امام جواد علیہ السلام اور مکارم اخلاق+ واقعہ شہادت

  • News Code : 849818
  • Source : ابنا خصوصی
Brief

انسان کے بہترین اخلاق کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ کسی کو اذیت نہیں پہنچاتا ،اس کے کرم کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے محب کے ساتھ اچھا برتاؤ کر تا ہے۔۔۔۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

مکارم اخلاق
امام جواد علیہ السلام نے مکارم اخلاق اور محاسن صفات پر مشتمل دعا میں فرمایا ہے :’’انسان کے بہترین اخلاق کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ کسی کو اذیت نہیں پہنچاتا ،اس کے کرم کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے محب کے ساتھ اچھا برتاؤ کر تا ہے ،اس کے صبر کا نمونہ یہ ہے کہ وہ شکایت نہیں کرتا ،اس کی خیر خوا ہی کی پہچان یہ ہے کہ وہ ناپسند باتوں سے روکتا ہے ،نرمی کی پہچان یہ ہے کہ انسان اپنے دینی بھا ئی کی ایسے مجمع میں سر زنش نہ کرے جہاں اُس کو بُرا لگتا ہے ،اس کی سچی صحبت کی پہچان یہ ہے کہ وہ کسی پر بار نہیں بنتا ،اس کی محبوبیت کی پہچان یہ ہے کہ اس کے موافق زیادہ اور مخالف کم ہوتے ہیں ‘‘۔امام محمد تقی ؑ نے ان بہترین کلمات کے ذریعہ حسن اخلاق اور مکارم اخلاق،سچائی قائم کرنے اور حقیقی فکر و محبت کرنے کی بنیاد ڈالی ۔

آداب سلوک
امام محمد تقی ؑ نے لوگوں کے درمیان حسن سلوک اور اس کے آداب کا ایک بہت ہی بہترین نظام معین فرمایا ۔آپ ؑ اس سلسلہ میں یوں فرماتے ہیں : ۱۔’’تین عادتوں سے دل موہ لئے جاتے ہیں :معاشرے میں انصاف ،مصیبت میں ہمدردی ، پریشا ن حالی میں تسلّی‘‘ ۔
۲۔’’جس شخص میں تین باتیں ہو ں گی وہ شرمندہ نہیں ہوگا :جلد بازی سے کام نہ لینا ،مشورہ کرنا ، عزم کے وقت اللہ پر بھروسہ کرنا ،جوشخص اپنے بھا ئی کو پوشیدہ طور پر نصیحت کرے وہ اس کا محسن ہے اور جو علانیہ طور پر اس کو نصیحت کر ے گویا اُس نے اس کے ساتھ برا ئی کی ہے ‘‘۔
۳۔’’مو من کے اعمال نامہ کی ابتدا میں اس کا حسن اخلاق تحریر ہو گا ،سعادتمند کے اعمال نامہ کے شروع میں اس کی مدح و ثنا تحریر ہو گی ،روایت کی زینت شکر ،علم کی زینت انکساری ،عقل کی زینت حسن ادب ہے ، خوبصورتی کا پتہ کلام کے ذریعہ چلتا ہے اور کمال کا پتہ عقل کے ذریعہ چلتا ہے ‘‘۔امام کے یہ کلمات حکمت ،قواعد اخلاق اور آداب کے اصول پر مشتمل ہیں ،اگر کسی شخص کے پاس
صرف یہی کلمات ہوں تو آپ ؑ کی امامت پر استدلال کرنے کیلئے کافی ہیں ، ایک کمسن اپنی عمرکے ابتدائی دور میں کیسے ایسی دا ئمی حکمتیں بیان کرنے پر قادر ہو گیا جن کا بڑے بڑے علماء مثل لانے سے عاجز ہیں ؟
آپ ؑ کے موعظے ہم ذیل میں آپ ؑ کے بعض موعظے بیان کر رہے ہیں :۱۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام فر ماتے ہیں :’’توبہ میں تاخیر کرنا دھوکہ ہے ،اور توبہ کرنے میں بہت زیادہ دیرکرنا حیرت و سرگردانی کا سبب ہے ،خدا سے ٹال مٹول کرنا ہلاکت ہے اور بار بار گناہ کرنا تدبیر خدا سے ایمن ہونا ہے ،خداوند عالم کا فرمان ہے :(لا یَأْمَنُ مَکْرَ اﷲِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ) ‘‘۔’’مکر خدا سے صرف گھاٹا اٹھانے والے ہی بے خوف ہوتے ہیں ‘‘
۲۔ایک شخص نے آپ ؑ سے عرض کیا :مجھے کچھ نصیحت فرما دیجئے تو آپ ؑ نے اس کو یہ بیش بہا نصیحت فرمائی :’’صبر کو تکیہ بناؤ ،غریبی کو گلے لگاؤ ،خواہشات کو چھوڑ دو ،ہویٰ و ہوس کی مخالفت کرو ،یاد رکھو تم خدا کی نگاہ سے نہیں بچ سکتے، لہٰذا غور کرو کس طرح زند گی بسر کرنا ہے ‘‘۔
۳۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے بعض اولیا کو وعظ و نصیحت پر مشتمل یہ گرانبہا خط تحریر فرمایا : ’’ہم اس دنیا سے چلو بھر پانی لیتے ہیں لیکن جس شخص کی خواہش اپنے دوست کی طرح ہو اور وہ اس کی روش کے مطابق چلتا ہو تو وہ ہر جگہ اس کے ساتھ ہوگا جبکہ آخرت چین و سکون کا گھر ہے ‘‘۔آپ ؑ کے یہ وہ مو عظے اور ارشادات ہیں جو انسان کو اس کے رب سے نزدیک کرتے ہیں اور اس کے عذاب و عقاب سے دور کرتے ہیں ،انسان کے نفس میں اُبھرنے والے برے صفات کا اتباع کر نے سے ڈراتے ہیں ،یہ برے صفات انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں ،انسان کو رذائل اور جرائم کے میدانوں میں گامزن کر دیتے ہیں ،امام محمد تقی ؑ نے اپنے وعظ و ارشادات میں اپنے آباء و اجداد کا اتباع فرمایاہے ،یہ وہ تابناک نصائح ہیں جن کا ہم اُن کی سیرت و سوانح حیات میں مطالعہ کرتے ہیں ۔

امام کا قتل
حضرت امام محمد تقی کی وفات فطری طورپر نہیں ہو ئی بلکہ آپ کو اس معتصم عباسی نے زہر دغا سے شہید کیا ،جس کے دل میں امام محمد تقی سے بغض کینہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔جب وہ مسلمانوں سے امام محمد تقی کے فضائل سنتاتھا تو اس کے نتھنے پھول جاتے تھے، اس نے اپنا حسد اس ظلم کے ارتکاب سے کیا، امام محمد تقی ؑ کو شہید کر نے کا ایک دوسرا سبب ابو داؤد کی شکایت بتایا جاتا ہے ،جب ایک فقہی مسئلہ میں معتصم نے امام محمد تقی ؑ کا حکم تسلیم کیا اور بقیہ فقہا ء کی رائے تسلیم نہیں کی اوروہ مسئلہ یہ تھا کہ ایک چور نے بذات خود اپنی چوری کا اقرار کیا ،معتصم نے اس پر حد جاری کر کے معاشر ہ کو پاک کرنا چاہا، اس نے فقہا اور امام محمد تقی ؑ کو اپنے دربار میں بلاکر ان کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا تو ابو داؤد سحبتانی نے کہا : تیمم کے سلسلہ میں خدا کے اس فرمان : (فامسحوا بوجوھکم وَاَید یکم) کے مطابق اس کا گٹے سے ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔ دوسرے فقہاء نے کہا چور کا کہنی سے ہاتھ کا ٹنا واجب ہے جس کی دلیل اللہ کا یہ فرمان :(وایدیکم الی المرافق ) ہے ۔  
معتصم نے امام محمد تقی کی طر متوجہ ہو کر کہا :اے ابو جعفر آپ کا اس بارے میں کیا فرمان ہے ؟ ’’ قوم کے علما ء اس مسئلہ میں گفتگو کر چکے ہیں ‘‘۔جو کچھ انھوں نے کہا ہے اسکی وجہ سے مجھے میرے ہی حال پر رہنے دیجئے۔۔۔ معتصم نے امام محمدتقی ؑ کو خدا کی قسم دے کر کہا آپ اس مسئلہ کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں بیان کیجئے ۔’’جب تو نے مجھے خدا کی قسم دیدی ہے تو میں بھی تجھے بتاتا ہوں ان سب نے سنت میں غلطی کی ہے چور کے ہاتھ کی چاروں انگلیا ں کاٹ دیجئے اور ہتھیلی کو چھوڑ دیجئے ‘‘۔
معتصم نے کہا :کیوں ؟امام ؑ نے فرمایا: کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اعضا ء سجدہ سات ہیں، پیشانی دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں دونوں گھٹنے اور دونوں پیر اگر اس کا ہاتھ گٹے سے یا کہنی سے کا ٹ دیا جائے گاتو اس کے سجدہ کر نے کیلئے ہاتھ ہی نہیں رہے گا اور خدا فر ما تا ہے:( وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ ) ،یعنی یہی سات اعضاء جن پر سجدہ کیا جاتا ہے اللہ کیلئے ہیں ۔اور جو چیز اللہ کیلئے ہو تی ہے اسے قطع نہیں کیا جاتا ہے۔امام محمد تقی ؑ کے فتوے اور استد لال سے معتصم ہکا بکارہ گیا اس نے چو ر کی ہتھیلی کو چھو ڑکر بقیہ انگلیاں کاٹنے کا حکم دیدیا اور بقیہ فقہاء کی رائے تسلیم نہیں کی ابو داؤ د غیظ و غضب میں بھر گیا، اس نے تین دن کے بعد معتصم سے آکر کہا :مجھ پر امیر المو منین کو نصیحت کر نا واجب ہے اور میں ایسی بات کر تا ہو ں جسکے ذریعہ مجھے معلوم ہے کہ جہنم میں جا ؤ نگا۔معتصم نے جلدی سے کہا :وہ کیا ہے ؟امیر المومنین نے ایک مجلس میں اپنی رعیت کے تمام فقہاء اورعلماء کو جمع کیا اور ان سے دینی امر کے متعلق سوال کیا تو وہ اس مسئلہ کے بارے میں جو کچھ جانتے تھے انھوں نے اس کو بتایا ،اس مجلس میں اس کے اہل بیت وزیر وزرا اور نامہ نگار موجود تھے اور دروازہ کے پیچھے سے لوگ اس کی بات سن رہے تھے پھر اس نے ایک شخص کی وجہ سے تمام فقہا کی بات رد کر تے ہو ئے اس کا قول قبول کر لیا جس کو اس امت کا امام بتایا جا تا ہے اور یہ ادعاکیاجاتا ہے کہ ان کامقام ومنصب سب سے اولیٰ ہے پھر امیر فقہاء کے حکم کو چھوڑتے ہوئے اسی امام کے حکم کو نافذ کرتا ہے ؟معتصم کا رنگ متغیر ہوگیا ،اس نے اس کی بات کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا:خداتجھے اس نصیحت کے عوض خیر عطا کرے۔
معتصم بادشاہوں کونصیحت کرنے والے اسی نام نہادفقیہ کو امام ؑ کو قتل کرنے کیلئے بھیجا،وائے ہواس پر جو عظیم گناہ کامرتکب ہوااوران ائمہ اہل بیت ؑ میں سے ایک امام کوقتل کرنے میں شریک ہواجن کی محبت کواللہ نے ہرمسلمان مرداورعورت پرواجب قراردیاہے۔راویوں میں اس شخص کے بارے میں اختلاف پایاجاتاہے جس کو معتصم نے امام ؑ کو قتل کرنے کیلئے بھیجاتھا۔بعض راویوں نے نقل کیاہے کہ اس نے اپنے بعض زیروں کے بعض کاتبوں کو امام ؑ کے قتل کرنے کے لئے روانہ کیاتھا۔ایک کاتب نے امام ؑ کی اپنے گھر میں زیارت کی غرض سے دعوت کی تو امام ؑ نے انکارفرمادیا،لیکن جب اس نے بہت زیادہ اصرارکیااور امام ؑ کے پاس اس کی دعوت قبول کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا۔امام ؑ اس کے گھر تشریف لے گئے جب کھانا تناول کیاتو آپ ؑ نے زہر کا احساس کیا آپ اپنی سواری پر سوارہوکراس کے گھرسے نکل آئے، دوسرے راویوں نے یوں بیان کیاہے کہ معتصم نے امام ؑ کی زوجہ اور اپنی بھتیجی ام الفضل کو بہکایاکہ اگر وہ امام ؑ کوزہر دیدے گی تومیں اس کواتنامال دونگا۔بہرحال زہراپناکام کرگیا۔امام کوسخت تکلیف ہونے لگی،آنتیں کٹ گئیں،عباسی حکومت کے عہدیداروں نے صبح کے وقت بیماری کی وجہ معلوم کرنے کی غرض سے احمد بن عیسیٰ کو بھیجا موت امام ؑ کے قریب ہورہی تھی حالانکہ ابھی آپ نے عنفوان شباب میں ہی قدم رکھاتھا۔جب آپ کو بالکل موت کے قریب ہونے کایقین ہوگیاتوآپ ؑ نے قرآن کریم کے سوروں کی تلاوت کرنا شروع کردیا اور آخری دم تک تلاوت کرتے رہے،آپ کی موت سے دنیائے اسلام کے قائدوامام کا نور ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا۔امام ؑ کی موت سے رسالت اسلامیہ کاوہ صفحہ بند ہوگیا جس نے فکرکوروشنی بخشی اور علم وفضل کی زمین کوبلندی عطا کرکے اسے منورکیا۔

آپ کی تجہیزوتکفین
امام محمدتقی ؑ کو غسل وکفن دیاگیااوریہ تمام امورامام علی نقی علیہ السلام نے انجام دئے نماز جنازہ پڑھائی اس کے بعدآپ کے جنازہ کو بڑی ہی شان وشوکت سے قریش کے مقبرہ تک لایاگیاآپ ؑ کے جنازہ میں جم غفیرنے شرکت کی جس میں وزراء ،کُتّاب اورعباسی وعلوی خاندان کے بڑے بڑے عہدیدارپیش پیش تھے ،وہ بڑے حزن والم سے کہہ رہے تھے کہ عالم اسلام خسارہ میں ہے آپ کاجسداطہر مقابرقریش تک پہنچااورآپ ؑ کے جدبزرگوارامام موسیٰ بن جعفر کی قبر مطہرکے پہلومیں دفن کردیاگیاآپ کے ساتھ ہی انسانی اقدار کاقوام اوربلندوبالااسوہ حسنہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Mourining of Imam Hossein
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram