صہیونی معاشرے میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان

غاصب فلسطینی ریاست کے وزیر صحت نے کہا: مقبوضہ سرزمینوں میں آنے والے مہاجر صہیونیوں کے درمیان خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، "فلسطین الیوم" نامی ویب سائٹ نے صہیونی وزیر صحت کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایتھوپیا اور سابق سوویت یونین کی ریاستوں سے آنے والے صہیونیوں میں خودکشی کا تناسب بڑھ گیا ہے۔ صہیونی وزیر صحت نے کہا ہے کہ روس سے آنے والے صہیونیوں میں خودکشی کا رجحان دیگر ممالک سے آنے والے مہاجر صہیونیوں کی نسبت دو گنا اور ایتھوپیا سے آنے والے صہیونیوں کی نسبت سات گنا زیادہ ہے۔اس رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال 365 صہیونیوں نے خودکشی کی ہے جن میں تیس فیصد کا تعلق نئے آنے والے صہیونی مہاجرین سے تھا جبکہ مجموعی تعداد کی نسبت روسی مہاجرین کا تناسب 73 فیصد تھا جبکہ 23 فیصد کا تعلق ایتھوپیائی مہاجرین اور 4 فیصد کا تعلق دیگر ممالک سے آنے والے مہاجرین سے تھا۔صہیونی وزیر صحت نے کہا کہ دوسرے لحاظ سے ایتھوپیائی مہاجرین میں خودکشی کا رجحان روسیوں سے زیادہ ہے کیونکہ گذشتہ سال ایک لاکھ روسی مہاجرین میں سے 12 افراد نے خودکشی کی جبکہ ایک لاکھ ایتھوپیائی مہاجرین میں سے خودکشی کرنے والوں کی تعداد 46 تھی۔ ادھر ایک صہیونی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی بچوں کے درمیان منشیات کے استعمال میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے اور مقبوضہ علاقوں میں رہائش پذیر صہیونی بچے اور نوجوان ہر سال منشیات سے بنی ہوئی دو کروڑ گولیاں، 90 ٹن چرس اور میری جوانا استعمال کرتے ہیں۔  یروشلم پوسٹ نے صہیونی وزیر صحت کے حوالے سے لکھا ہے کہ تین لاکھ بیس ہزار اسرائیلی ممنوعہ منشیات،  جیسے: ہیروئن، چرس اور ایکسٹاسی گولیاں استعمال کرتے ہیں اور یہ رجحان ہر سال صہیونی ریاست کو ایک ارب ساتھ کروڑ ڈالر کا مالی نقصان پہنچنے کا باعث ہورہا ہے۔ .............../110


سینچری ڈیل، نہیں
conference-abu-talib
We are All Zakzaky