امام زمانہ کے اصحاب کی خصوصیات احادیث کے آئینے میں

امام زمانہ کے اصحاب کی خصوصیات احادیث کے آئینے میں

امام مہدی(عج) کے عالمی حکومتی نظام میں سب سے اہم اور کلیدی عنصر "ایمان" ہے جس سے تمام مسائل کے بند تالوں کو کھولا جاسکتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ثقافتی اوراق//

امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب خاص سب کے لئے مثالی حیثیت رکھتے ہیں، وہ صاحبان کرامت ہیں اور تمام مؤمنوں کے دلوں میں رہتے ہیں۔

اصحاب امام کی کئی قسمیں: ایک قسم کے اصحاب، اصحاب خاص ہیں جن کی تعداد احادیث میں 313 بیان کی گئی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں سورہ ہود کی آیت 8 میں "امۃ معدودۃ" (1) کا عنوان دیا گیا ہے۔

دوسری قسم کے صاحاب وہ ہیں جو اصحاب خاص، سپہ سالاروں اور کمانڈروں کے پہنچنے اور اکٹھے ہونے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہونگے اور ان کی تعداد 10 سے 12 ہزار بتائی گئی ہے؛ جب یہ حلقہ مکمل ہوگا امام کی حرکت کا آغاز ہوگا۔

تیسری قسم کے اصحاب وہ مؤمنین ہیں جو انقلاب کے شروع ہونے کے بعد ان سے جا ملیں گے اور ان کی تعداد میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوگا۔

اصحاب مہدی علیہ السلام کا مشن

احادیث کے مطابق امام زمانہ (عج) کے اصحاب خاص کا نام، نسب، پیشہ، زبان، القاب وغیرہ ایک صحیفے میں ثبت ہیں اور یہ صحیفہ امام علیہ السلام کے پاس ہے۔

امام جواد علیہ السلام نے اپنے آباء و اجداد علیہم السلام سے روایت کی ہے کہ رسول الله صلی الله علیه و آلہ نے فرمایا:

امام قائم علیہ السلام کے ساتھ ایک مہر شدہ صحیفہ ہے جس میں آپ کے اصحاب خاص، ان کے شہروں، ان کی زینتوں، کنیتوں وغیرہ کا تذکرہ بھی ہؤا ہے۔ (2)

اصحاب امام کا سب سے پہلا مشن دنیا پر مسلط مستکبرین کے خلاف ہمہ جہت جنگ کرنا ہے اور یہ جنگ امام کے عظیم انقلاب کے آغاز میں آپ کے تمام امور میں سرفہرست ہوگی۔ عملی پہلو میں اصحاب خاص امام زمانہ(عج) کے رکاب میں شجاع اور جان نثار سپاہیوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور امام(عج) کے حکم کے منتظر اور گوش بہ فرمان ہیں۔

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہيں: قائم آل محمد علیہ السلام پانچ پیغمبروں سے شباہت رکھتے ہیں لیکن ان کی شباہت اپنے نانا محمد صلی صلی اللہ علیہ و آلہ سے، سب سے زیادہ ہے۔ (3)

اصحاب خاص کا دوسرا مشن، انحرافات، گمراہیوں، تحریفات اور دین و مذہب سے لئے گئے غلط تصورات کے خلاف جنگ ہے۔ ان انحرافات کے بانی یا تو سرمایہ دار اور اشرافیہ ہیں، یا صاحبان قوت اور غیر اسلامی اور بظاہر اسلامی حکومتیں اور حکمران ہیں اور یا پھر وہ لوگ ہیں جو دھوکے اور فریب کے ذریعے دین سے روزی کھاتے ہیں جن میں دنیا پرست ذاکرین و اہل منبر اور علماء کے لباس میں ملبوس اور طاغوتوں کے خدمت گذار اور حکام اور اشرافیہ کے در پر کرنش کرنے والے افراد ہیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: وہ جماعت جن کے ساتھ حضرت قائم علیہ السلام بوقت قیام کام کرتے ہیں، نجباء، قاضیوں، حاکمان شرع، فقہاء اور دین شناس علماء ہیں جنہیں اللہ کی طرف کا علم عطا ہؤا ہے اور ان پر کوئی بھی حکم مشتبہ نہیں ہو جاتا۔ (4)

اصحاب مہدی(ع) کی نفسانی خصوصیات

احادیث شریفہ میں اصحاب مہدی(عج) کے لئے بیان ہونے والی معنوی اور روحانی خصوصیات میں علم، معرفت، ایمان، اللہ کا خوف، طہارت، تقوی، زہد و پارسائی، دوراندیشی اور بصیرت، عبادت اور بندگی، اللہ کی طرف مسلسل توبہ، دعا، ذکر، عبادت، استغفار، تہجد اور شب زندہ داری، وسیع القلبی، صبر و تحمل اور بردباری وغیرہ جیسی خصوصیات شامل ہیں؛ تاہم ہم یہاں کچھ ہی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

ایمان:

امام مہدی(عج) کے عالمی حکومتی نظام میں سب سے اہم اور کلیدی عنصر "ایمان" ہے جس سے تمام مسائل کے بند تالوں کو کھولا جاسکتا ہے۔ اصحاب امام کا ایمان گہرا، راسخ، استوار اور مضبوط اور بصیرت پر مبنی ہے جو ہمت اور حوصلے کو بڑھا دیتا ہے، بازؤوں کو مضبوط اور قدموں کو محکم کردیتا ہے، دلوں میں  مضبوطی لاتا ہے اور وہ اس ایمان کے بدولت دنیا کے گوناگوں حوادث کا سامنا کرتے ہیں اور ان کے پائے ثبات میں تزلزل کا تصور تک نہیں ہے۔ حکومت مہدویہ کے کارگزاروں کے دل ایمان محکم سے مستحکم ہیں۔ امام علیہ السلام مؤمن ترین افراد کو پنی عالمی حکومت کے لئے بروئے کار لائیں گے۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہيں: وہ خزینے ایسے مرد ہیں جن کے دل لوہے کے ٹکڑوں کی مانند ہیں، ان کے دلوں میں کسی قسم کا شک و تذبذب نہیں ہے، اللہ پر ایمان و اعتقاد کے لحاظ سے چٹانوں اور پتھروں سے زيادہ مضبوط ہیں: "رِجالٌ كَاَنَّ قلُوبَهمْ زُبرُ الْحدیدِ، لا یشوبها شكُّ، فی ذاتِ اللّهِ اَشَدُّ مِنَ الحَجَر"۔ (5)

طہارت اور تقویٰ:

مثالی انتظام کا ایک ستون طہارت اور تقوی، عمل میں پاکیزگی، غیر مشروع، ناجائز، غیر مقبول اور غیر اخلاقی اہداف کے ساتھ عدم آمیزش سے عبارت ہے۔ اچھا منتظم ایسا منتظم ہے جو کسی بھی کام کو اخلاقی اصولوں کو ملحوظ رکھ کر پایہ تکمیل پر پہنچائے۔

روحانی طاقت، صبر اور بردباری:

عالمی مستکبرین کے خلاف جنگ اور کفر، شرک اور نفاق کے خلاف میدان کارزار میں اترنے کے لئے بہت زيادہ صبر و تحمل کی ضرورت ہے، ایسے افراد کو اس میدان میں اترنا چاہئے جو اس جنگ سے جنم والے مسائل و مصائب کے سامنے کمر خم نہ کریں اور خوفزدہ ہوکر پیچھے نہ ہٹیں۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بقول: وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے کام اور اپنی استقامت اور صبر کی بنا پر اللہ پر احسان نہیں جتاتے "قَوْمٌ لَمْ یَمُنُّوا عَلَی اللّهِ بِالصَّبْر"۔ (6)

شوق شہادت

امام جعفر صادق علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق: امام زمانہ(عج) کے اصحاب شہادت کے شیدائی ہیں، لقاء اللہ کے عاشق ہیں، ان کی آرزو یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں شہادت کی آرزو رکھتے ہیں: "یتمنَّونَ اَنْ یقتلُوا فی سِبیلِا للّهِ"۔ (7)

اصحاب مہدی(عج) کی عملی اور سلوکی خصوصیات

امام مہدی علیہ السلام کی کچھ عملی خصوصیات کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے:

سادگی اور بےتکلفی

اصحاب امام مہدی(عج) ظاہری جلال و جبروت اور جاہ و حشمت کے حامل نہیں ہیں، اسی بنا پر وہ زمینیوں کے درمیان انجانے ہیں۔ مستکبرین اور متکبرین انہیں چھوٹا سمجھتے ہیں لیکن عالم ملکوت میں معروف اور جانے پہچانے اور مؤمنین کے نزدیک عزت و عظمت کے مالک ہیں۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا: (فتنہ گروں کے خلاف) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والی ایسی جماعت ہے جو متکبرین کی نگاہوں میں خوار اور چھوٹے ہیں، زمین پر انجانے ہیں اور آسمانوں میں جانے پہچانے ہیں: "يُجَاهِدُهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَوْمٌ أَذِلَّةٌ عِنْدَ الْمُتَكَبِّرِينَ فِي الْأَرْضِ مَجْهُولُونَ وَفِي السَّمَاءِ مَعْرُوفُونَ"۔ (8)

کام کاج اور کوششوں میں سنجیدگی

اصحاب امام مہدی(عج) شہید بہشتی(رح) کے بقول "خدمت کے شیدائی ہیں نہ کہ اقتدارکے پیاسے"، وہ مہدی موعود علیہ السلام کی عالمی حکومت میں اپنے امام(ع) کے فیصلوں اور ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے، چین سے نہیں بیٹھتے، انہیں ہر وقت کام کی فکر رہتی ہے، سستی اور کاہلی، لاپروائی اور کام کو قضا و قدر کے سپرد کرنا، ان کی قاموس میں بےمعنی ہے۔

زیست کی سادگی

ہمارے معاشروں کے انتظام اور منتظمین کی ایک کمزوری، اشرافیہ افکار اور احساسات ہیں۔ امام خامنہ ای فرماتے ہیں کہ اشرافیہ کا انداز فکر و طرز عمل ایک ملک کے لئے آفت اور آسیب ہے، لیکن اشرافیت جب حکام اور منتظمین کے اندر سرایت کرے تو یہ دوگنا آفت ہے۔

اصحاب مہدی(عج) کی زندگی بہت سادہ اور معمولی ہے؛ ان کی زندگی کا رخ زیادہ سے زیادہ نعمتوں کے حصول اور عیش پرستی کی طرف نہیں ہے۔ انھوں نے اپنے امام کے ساتھ عہد کیا ہے کہ سادہ زندگی گذاریں گے، سادہ کھانا کھائیں گے، سادہ لباس پہنیں گے، معمولی سواری سے استفادہ کریں گے اور قلیل پر قناعت کریں گے اور کفایت شعاری کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

اطاعت امام

حضرت مہدی(عج) کے اصحاب اپنے امام کو ایسا ہی پہچانتے ہیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور امام سجاد علیہ السلام کے فرمان کے مطابق: "اَلْقائِلینِ بِاِمامَتِّهِ؛ اپنے امام کی امامت کے قائل ہیں"۔ (9) یہ معرفت شناختی کارڈ والی شناخت نہیں ہے، بلکہ یہ حق ولایت اور حق امامت کی معرفت ہے؛ اسی بنا پر وہ اپنے امام کے شیدائی ہیں، ان کے دل امام کے عشق و محبت سے سرشار ہیں۔ ان کے دل کے ورق پر مہدی آخرالزمان کے سوا کچھ اور تحریر نہیں ہے۔ یہ شیفتگی اس حد تک ہے کہ وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق: تبرک کے عنوان سے ہاتھ امام(ع) کے گھوڑے کی زین پر ہاتھ پھیرتے ہیں اور تبرک حاصل کرتے ہیں۔ وہ جنگ کے دوران پروانوں کی مانند مہدی(عج) کی شمع وجود کے گرد اکٹھے ہوجاتے ہیں، اور آپ کے گرد حلقہ بناتے ہیں، اور آپ کی حفاظت کرتے ہیں: "یتمَسَّحُونَ بِسَرْجِ الاِمامِ یُطْلُبُونَ بِذلِکَ الْبَرَكَةَ وَیَحَفُّونَ بِهِ یَقُونَهُ بِاَنْفُسِهِمْ فِی الْحَرْبِ"۔ (10)

نظم و ضبظ اور تنظیمی فکر

نظم و ضبط اور انضباط (Discipline) ہر عسکری ادارے کی طاقت کی بنیادی شرط ہے۔ امام مہدی (عج) کی عالمی حکومت کا فوجی نظام آہنی انضباطی قواعد، منطقی نظم و ضبط اور تنظیمی تفکر پر استوار ہے اور آپ کے سپہ سالار نہایت منظم اور منضبط ہیں؛ کیونکہ ان کا مقصد ہی پوری دنیا کو ایک خاص نظم و ضبط کے تابع بنانا ہے اور وہ عالمی یکجہتی کے لئے کوشاں ہیں۔

عدالت پسندی اور انصاف

امام مہدی(عج) کے اصحاب خاص کا ایک مشن مختلف ممالک میں عدل و انصاف کا قیام ہے۔

امام موسی کاظم علیہ السلام نے آیت کریمہ "يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا" (11)  کی تفسیر میں ارشاد فرمایا: "ایسا نہیں ہے کہ خداوند متعال زمین کو بارش کے ذریعے زندہ کرے، بلکہ ایسے مَردوں کو اٹھائے گا جو عدل و انصاف کو زندہ کریں گے اور زمین اسی عدل کی برکت سے زندہ ہوجائے گی۔

المختصر: اصحاب امام مہدی(عج) صلاحیتوں، شائستگیوں اور امتیازی خصوصیات کے لحاظ سے ایسے افراد ہیں کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے کلام کے مطابق نہ تو گذشتہ نسلوں میں کوئی ان پر سبقت لے سکا ہے اور نہ ہی اگلی نسلوں میں سے کوئی ان کے اعلی مرتبے تک پہنچ سکتا ہے: "لَمْ یَسْبِقْهُمُ الاْوَّلُونَ وَلا یُدْرِكُهُمُ الآخِرُون"۔ (12)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَى أُمَّةٍ مَّعْدُودَةٍ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ أَلاَ يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفاً عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِؤُونَ؛ اور اگر ہم ان پر عذاب میں دیر کریں ایک مقررہ مدت تک تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ کون چیز اسے روکے ہوئے ہے؟ آگاہ ہونا چاہئے کہ جس دن وہ ان پر آئے گا تو اسے ان سے ہٹایا نہیں جا سکے گا اور گھیرلے گا انہیں وہی (عذاب) جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

2۔ الشيخ علي اليزدي الحائري، الزام الناصب، ص185۔

3۔ شیخ صدوق، کمال الدین، ج1، ص327۔

4۔ لطف اللہ صافی گلپایگانی، منتخب الاثر، ص485۔

5۔ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ج52، ص308۔

6۔ ، شیخ کامل سلیمان، یوم الخلاص، ص223؛ بحوالہ: السيد مصطفى ال السيد حيدر الكاظمي، ، بشارة الاسلام في علامات المهدي عليه السلام، ص220۔

7۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج52، ص308۔

8۔ نہج البلاغہ (دشتی)، خطبہ 102۔

9۔ صافی گلپایگانی، منتخب الاثر، ص244۔

10۔ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ج 52، ص 308۔

11۔ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ؛ وہ نکالتا ہے جاندار کو بےجان سے اور نکالتا ہے بےجان کو جاندار سے اور وہ زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد، اور اسی طرح تم بھی نکالے جاؤ گے۔ (سورہ روم، آیت 19)

12۔ سید ابن طاووس، الاقبال بالاعمال الحسنة، ج‏2، ص581۔

۔۔۔۔۔۔

ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی

..................

110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
We are All Zakzaky
telegram