک کامیاب ہوئیں کہ صرف ایک صدی بعد، حقیقی مسیحیت کا نام و نشان تک روئے زمین پر باقی نہ رہا۔ یہ کامیاب یہودی تجربہ اسلام کے فروغ میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے بھی یہودیوں کے کام آیا لیکن انھوں نے اس بار رسول اللہ(ص) کے بعد نہیں، بلکہ آپ کی رسالت کے آغاز سے ہی دین اسلام میں اثر و رسوخ پیدا کرنے اور رسائی پانے کی کوششوں کا آغاز کیا تھا۔ چنانچہ پیغمبر اسلام(ص) اور تمام سابقہ پیغمبروں کے درمیان بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سابقہ انبیاء کو صریح اور جانے پہچانے دشمن کا سامنا تھا لیکن پیغمبر اسلام(ص) کو دو رُخے اور منافق دشمنوں کا سامنا تھا جو ظاہراً ایمان رکھتے تھے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اپنی طرف مائل کردیتے تھے۔ یقیناً پیغمبر(ص) کے لئے ان افراد کی شناخت اور ان کا مقابلہ کرنا مسئلہ نہیں تھا لیکن معاشرہ بصیرت سے عاری تھا اور اس مڈبھیڑ کے لئے سازگار نہیں تھا۔ یہی دشمن کا اثر و رسوخ اور عوام الناس کے دلوں میں ان کی طرف رغبت ہی تھی جو پیغمبر کے لیے اذیت ناک تھی؛ یہاں تک کہ شکوہ و شکایت پر مجبور ہوئے اور فرمایا: “مَاأُوذِيَ‏ نَبِيٌّ مِثْلَ مَا أُوذِيت؛[۸] کسی بھی پیغمبر کو اتنی اذیت نہيں پہنچی جتنی کہ مجھے پہنچی”۔

یہود کے دخل انداز عناصر، دو شکلوں میں ظاہر ہوئے: بعض لوگ عبداللہ بن اُبَی، رفاعہ بن زید اور مالک بن ابی قوقل جیسے تھے جنہوں نے یہود نواز اقدامات اور یہودیوں کا دفاع کرکے ـ چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ـ اپنا اصل چہرہ مسلمانوں کے سامنے عیاں کر دیا تھا؛ لیکن کچھ اور بھی تھے جنہوں نے دوسری ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور مأمور تھے کہ کبھی بھی اپنا نقاب نہ اتاریں اور حتی کہ جھوٹے تصنّع اور تظاہر کی مدد سے اقتدار کی چوٹیوں تک آگے بڑھیں۔ البتہ ایسا بھی نہیں ہے کہ ان افراد کا نقش پا کہیں بھی نظر نہ آیا ہو اور ان لوگوں کے نفوذ کو ثابت کرنا ممکن نہ ہو؛ لیکن وہ اپنا کام آگے بڑھانے میں کامیاب رہے نیز عوام الناس کے دلوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور رسول اللہ(ص) کے بعد ان کی حمایت حاصل کرلی۔

چونکہ صحابۂ رسول(ص) میں سے بہت ایسے تھے جو حقیقت قبول کرنے سے عاجز تھے، لہذا اثر و نفوذ کرکے آگے بڑھنے والوں کے نام طشت از بام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے؛ جیسا کہ پیغمبر(ص) نے کئی بار یہی کام انجام دیا جس کا تاریخ کے عمل اور یہود کے اثر و نفوذ پر کوئی اثر مرتب نہیں ہؤا۔ پیغمبر(ص) کے بعد امیرالمؤمنین نے بھی نفاق[۹] کو رسوا کرنے کی بَہُتیری کوشش کی۔ امیرالمؤمنین(ع) نے خطبۂ شقشقیہ[۱۰] میں جو اپنے عقیدتمندوں کے شہر کوفہ میں دیا ہے کچھ مقدمات و تمہیدات بیان کرنے کے بعد اپنی بات مکمل نہ کرسکے، کیونکہ سننے والوں میں آپ کی بات قبول کرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ نفاق کی جماعت کچھ یہودیوں، کچھ اقتدار پرستوں اور کچھ ایسے افراد پر مشتمل تھی جو صرف اور صرف پیغمبر(ص) کے دشمن تھے۔ یعنی مشرکین، اقتدار پرست اور یہودی۔

بہت سے مشرکین منجملہ ابوسفیان نے، جو پیغمبر(ص) کے دشمن تھے، جھوٹ موٹ کا اسلام قبول کیا۔ انھوں نے اس وقت اسلام قبول کیا جب اسلام علاقے میں فروغ پا چکا تھا اور ان میں اس کا مقابلہ کرنے کی ہمّت نہ تھی۔ درحقیقت، انھوں نے بظاہر اسلام قبول کرکے سب سے پہلے اپنی جان کو محفوظ بنایا اور بعدازاں بعد کے ادوار میں اقتدار تک پہنچنے کا امکان حاصل کیا۔ مسلمانوں میں سے کچھ دوسرے بھی کسی طور اقتدار میں حصہ پانے کے درپے تھے، چنانچہ ان افراد سے بھی فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ تیسرا گروہ یہودیوں کا تھا؛ یہ لوگ کبھی ایمان نہیں لائے مگر ظاہری طور پر مسلمان ہوئے۔

اس تنظیم کو اس قدر طاقتور اور با اثر ہونے کی ضرورت تھی کہ رسول اللہ(ص) کے بعد اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لے سکے؛ یہاں تک کہ رسول اللہ(ص) کے جانشین کو ہٹا دیں اور اقتدار کی چوٹی پر آپ کے متبادل بنیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ رسول اللہ(ص) کے بعد لوگ علی بن ابی طالب(ع) کی طرف کیوں نہیں گئے؟ اس سوال کا جواب کئی صورت میں دیا جاسکتا ہے:

۱۔ پیغمبر(ص) نے ہرگز حضرت علی(ع) کو جانشین کے طور پر متعین نہیں کیا تھا۔۔۔ یہ جواب غلط ہے کیونکہ بےشمار اور متواتر دلائل پائے جاتے ہیں کہ پیغمبر(ص) نے غدیر خم کے مقام پر حضرت علی(ع) کو ولایت اور وصایت کا منصب سونپا اور فرمایا: “مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ”۔[۱۱]

۲۔ لوگ علی(ع) کو نہیں جانتے تھے۔۔۔ یہ بات بھی نادرست ہے کیونکہ رسول اللہ(ص) نے مختلف واقعات اور مواقع پر علی(ع) کی شان لوگوں کو متعارف کرائی تھی۔ علاوہ ازیں علی(ع) کچھ ایسے فضائل و مناقب کے مالک تھے کہ ان کی عدم معرفت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔

۳۔ لوگ پیغمبر(ص) کو نہیں مانتے تھے! ۔۔۔ یہ بھی غلط ہے؛ کیونکہ مدینہ کے عوام رسول اللہ(ص) سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ آپ کے وضو کے پانی کے ایک قطرے کو زمین پر نہيں گرنے دیتے تھے اور تبرک کے عنوان سے اٹھا لیتے تھے۔[۱۲]

۴۔ اصحاب رسول(ص) میں جماعتِ نفاق نے اس قدر اثر و نفوذ کر رکھا تھا کہ عوام پیغمبر(ص) کے برابر میں کچھ دوسرے افراد کو بھی آپ کے ہم پلہ افراد کے طور پر ماننے لگے تھے اور ان کے اوامر و احکام کو سنتے تھے اور ان پر عمل کرتے تھے؛ یہاں تک کہ لوگوں نے ان کی پیروی کرتے ہوئے علی(ع) کی بیعت سے انکار کردیا۔ یہ فرمانبرداری اس قدر شدید تھی کہ حضرت زہرا(س) کو والد ماجد کے بعد بےانتہا آزار و اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور جماعت نفاق کی رسوائی کی راہ میں جام شہادت نوش کرگئیں، لیکن اتنے عظیم المیے پر بھی لوگوں نے کوئی اعتراض و احتجاج نہیں کیا۔ اور سیدہ کی شہادت کا باعث بننے والے بدستور برسراقتدار رہے۔ حالانکہ لوگ بارہا دیکھ چکے تھے کہ پیغمبر(ص) فاطمہ(ص) کے چہرہ مبارک کا بوسہ لیتے ہوئے فرماتے تھے: “فاطمہ میرے وجود کا حصہ ہیں، جو انہیں ستائے اس نے مجھے ستایا ہے”۔[۱۳] “اللہ کی رضا فاطمہ(س) کی خوشنودی میں اور اللہ کا غضب ان کے غضب میں ہے”۔[۱۴] نیز فرماتے تھے: “وہ تمام جہانوں کی خواتین کی سردار ہیں”۔[۱۵]

[۱]- عیاشی سمرقندی، تفسیرالعیاشی، ج۱، ص۲۰۰؛ طوسی، تہذیب الاحکام، ج۶، ص۲۔

[۲]- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج۲، ص۳۳۷ و ۳۳۸۔

[۳]۔ رجوع کریں: تفسیرالعیاشی، ج۱، ص۲۰۰۔

[۴]- قرآن در دو آیت به این نکته اشاره دارد: بقره، آیت ۱۴۶؛ انعام، آیت ۲۰۔

[۵]- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج۱، ص۵۲۷؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۲۷۴-۲۸۲۔

[۶]- بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۲۷۷۔

[۷]- وہی ماخذ، ج۱، ص۲۸۵۔

[۸]- سیوطی، الجامع الصغیر، ج۲، ص۴۸۸۔

[۹]۔ منافقت، Hypocracy

[۱۰]- نہج البلاغہ، خطبہ ۲، معروف بہ خطبہ شقشقیہ۔

[۱۱]- کلینی، الکافی، ج۸، ص۲۷۔

[۱۲]- طبرسی، اعلام الوری، ج۱، ص۲۲۱؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج۱، ص۱۷۸۔

[۱۳]- بیہقی، السنن الکبری، ج۱۰، ص۲۰۱-۲۰۲؛ نسائی، خصائص امیرالمؤ‎منین علی بن ابیطالب(ع)، ص۱۲۱؛

[۱۴]- مفید، الأمالی، ص۲۶۰۔

[۱۵]- طبرسی، اعلام الوری، ج۱، ص۲۹۵ و ۲۹۶۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram