وہابی مفتی اکیلے نہیں؛

صہیونی ربیوں کے نسل پرستانہ فتؤوں کانیا دور

صہیونی ربی عوادیا یوسف نے اپنے ایک نئے فتوے میں اعلان کیا ہے کہ غیریہودیوں کوصرف یہودیوں کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے ۔

انھوں نے اپنے ایک بیان میں جوشدیدنسلی امتیاز کی عکاسی کرتا ہے کہا ہے کہ غیریہودیوں کے لئے دنیا میں کوئی جگہ نہيں ہے اور انھیں صرف صہیونیوں کی خدمت کے لئے خلق کیا گیا ہے۔عوادیا یوسف نے کچھ دن قبل بھی اپنے ایک نسل پرستانہ بیان میں فلسطینیوں کو نابود کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو اپنے ہتھیاروں سے ملت فلسطین کو پوری طرح ختم کرنا چاہئے۔ عوادیا یوسف کا نیا نسل پرستانہ فتوی ایسے حال میں سامنے آیا ہے کہ صہیونی ریاست کے ایک اور ربی اسحاق شابیرا نے بھی نسل پرستانہ فتوی جاری کیا ہے۔اسحاق شابیرا نے اسرائیلی فوجیوں کے لئے فلسطینیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہود کے حقیقی آئين کی بنیاد پر، دوسروں کی جان کی نسبت، اسرائیلیوں کی زندگی کو ترجیح حاصل ہے لہذا ان کی جان کو خطرے میں ڈالنا منع ہے۔صہیونی ریاست کے نسل پرستانہ فتوؤں کے نئے سلسلے نے عالمی برادری کو غاصب اور توسیع پسند صہیونیوں کی نسل پرستانہ ماہیت کی جانب پہلے سے زیادہ متوجہ کردیا ہے۔ یہ پہلی بار نہيں ہے جب صہیونی ریاست کے سیاسی اور نام نہاد مذہبی رہنماؤں نے غیر یہودیوں کے سلسلے میں اس طرح کے نسل پرستانہ، توہین آمیز، اور کینہ پروری پر مبنی بیان دیا ہے۔ صہیونی ریاست کے سابق سربراہ مناخیم بگین نے بھی اس ریاست کی گستاخانہ اور نسل پرستانہ پالیسیوں کے تناظر ميں فلسطینی عوام کو ایسا وجود قرار دیا تھا جس سے چھٹکارا حاصل کرلینا چاہئے۔صہیونی ریاست کے سابق وزیر ا‏عظم اسحاق رابین نے بھی 1991 میں فلسطینیوں کو بحیرہ روم (Mediterranean Sea) میں غرق کردینے کا مطالبہ کیا تھا۔صہیونی ریاست کے موجودہ وزیر خارجہ آویگڈر لیبرمین (Avigdor Lieberman) نے بھی کچھ روز قبل فلسطینوں کو بحرالمیت میں غرق کردینے  کا مطالبہ کیا تھا۔اپارتھائیڈ، (نسلی امتیاز) نازی ازم (Nazism) اور فاشیزم (Fascism) جیسے نسل پرستانہ نظریات کی مانند ہی صہیونی ریاست بھی انسانی معاشرے کے لئے ایک خطرہ ہے اور اس طرح کے نظریات کا مقابلہ ایک ناقابل انکار ضرورت ہے۔مختلف شواہد اور قرائن کے پیش نظر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1975 میں قرارداد 3379 جاری کرکے صہیونی ریاست کو نسل پرستی کے مترادف قرار دیا ہے۔ مذکورہ قرارداد مشرق وسطی میں سازباز کے عمل اور مغربی حکومتوں کے دباؤ کے نتیجے میں 1994 ميں منسوخ کردی گئی لیکن موجودہ حالات نے ثابت کردیا ہے کہ نہ صرف صہیونی ریاست کا نسل پرستانہ عمل کم نہيں ہوا ہے بلکہ اس میں شدت بھی آئی ہے اوراس نے مزید خطرناک رخ اختیار کرلیا ہے۔ اس مسئلے نے عالمی سطح پر تشویش اور احتجاج کی شکل اختیارکرلی ہے اور صہیونی ریاست کی نسل پرستانہ پالیسیوں پر اقوام متحدہ کے حکام کا ردعمل، اس سلسلے میں قابل غور ہے۔مقبوضہ فلسطین میں انسانی حقوق کے سلسلے میں اقوام متحدہ کےخصوصی رپورٹر رچرڈ فاک (Richard A. Falk) نے اقوام متحدہ کو اپنی رپورٹ میں بھی اس مسئلے کی جانب اشارہ کیاہے۔ انھوں نے اس رپورٹ میں نسل پرستی اور سامراجیت کو اسرائیل کی دو اہم خصوصیات قرار دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔

/110


سینچری ڈیل، نہیں
conference-abu-talib
We are All Zakzaky