یہودیت اور اس کے عزائم(۱)

خدا اور پیغمبر یہودیت کی نگاہ میں

ہم نے تمہارے حدود اور سرحدیں بحر فلسطین اور صحراء سے نہر فرات تک قرار دی ہیں اس لیے کہ اس سر زمین کے باشندوں کو ان کی سرزمین سے شہر بدر کر دو گے ان کے لوگوں اور ان کے خداوں کے ساتھ عہد نہ کرو۔

  بسم اللہ الرحمن الرحیملتجدن اشد الناس عداوۃ للذین آمنوا الیھود (مائدہ،۸۲)صاحبان ایمان سے سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے یہود ہیں۔توریت اور عہدہ عتیقتوریت یعنی تعلیم و بشارت، یہ ایک آسمانی کتاب ہے جو حضرت موسی علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی لیکن یہودیوں نے اس کتاب میں تحریف کر دی اور مختلف اور بے شمار خرافات کو اس کا جزء بنادیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ایک مضحکہ خیز تعلیمات پر مشتمل عجیب کتاب کی صورت میں موجود ہے۔توریت کے جمع کرنے والے گمنام اور مجہول اشخاص ہیں جن کے بارے میں قرآن فرماتا ہے:’’ وائے ہو ان لوگوں پر جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ کر یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے تاکہ اسے تھوڑے دام میں بیچ دیں۔ ان کے لیے اس تحریر پر بھی عذاب ہے اور اس کی کمائی پر بھی‘‘۔( سورہ بقرہ،۷۹)یہ آیت مکمل طور پر انہیں افراد پر منطبق ہوتی ہے۔الف: خدا یہودیوں کی نگاہ میںخداوند عالم یہودیوں کی مقدس کتاب میں ایک عجیب و غریب شمائل اور خصائل رکھنے والی ہستی ہے گویا بالکل انسان جیسا ہے (۱)، لباس پہنتا ہے (۲) اس کے دو پیر ہیں (۳) انسانوں کی طرح چلتا پھرتا ہے (۴) آسمان سے زمین پر اترتا ہے۔ جہاں دل چاہتا ہے چلا جاتا ہے کسی بھی جگہ اپنا ٹھکانہ بنا کر رہنا شروع کر دیتا ہے۔ (۵) اس قدر جاہل ہے کہ بغیر علامت کے مومنین اور کفار کے مکانوں میں تمیز نہیں کر سکتا(۶) بہت سی چیزوں سے بے خبر ہے (۷) اپنے معین کئے ہوئے پیمانوں کو توڑ دیتا ہے (۸) اپنے انجام دئے ہوئے افعال پر پشیمان ہوتا ہے (۹) کبھی افسوس کرتا ہے اور اپنے افعال پر غمگین ہوتا ہے (۱۰) انسان کے ساتھ کشتی لڑتا ہے (۱۱) اور تین عدد ہوتے ہوئے بھی ایک ہے یعنی تین بھی ہے اور یکتا بھی ہے۔(۱۲) سانپ اس سے زیادہ سچا ہے (۱۳) آسمان سے زیادہ زمین پر اترتا ہے عوام کے کلام میں افتراق پیدا کر دیتا ہے کیونکہ ان کے یک زبان ہونے سے خوف و ہراس میں رہتا ہے (۱۴) ایک بات کہہ کر اس سے پھر جاتا ہے (۱۵)۔ب: یہودیوں کی نگاہ میں پیغمبرکتاب مقدس میں پیغمبروں کی حیثیت بھی خدا سے کم نہیں ہے مثلا انہیں میں سے بعض:۱: نا محرم عورتوں کے ساتھ زنا کرتے ہیں جیسا کہ حضرت داود علیہ السلام کی جانب نسبت دی گئی ہے (۱۶) ( معاذ اللہ)۲: اپنی بیٹیوں کے ساتھ زنا کرتے ہیں اور اس کی نسبت حضرت لوط علیہ السلام کی طرف دی گئی ہے (۱۷)(معاذ اللہ)۳: عوام کو دھوکا دیتےہیں اور ان کو قتل کر کے ان کی بیویوں کو داشتہ بنا لیتے ہیں (معاذ اللہ) اس عمل کو بھی حضرت داوود علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں۔(۱۸)۴: خداوند عالم کے ساتھ کشتی لڑتے ہیں جیسا کہ حضرت داوود علیہ السلام کی طرف منسوب ہے (۱۹)۵: خداوند عالم کے نہی کرنے کے باوجود اس کے منع کئے ہوئے فعل کو انجام دیتے ہیں جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف نسبت دیتے ہیں (۲۰) معاذ اللہ۶: ان کے قلوب بتوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف نسبت دی گئی ہے (۲۱) معاذ اللہ۷: بتوں کی پرستش کے لیے بت خانہ تعمیر کرتے ہیں جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف نسبت دی گئی ہے (۲۲) معاذ اللہ۸: خدا ان کو مارنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اس کی نسبت حضرت موسی علیہ السلام کی جانب دی گئی ہے(۲۳)۹: ظالم ہیں اور بچوں ، مصیبت زدہ افراد اور گائے اور بھیڑوں کو مار ڈالنے کا حکم دیتے ہیں۔ (۲۴)۱۰: خداوند عالم کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں۔ اس بات کی نسبت بھی حضرت موسی علیہ السلام کی طرف دی گئی ہے۔ (۲۵)۱۱: سالہا سال سر وپا برہنہ عریاں حالت میں عمومی جنگہوں پر آمد و رفت کرتے ہیں جیسا کہ پیغمبر کے پیروکاروں کی طرف نسبت دی گئی ہے۔(۲۶)۱۲: گردن بند اور مالاوں سے اپنی زینت کرتے ہیں اس کی نسبت بھی ’’ ارمیای‘‘ پیغمبر کی جانب دیتے ہیں (۲۷)۱۳: خدا اپنے پیغمبروں کو انسانی نجاست سے آلودہ روٹی کھانے کا حکم دیتا ہے۔ ۱۴: خداوند عالم نے ان کو حکم دیا ہے کہ اپنی داڑھی اور مونچھوں کو منڈواو۔ یہ دونوں باتیں جناب حزقیل سے منسوب کی گئی ہیں۔ (۲۸)۱۵: خداوند عالم نے ان کو حکم دیا ہے کہ ناجائز اولاد سے رشتہ ازداوج قائم کریں۔ یہودیوں کے بقول حضرت یوشع علیہ السلام نے یہ فعل انجام دیا ہے (۲۹)۱۶: لوگوں کو بتوں کی پرستش کی ترغیب دلاتے ہیں اور خود بت بناتے ہیں۔ اس واقعہ کو جناب ہارون علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں (۳۰)۱۷: زنا زادے ہیں یہودیوں کے بقول (معاذ اللہ)۔ حضرت یفتاح پیغمبر زنا کے ذریعہ متولد ہوئے تھے (۳۱)۱۸: شراب پی کر مست ہو جاتے ہیں۔ اس کی نسبت حضرت نوح علیہ السلام کی جانب دیتے ہیں (۳۲)۱۹: یہودیوں کے عقیدہ کے مطابق پیغمبر جھوٹ بھی بولتا ہے جیسا کہ انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام پر یہ الزام لگایا ہے۔(۳۳)توریت کی بعض عبارتیں۔ میں نے کہا کہ تم خدا ہو اور تم سب حضرت اعلیٰ کے فرزند ہو لیکن آدمیوں کی طرح تمہیں بھی موت کا سامنا کرنا ہو گا (۲۴)۔ اسرائیل کے علاوہ دوسری کوئی قوم خدا کی جماعت سے ملحق نہیں ہو سکتی اور نہ ان میں سے کوئی خدا کے معاشرے میں داخل ہو سکتا ہے۔ (۲۵)۔ شراب بالکل نہ پیو اس کو کسی غریب مسافر کو جو تمہارے دروازے کے اندر ہو دے دو یا کسی اجنبی کے ہاتھ بیچ ڈالو اس لیے کہ تم اپنے خدا یہوہ کے نزدیک مقدس ہو۔(۲۶)۔ اپنی بیٹیوں کو ان کو نہ دو اور نہ ان کی بیٹیوں کو اپنے بیٹوں اور اپنے لیے لو۔ (۲۷)۔ ہم نے تمہارے حدود اور سرحدیں بحر فلسطین اور صحراء سے نہر فرات تک قرار دی ہیں اس لیے کہ اس سر زمین کے باشندوں کو ان کی سرزمین سے شہر بدر کر دو گے ان کے لوگوں اور ان کے خداوں کے ساتھ عہد نہ کرو۔ (۲۸)کنعانیوں کی سر زمین میں نہر فرات تک داخل ہو جاو ہم نے اس سر زمین کو تمہارے سامنے پیش کر دیا ہے پس اس میں داخل ہو کر اس زمین پر جس کو خداوند عالم نے تمہارے آباو و اجداد ابراہیم و یعقوب و اسحاق کو اور ان کی ذریت کو دینے کی قسم کھائی ہے  تصرف کرو۔(۲۹)۔ امتوں کو تمہاری میراث بنا دوں گا اور زمین کے اطراف و اکناف کو تمہارے جاگیر قرار دونگا ان کو اپنے آہنی عصا سے مار ڈالو گے، کوزہ گر کی طرح ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دو گے(۳۰)۔گوشت کھاو اور خون پیو، تم صاران کا گوشت کھاو گے اور دنیا کے رئیسوں اور امیروں کا خون پیو گے(۳۱)۔ان لوگوں کو ذبح کر ڈالنے کے لیے بھیڑ بکریوں کی طرح باہر کھینچ لو اور ان کو روز قتل کے لیے آمادہ کر لو(۳۲)۔خداوند عالم یعقوب پر رحم فرماتے ہوئے اسرائیل کو دوبارہ منتخب کریگا اور ان کو ان کی زمینوں میں مطمئن بنا دے گا غرباء ان سے ملحق ہو کر خاندان یعقوب سے متصل ہو جائیگے گے اور (غیر یہودی) قومیں انکو اپنے مسکن تک لیجائیں گی۔ خاندان اسرائیل ان ( غیر یہودیوں) کو خداوند کی زمینوں پر اپنا غلام اور کنیز بنا لینگے۔ اور بنی اسرائیل اپنے اسیر کرنے والوں کو اسیر اور اپنے اوپر ظلم ڈھانے والوں پر حکمرانی کریں گے۔(۳۳)حوالہ جات(۱):سفر پیدائش، اصحاح اول، آیہ ۳۶(۲): سفر دانیال، اصحاح ہفتم(۳): سفر خروج، اصحاح ۲۴(۴): سفر پیدائش، اصحاح ۳(۵): سفر خروج، اصحاح، ۱۹، و مزامیر ۱۳۲، آیت ۱۳(۶): سفر خروج، اصحاح، ۱۲، آیت ۱۲(۷): سفر پیدائش، اصحاح،۳(۸): سموئیل اول، اصحاح ۲،آیت ۳۰(۹): سموئیل اول، اصحاح ۱۵، آیت ۱۰(۱۰): سفر پیدائش، باب ۸(۱۱): سفر پیدائش، باب ۳۴(۱۲): سفر پیدائش، اصحاح ۱۸، آیت اول اور اصحاح ۱۹ آیت اول(۱۳): سفر پیدائش، اصحاح ۳،آیت ۳۰(۱۴): سفر پیدائش، باب ۱۱، آیت ۱۱(۱۵): سفر پیدائش، اصحاح ۶،آیت ۶(۱۶): سموئیل دیم، اصحاح ۱۱، متفرق آیات(۱۷): سفر پیدائش، اصحاح ۲۹(۱۸): سموئیل دوم، اصحاح۱۱(۱۹): سفر پیدائش، اصحاح ۲۹(۲۰): اول پادشاہان، اصحاح ۱۱(۲۱): اول پادشاہان، اصحاح ۱۱،آیت ۱(۲۲): اول پادشاہان، باب ۱۱(۲۳): سفر خروج، اصحاح ۴ مختلف آیات(۲۴): سفر تثنیہ، باب ۱۰، آیہ ۱۵(۲۵): سفر تثنیہ، باب، ۲۳، آیات، ۱تا ۳(۲۶): سفر تثنیہ، باب ۱۴، آیت ۲۱(۲۷): سفر نحمیا، باب ۱۳، آیت ۲۵(۲۸): سفر خروج، باب ۲۳، آیت ۳۱(۲۹): سفر تثنیہ، باب ۱، آیت ۷ و ۸(۳۰): مزا میر، باب ۲،آیت ۸ و ۹(۳۱): سفر حزقیال، باب ۳۹، آیت ۱۸(۳۲):  سفر تثنیہ، باب، ۲۰، آیت ۳(۳۳): اشعیا، باب ۱۴، ۱تا۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242


سینچری ڈیل، نہیں
conference-abu-talib
We are All Zakzaky