تاریخ اسلام میں پہلا تابوت

تاریخ اسلام میں پہلا تابوت

حضرت علی ؑ کے گھر سے رونے کی آوازیں بلند ہوئیں عورتوں اور مردوں کے گریہ کی آوازوں سے پورا مدینہ ہل گیا اور لوگ اسی طرح دہشت زدہ ہوگئے جس طرح رسول اللہ ؐکی وفات کے وقت سراسیمگی کا ماحول تھا.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ثقافتی اوراق//
روایت میں ہے کہ شہزادی کائنات نے جناب اسماء سے یہ تذکرہ فرمایا کہ مجھے یہ انداز بہت ناگوار لگتا ہے کہ عورت کی میت پر ایک چادر ڈال دی جاتی ہے جس سے اس کا بدن دیکھنے والے کوصاف محسوس ہوتا ہے تو جناب اسماء نے کہا:اے دختر رسولؐ میں آپ کو ایسا تابوت بناکر دکھاتی ہوں جو میں نے حبشہ میں دیکھا تھا چنانچہ انہوں نے ایک تازہ ٹہنی منگوائی اور اسے لگا کر اس کے اوپر ایک چادر ڈال دی تو شہزادیؑ کائنات نے فرمایا :’’ما أحسن ہذا و أجملہ ، لا تعرف بہ المرأۃ من الرجل ‘‘ ’’ یہ کتنی حسین اور خوبصورت چیز ہے کہ اس میں مرد اور عورت کی شناخت نہیں ہوپاتی ہے ‘‘۔اسی طرح امام جعفر صادق ؑ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’أول نعش احدث فی الإسلام نعش فاطمۃ ، إنّہا اشتکت شکاتہا التی قبضت فیہا، و قالت لأسماء : إنّی نحلت فذہب لحمی ، ألا تجعلین لی شیئاً یسترنی فقالت أسماء: إنّی إذ کنت بأرض الحبشۃ رأیتہم یصنعون شیئاً أفلا أصنع لک مثلہ ؟ فإن أعجبک صنعت لک ، قالت (ع) : نعم ،فدعت بسریر ، فأکبتہ لوجہہ ، ثم دعت بجرائد نخل فشدّدتہ علی قوائمہ ، ثم جلّلتہ ثوباً فقالت أسماء : ہکذا رأیتہم یصنعون ، فقالت (س) : اصنعی لی مثلہ ، استرینی سترک اﷲ من النّار‘‘تاریخ اسلام میں سب سے پہلے جناب فاطمہؐؐ کا تابوت بنایا گیا تھا ، کیونکہ جس بیماری میں آپ کی رحلت ہوئی تھی اس میں آپ نے جناب اسماء سے یہ شکایت کی تھی کہ میں اتنی لاغر ہوگئی ہوں کہ میرا گوشت گھل گیا ہے ، کیا تم کوئی ایسی چیز نہیں تیار کرسکتیں جو میرا پردہ کرسکے تو اسماء نے جواب دیا : جب میں حبشہ میں تھی تو میں نے ان لوگوں کو ایک چیز بناتے ہوئے دیکھا تھا کیا آپ کے لئے بھی اس طرح کی چیز تیار کردوں؟ آگر آپ چاہیں تو میں بنا سکتی ہوں ؟ تو شہزادی نے فرمایا : ہاں چنانچہ اسماء نے ایک چارپائی منگائی ، پھر اسے لٹادیا ، پھر کھجور کی کچھ شاخیں لے کر انھیں اس کے پایوں کےاوپر باندھ دیا اور اس کے اوپر کپڑا ڈال کر کہا : میں نے ان کو ایسا (تابوت) بناتے ہوئے دیکھا ہے توشہزادی نے فرمایا : میرے لئے بھی ایسا ہی تابوت بنادو ، تم نے میرا پردہ رکھا ہے اللہ تمہیں جہنم سے بچائے رکھے ۔
زندگی کے آخری لمحات
شہزادی کائناتؑ اپنے اس بستر کے اوپر قبلہ رخ ہوکر لیٹ گئیں جو گھر کے درمیان میں بچھا ہوا تھا ۔ بیان کیا جاتا ہے : کہ آپ نے اپنی دونوں بیٹیوں یعنی جناب زینب ؑ اور جناب ام کلثومؑ کو اپنے کسی عزیز کے گھر بھیج دیا تھا تاکہ وہ آپ کی رحلت کے وقت آپ کو نہ دیکھنے پائیں ۔ یہ سب انتظام آپ کی شفقت و محبت کے علاوہ اس وجہ سے بھی تھا ،تاکہ وہ دونوں اس شدید صدمہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھنے پائیں ۔اس وقت مولائے کائناتؑ اور امام حسن ؑ ، امام حسین ؑ بھی کسی کام کے لئے گھر سے باہر گئے ہوئے تھے ۔جناب اسماء سے مروی ہے کہ جب شہزادی کائناتؑ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ ؐنے اسماء سے کہا:’’إنّ جبرئیل أتی النبیّ لما حضرتہ الوفاۃ بکافور من الجنّۃ فقسّمہ أثلاثاً ، ثلثاً لنفسہ، و ثلثاً لعلی و ثلثاً لی و کان أربعین درہماً فقالت : یا أسماء ائتنی ببقیۃ حنوط والدی من موضع کذا و کذا ، وضعیہ عند رأسی ، فوضعتہ ثم قالت لأسماء حین توضأت وضوء ہا للصلاۃ : ہاتی طیبی الذی أتطیّب بہ ، وہاتی ثیابی التی اصلی فیہا فتوضأت‘‘ جب پیغمبر اکرم ؐکی وفات کا وقت قریب آیا تو جناب جبرئیل آنحضرت ؐکے پاس کافور لے کر آئے تھے تو آپ نے اسے تین حصوں میں تقسیم کردیا تھا ، ایک تہائی اپنے لئے ، ایک تہائی حضرت علی ؑ کے لئے اور ایک تہائی میرے لئے ، اس کی مقدار چالیس درہم تھی ، پھر آپ نے فرمایا : اے اسماء فلاں فلاں جگہ سے میرے بابا کا بچا ہوا حنوط لے آئیے اور اسے میرے سرہانے رکھ دیجئے جب انھوں نے وہ حنوط لاکر رکھ دیا تو شہزادی نے نماز کے لئے وضو کرنے سے پہلے اسماء سے کہا مجھے وہ خوشبو بھی لا دیجئے جو میں استعمال کرتی ہوں پھر کہا میرا وہ لباس بھی لادیجئے جسے پہن کر میں نماز پڑھتی ہوں پھر آپ نے وضو کرکے ان سے کہا :’’انتظرینی ہنیءۃ و ادعینی فإن أجبتک و إلّا فاعلمی إنّی قدمت علیٰ أبی فأرسلی إلیٰ علی‘‘’’کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد مجھے آواز دیجئے گا اگر میں نے جواب دے دیا تو بہتر ، ورنہ سمجھ لیجئے گا کہ میں اپنے باباکی خدمت میں پہنچ چکی ہوں لہٰذا کسی کو علی ؑ کے پاس بھیج دیجئے گا ‘‘۔ جب شہزادی ؑ کے احتضار کا وقت آپہنچا اور پردے ہٹا دئے گئے تو آپ نے ایک سمت نگاہیں جماکر فرمایا: ’’السلام علی جبرئیل ، السلام علی رسول اﷲ ، اللّہمّ مع رسولک ، اللّہمّ فی رضوانک و جوارک ودارک دار السلام ، ثم قالت : ہذہ مواکب أہل السماوات و ہذا جبرئیل و ہذا رسول اﷲ یقول : یا بنیۃ أقدمی فما أمامک خیر لک ‘‘سلام ہو جبرئیل پر ، سلام ہو رسول اللہؐ پر بار الٰہا تیرے رسول ؐکے ہمراہ ، بارالٰہا تیری مرضی (کے حصارمیں )اور تیرے جوار، تیرے گھر اور دار السلام میں ، پھر آپ نے کہا ، یہ اہل آسمان کی محملیں ہیں ، یہ جبرئیل ہیں یہ رسول اللہؐ ہیں جو یہ فرما رہے ہیں : اے میری بیٹی آگے بڑھو جو تمہاری نظروں کے سامنے ہے وہ تمہارے لئے بہتر ہے ‘‘ پھر آپ نے اپنی آنکھیں کھول کر کہا :’’و علیک السلام یا قابض الأرواح عجّل بی و لا تعذّبنی‘‘ اے قابض ارواح تمہارے اوپربھی میرا سلام ہو میری روح جلدی قبض کرلو اور مجھے اذیت نہ دینا پھر آپ نے کہا : ’’إلیک ربّی لا إلی النار‘‘بار الٰہا! تیری جانب نہ کہ جہنم کی جانب ، پھر آپ نے اپنی آنکھیں بند کرکے اپنے ہاتھ اور پیر بالکل سیدھے کرلئے ۔
جب جناب اسماء نے آپ کو آواز دی تو آپ نے کوئی جواب نہیں دیا تب انہوں نے آپ کے چہرۂ مبارک سے چادر ہٹاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ آپ اس دنیا سے رحلت فرما چکی ہیں یہ دیکھ کر وہ آپ کے اوپر گر پڑیں اور آپ کے بوسہ دیتے ہوئے یہ کہا : اے فاطمہؐؐ جب آپ اپنے بابا رسول اللہ ؐکے پاس پہنچئے گا تو اسماء بنت عمیس کی طرف سے ان کی خدمت میں سلام کہدیجئے گا ، اور جب امام حسن ؑ اور امام حسینؑ آئے اور انھوں نے دیکھا کہ والدۂ گرامی آرام فرما رہی ہیں تو انھوں نے کہا: اے اسماء ہماری والدہ تو اس وقت نہیں سوتی تھیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا ، اے فرزندان رسولؐ ، آپ کی والدہ سو نہیں رہی ہیں بلکہ وہ دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں ۔ امام حسن ؑ نے اپنے کو شہزادی کے اوپر گرادیا انہیں چومتے تھے یہ کہتے جاتے تھے :’’یا اماہ کلّمینی قبل أن تفارق روحی بدنی‘‘اے والدۂ گرامی اس سے پہلے کہ میرے بدن سے میری روح پرواز کر جائے آپ مجھ سے گفتگو فرمائیں ، امام حسین ؑ آپ کے پیروں کا بوسہ دیکر یہ کہہ رہے تھے:’’أنا ابنک الحسین کلّمینی قبل أن یتصدّع قلبی فأموت‘‘ ’’ میں آپ کا بیٹا حسین ؑ ہوں آپ مجھ سے کچھ بولئے اس سے پہلے کہ میرا دل پھٹ جائے اور میری موت واقع ہوجائے ‘‘ تو ان سے اسماء نے کہا: اے فرزندان رسول جائیے اپنے بابا کو اپنی والدہ کی رحلت کی خبر دے دیجئے وہ دونوں شہزادے باہر نکلے اور مسجد کے نزدیک پہنچ کر، اُن کے رونے کی آوازیں بلند ہوگئیں جس سے صحابہ نے ان دونوں کو اپنے حلقہ میں لے کر رونے کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا : ’’قد ماتت امّنا فاطمۃ‘‘ہماری والدہ گرامی فاطمہؐؐ کا انتقال ہوگیا ہے ۔ یہ سن کر حضرت علی ؑ منہ کے بل گرپڑے اور آپ نے کہا:’’بمن العزاء یا بنت محمد‘‘’’ اے بنت محمد ؐکسے تعزیت دوں ؟ ‘‘۔
تشیع جنازہ اوردفن
حضرت علی ؑ کے گھر سے رونے کی آوازیں بلند ہوئیں عورتوں اور مردوں کے گریہ کی آوازوں سے پورا مدینہ ہل گیا اور لوگ اسی طرح دہشت زدہ ہوگئے جس طرح رسول اللہ ؐکی وفات کے وقت سراسیمگی کا ماحول تھا ، بنی ہاشم کی خواتین روتی پیٹتی ہوئی جناب فاطمہؐؐ ؐکے گھر پہنچنے لگیں ، مرد حضرت علی ؑ کے پاس جمع ہونے لگے اور آپ کے پاس ہی امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ بیٹھے ہوئے رو رہے تھے ، جناب ام کلثوم کی زبا ن پر یہ بین تھے : ہائے بابا، اے رسول اللہ ؐدر حقیقت آج آپ ہم سے ایسے جدا ہوئے کہ جس کے بعد ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے ‘‘۔آہستہ آہستہ کافی لوگ جمع ہوگئے ہر طرف گریہ و بکا کا سماں تھا ، اور سب لوگ جنازہ اٹھنے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ نماز جنازہ میں شرکت کرسکیں تو جناب ابوذرؓ نے باہر نکل کر یہ اعلان کیا : آپ حضرات واپس تشریف لے جائیں کیونکہ دختر پیغمبر کی تشییع جنازہ اس عشا کے وقت نہیں ہوگی ، ابوبکر و عمر بھی حضرت علی ؑ کو یہ کہہ کر تعزیت پیش کر رہے تھے کہ اے ابو الحسنؑ ہم سے پہلے آپ بنت رسول ؐکی نماز جنازہ نہ پڑھا دیجئے گا ۔
اس طرح لوگ آہستہ آہستہ اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور اکثر کا یہی خیال تھا کہ تشییع جنازہ کل صبح میں ہوگی (روایت میں ہے کہ شہزادی کی وفات نماز عصر کے بعد یا رات کے ابتدائی حصہ میں ہوئی تھی)لیکن حضرت علی ؑ اور جناب اسماء نے آپ کو اسی رات غسل و کفن دیا اور اس کے بعد جناب امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ اور جناب زینبؑ و ام کلثومؑ کو آواز دی کہ اپنی والدہ سے رخصت ہو لو کہ یہ جدائی کا وقت ہے اور اب ملاقات جنت میں ہوگی، تھوڑی دیر کے بعد امیر المومنین ؑ نے ان لوگوں کو شہزادی کے جنازہ سے جدا کر دیا ۔ پھر حضرت علی ؑ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کے بعد آسمان کی طرف دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر یہ آواز دی: ’’اللّہم ہذ ہ بنت نبیّک فاطمۃ أخرجتہا من الظلمات إلی النور، فأضاء ت میلاً فی میل‘‘ ’’ بارالٰہا یہ تیرے پیغمبر کی بیٹی فاطمہؐؐ ہیں جن کو تونے(عدم کی) تاریکیوں سے نکال کر(وجودکے) نور تک پہنچا دیا تو انہوں نے میلوں دور کے فاصلوں کو منور کردیا۔ جب ہر طرف سناٹا چھا گیا اور سب لوگ نیند کی آغوش میں چلے گئے اور رات کا کافی حصہ گذر گیا تو امیر المومنین ؑ ، عباس اور فضل بن عباس نے اس نحیف و لاغر جنازہ کے تابوت کو اپنے کاندھوں پر اٹھایا ، امام حسن ؑ و امام حسین ؑ اور عقیل ، سلمان ، ابوذر ، مقداد اور بریدہ و عمار بھی جنازہ کے ساتھ ساتھ تھے۔
حضرت علی ؑ قبر کے پاس بیٹھے اور رسول اللہ کی بیٹی کو سپرد لحد کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا:’’ یا أرض أستودعک ودیعتی ، ہذہ بنت رسول اﷲ ، بسم اﷲ الرحمن الرحیم ، بسم اﷲ و باﷲ و علی ملّۃ رسول اﷲ محمد بن عبداﷲ (ص) سلمتک أیتہا الصدّیقۃ إلی من ہو أولی بک منّی ، و رضیت لک بما رضی اﷲ تعالی لک‘‘اے زمین میں اپنی امانت کو تیرے سپرد کر رہا ہوں ، یہ رسول اللہ کی بیٹی ہے ’’ بسم اللّہ الرّحمن الرّحیم ‘‘ اللہ کے نام سے ، اللہ کے سہارے اور حضرت عبد اللہ کے بیٹے حضرت محمد رسول اللہ ؐکے دین پر اے صدیقہ میں تمہیں اس کے سپرد کر رہا ہوں جو تمہارے لئے مجھ سے زیادہ اولیٰ ہے اور میں تمہارے لئے اس بات سے راضی ہوں جو اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے ‘‘پھر آپ نے فرمایا : منہا خلقناکم و فیہا نعیدکم و منہا نخرجکم تارۃ اخری‘‘اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں پلٹا کر لے جائیں گے اور پھر دوبارہ اسی سے نکالیں گے۔پھر آپ قبر سے باہر نکل آئے اور اس کے بعد تمام حاضرین نے اس نبوی دریکتا کی قبر پر مٹی ڈالدی اور آخر میں حضرت علی (ع) نے قبر بتول پر بیٹھ کر مرثیہ پڑھا۔
جناب فاطمہ ؑ کے لئے حضرت علی ؑ کے بین
نہایت تیزی کے ساتھ شہزادی کی تدفین کا مرحلہ مکمل ہوگیا کیونکہ ہر لمحہ یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں لوگوں کو خبر نہ ہوجائے اور سب لوگ جمع نہ ہوجائیں اور جب حضرت علی ؑ اپنے دونوں ہاتھ جھاڑ کر قبر سے اٹھنے لگے تو رسول کی پارۂ جگر اور آپ کی رحمدل شریکۂ حیات کے غم سے آپ کا دل بیٹھنے لگااور آپ کو شہزادی کا اخلاص ،طہارت نفس ، ایثار و قربانی اور وہ مشکلات یاد آگئیں جو انہوں نے آپ کے لئے برداشت کی تھیں اور آپ اس فراق کوبرداشت نہ کرسکے آپ کے رخساروں سے آنسو بہنے لگے اور آپ نے رسول اللہ ؐکی قبر مبارک کی طرف رخ کرکے رازدارانہ انداز میں یہ بین شروع کردیا :السلام علیک یا رسول اﷲ عنّی ، و السلام علیک عن ابنتک و حبیبتک و قرّۃ عینک و زائرتک و البائنۃ فی الثری ببقعتک ، و المختار اﷲ لہا سرعۃ اللحاق بک ، قلّ یا رسول اﷲ عن صفیتک صبری ، و عفی عن سیدۃ نساء العالمین تجلّدی ، إلّا أنّ فی التأسی لی بسنّتک فی فرقتک موضع تعزی ، فلقد و سدتک فی ملحودۃ قبرک بعد أن فاضت نفسک بین نحری و صدری ، و غمضتک بیدی، و تولیت أمرک بنفسی.بلی ، وفی کتاب اﷲ لی أنعم القبول ، إنا ﷲ و إنّا الیہ راجعون ، قد استرجعت الودیعۃ، و أخذت الرہینۃ ، و اختلست الزہراء فما أقبح الخضراء والغبراء یا رسول اﷲ أمّا حزنی فسرمد، أمّا لیلی فمسہّد ، لا یبرح الحزن من قلبی أو یختاراﷲ دارک التی أنت فیہا مقیم ، کمد مقیّح ، و ہم مہیّج ، سرعان ما فرّق اﷲ بیننا و إلی اﷲ أشکو، و ستنبئک ابنتک بتضافر امّتک علیّ ، و علی ہضمہا حقّہا فأحفہا السؤال ، و استخبرہا الحال، فکم من غلیل معتلج بصدرہا لم تجد إلی بثہ سبیلاً ، و ستقول و یحکم اﷲ و ہو خیر الحاکمین ، و السلام علیکما یا رسول اﷲ سلام مودّع لاسئم و لا قالٍ فإن أنصرف فلا عن ملالۃ ، و إن أقم فلا عن سوء ظنّ بما وعد اﷲ الصابرین ، و الصبر أیمن و أجمل. و لو لا غلبۃ المستولین علینا لجعلت المقام عند قبرک لزاماً ، و التلبّث عندہ عکوفاً ، و لأعولت إعوال الثکلی علی جلیل الرزیۃ ، فبعین اﷲ تدفن ابنتک سرّاً ، و یہتضم حقّہا قہراً ، و یمنع إرثہا جہراً و لم یطل منک العہد، و لم یخلق منک الذکر، فإلی اﷲ یا رسول اﷲ المشتکی ، و فیک یا رسول اﷲ أجمل العزاء فصلوات اﷲ علیہا و علیک و رحمۃ اﷲ و برکاتہ‘‘ سلام ہو آپ پر اے خدا کے رسولؑ ۔میری طرف سے اور آپ کی اس دختر کی طرف سے جوآپ کے جوار میں پہنچ رہی ہے اور بہت جلدی آپ سے ملحق ہو رہی ہے۔یا رسول اللہؐ ! میری قوت صبر آپ کی منتخب روزگار دختر کے بارے میں ختم ہوئی جا ر ہی ہے اور میری ہمت ساتھ چھوڑے دے رہی ہے صرف سہارا یہ ہے کہ میں نے آپ کے فراق کے عظیم صدمہ اور جانکاہ حادثہ پر صبر کر لیا ہے تو اب بھی صبر کروں گا کہ میں نے ہی آپ کو قبر میں اتارا تھا اور میرے ہی سینہ پر سر رکھ کر آپ نے انتقال فرمایا تھا۔بہر حال میں اللہ ہی کے لئے ہوں اور مجھے بھی اسی کی بارگاہ میں واپس جانا ہے۔آج امانت واپس چلی گئی اور جو چیز میری تحویل میں تھی مجھ سے جدا ہو گئی ۔اب میرا رنج وغم دائمی ہے اور میری راتیں نذر بیداری ہیں جب تک مجھے بھی پروردگار اس گھر تک نہ پہونچا دے جہاں آپ کا قیام ہے عنقریب آپ کی دختر نیک اختر ان حالات کی اطلاع دے گی کہ کس طرح آپ کی امت نے اس پر ظلم ڈھانے کے لئے اتفاق کر لیا تھاآپ اس سے مفصل سوال فرمائیں اور جملہ حالات دریافت کریں۔
افسوس کہ یہ سب اس وقت ہوا ہے جب آپ کا زمانہ گذرے دیر نہیں ہوئی ہے اور ابھی آپ کا تذ کرہ باقی ہے۔میرا سلام ہو آپ دونوں پر۔اس شخص کا سلام جو رخصت کرنے والا ہے اور دل تنگ و ملول نہیں ہے ۔میں اگر اس قبر سے واپس چلا جاؤں تو یہ کسی د ل تنگی کا نتیجہ نہیں ہے اور اگر یہیں ٹھہر جاؤں تو یہ اس وعدہ کی بے اعتباری نہیں ہے جو پر وردگار نے صبر کرنے والوں سے کیا ہے اور صبر کا راستہ زیادہ پر امن اور خوبصورت ہے ۔اگر ہمارے اوپر قابو پانے والوں کا غلبہ نہ ہوتا تو میں آپ کی قبر کے پاس ہی سکونت اور اس کی مجاوری اختیار کر لیتا۔
خدا کی نظروں کے سامنے آپ کی بیٹی کو خاموشی سے دفن کردیا گیا ، اور اس کا حق زبردستی ہضم کر لیا گیا کھلے عام اسے اس کی میراث لینے سے روک دیا گیا ، ابھی تو آپ کا زمانہ کچھ بھی نہیں گذرا ہے ، آپ کا ذکر بھی پرانا نہیں ہوا ، اب تو یا رسول اللہ ؛اللہ کی بارگاہ میں ہی شکوہ ہے ، اور (یارسول اللہؐ)آپ کی سیرت میں بہترین تسلی خاطر ہے لہٰذا آپ کے اوپر اور ان کے اوپر اللہ کی صلوات اور اس کی رحمت و برکت ہو۔

................

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram