قدس امت اسلامی کی سرزمین آرزو

«بسلسلہ عالمی یوم القدس‏»

 

فلسطینی قوم اور امت اسلامی مٹھی بھر یہودیوں کے جرائم اور ان کی اہانت و توہین کو ہرگز نہیں بھولے گی. مختلف النوع جارحیتیں، حیلہ گریاں، سازشیں، قتل عام اور دسیوں لاکھ افراد کی دربدری اور بیرون ملک ہجرت صہیونی یہودیوں کی کارکردگی کا نتیجہ ہے جو نصف صدی سے اسلامی سرزمینوں پر قابض ہوئے ہیں.

اس مضمون میں صہیونی یہودیوں کے شرمناک افعال و اعمال کے اعداد و شمار بتانا مقصد نہیں ہے کیوں کہ یہ لوگ دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہر قسم کے جرائم کو بے دھڑک سرانجام دینے والے ہیں اور دنیا والے بھی ان کی مذمت کے روادار نظر نہیں آتے.

اس مضمون کا ہدف یہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن مجید کی نظر میں یہودیوں کا بے نقاب چہرہ قارئین کرام کو دکھایا جائے؛ بیت المقدس کے اصلی باشندوں کو تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے؛ مسلمانوں کی کارکردگی پر روشنی ڈالی جائے؛ یہودیوں کے مذہبی اور غیر مذہبی شعبوں پر آدھی سے نگاہ ڈالی جائے اور آخر میں امن مذاکرات کا بھی ایک مختصر سا جائزہ لیا جائے.

یہود قرآن کی روشنی میں

یہوديوں کو «عبرانى‏» اور «عبرى‏» کہا گیا ہے اور یہ لفظ، کلمہ «عبر» سے مأخوذ ہے اور عبر حضرت ابراہیم خلیل اللہ (ع) کا نام ہے جو یہودیوں کے جد اعلی شمار کئے جاتے ہیں جن کا تعلق «دریائے فرات» کے کنارے (بابل) سے تھا. انہیں اسرائیل اور بنواسرائیل بھی کہا گیا کیونکہ ان کے ایک جدّ یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب «اسرائيل‏» تھا جو نبی اللہ تھے. اسرائيل کا لقب «اسراء» (بمعنی بندہ) اور «ئيل» (بمعنی خدا) سے مرکب ہے اور عربی میں «عبداللہ» يعنى بندہ خدا کے معنی میں آیا ہے. (1)

یہود بندہ خدا يا بندہ دنیا؟

پیسہ پرست اور مال دنیا جمع کرنے اور اموال ذخیرہ کرنے کے حوالے سے انسانی تاریخ کے طول و عرض میں قوم یہود کی طرح کوئی بھی دوسری قوم کبھی تاریخ کی آنکھوں کو نظر نہیں آئی ہے. یہودیوں نے اس مقصد کے حصول کے لئے تمام جائز اور ناجائز روشیں استعمال کی ہیں. یہ مسئلہ بظاہر یہود کے اس عقیدے سے تعلق رکھتا ہے کہ یہود اپنے آپ کو خدا کی برگزیدہ ملت سمجھتے ہیں؛ کیونکہ برگزیدہ ملت کے عنوان سے ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ان کو دنیا پر مسلط ہوجانا چاہئے اور مال و دولت اس ہدف و مقصد تک پہنچنے کا مؤثر ترین وسیلہ ہے. یہودی اسی وقت بھی اپنی جمع کی ہوئی ثروت کی بدولت بہت سے بڑی عالمی حکومتوں کے اصلی مالک ہیں اور اپنی مالی اور اقتصادی سرگرمیوں کے ذریعے عالمی سیاستدانوں پر براہ راست اثر انداز ہوجاتے ہیں. امریکہ سرمایہ داری کی دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے حرف اول و آخر یہودیوں کا ہوتا ہے اور یورپ کے متعدد ممالک میں نفوذ کرنے والے یہودی گروہ ان ملکوں کے مقدرات کے فیصلے کرتے ہیں.

قرآن کی گواہی اور شواہد سے ثابت ہے کہ یہودیوں کے مادی تفکر کا بنیادی سرچشمہ یہ ہے کہ وہ معاد پر یقین نہیں رکھتے؛ قرآن كريم اس سلسلے میں فرماتا ہے:

«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قَدْ يَئِسُوا مِنَ الْآخِرَةِ كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ»(2) 

«اے ایمان والو! یہودیوں کے ساتھ – جو غضب خداوندی کے لائق ٹہرے ہیں – معاشرت اور دوستی نہ کرو اور ان کی مدد نہ کرو کیوں کہ انہوں نے آخرت کا انکار کیا ہے اور اسی وجہ سے ان کے ثواب اور اخروی جزا کی آرزو منقطع ہوگئی ہے اور وہ قیامت سے اسی طرح ناامید ہیں جیسے کہ کفار اہل قبور سے ناامید ہیں». نيز فرماتا ہے:

«وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ وَاللّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ‏» (3)

«یہود دنیا کی زندگی اور دنیاطلبی کے حوالے سے انسانوں کے درمیان سب سے زبادہ حریص ہیں اور چونکہ وہ صرف دنیا کی طلب رکھتے ہیں لہذا مشرکین سے بھی زیادہ حریص ہیں؛ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے لہذا ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہے کہ ہزار برس جئے لیکن بالفرض اگر اس کی یہ آرزو پوری بھی ہوجائے تو اس کو عذاب سے نجات نہ دے سکے گی اور خدا ان کے تمام اعمال پر بصیرت رکھتا ہے».

یہودیوں کو اس دنیاوی حرص و لالچ کی وجہ سے خدا کی طرف سے سزا ملی اور وہ غذائیں اور اشیاء خورد و نوش جو پہلے ان کے لئے حلال تھیں ان پر حرام کردی گئیں جیسا کہ فرمان خداوندی ہے:

«فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللّهِ كَثِيرًا - وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُواْ عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا »

ان یہودیوں پر ہم نے ان کے ظلم و نافرمانی اور خدا کی راہ بند کرنے کی وجہ سے، بعض وہ پاک چیزیں حرام کردیں جو ان پر حلال تھیں؛ اور اسی طرح (حلال اشیاء کی حرمت کے اسباب اور بھی تھے اور وہ یہ کہ) وہ سود حرام وصول کرتے تھے جبکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور وہ لوگوں کے اموال باطل روشوں (جیسے رشوت خواری، جعلسازی، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور ناپ تول میں کمی و دہوکہ دہی) کے ذریعے کھالیتے تھے (اور سب سے اہم بات یہ کہ وہ رباخواری کو مباح سمجھتے تھے) اور ہم نے ان کے لئے دردناک ترین عذاب تیار کیا ہے» (4) .

یہودی موت کی آرزو کبھی نہیں کرتے اور اس کی دلیل خداوند متعال کا یہ فرمان ہے کہ:

مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ - قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاء لِلَّهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ - وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ - قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

وہ لوگ (یہود) جن کو تورات پر عمل کرنے کا فریضہ سونپا گیا مگر انہوں نے تورات کا حق ادا نہیں کیا اس گدھے کی مانند ہیں جس پر کتابیں لادی گئی ہیں (جو انہیں پیٹھ پر لئے پھرتا ہے مگر اس کی حقیقت سے واقفیت نہیں رکھتا)؛ وہ لوگ ہیں جو آیات خداوندی کا انکار کرتے ہیں اور ان کی مثال بہت بری ہے اور خداوند متعال اہل ظلم و ستم کو ہرگز سیدھے راستے کی طرف راہنمائی فراہم نہیں کرتا – کہہ دو اے میرے رسول! اے یہودیو! اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ صرف تم ہی خدا کے دوست ہو اور دوسرے لوگ ایسے نہیں ہیں تو موت کی آرزو کرو اگر سچ بولتے ہو (تا کہ تم اپنے محبوب کی ملاقات کرسکو)! مگر وہ ہرگز موت کی خواہش و آرزو نہیں کریں گے ان اعمال کی وجہ سے جو انہوں نے اپنے اٹھ جانے سے پہلے سرانجام دیئے ہیں اور خداوند متعال ظالموں کو بہت اچھی طرح جانتا ہے- کہہ دو! یہ موت جس سے تم بھاگ رہے ہو، آخرکار تم کو آہی لے گی اور اس کے بعد غیب و شہود کے عالم و دانا (حضرت حق تعالی) کے پاس لوٹا دئے جاؤگے اور پھر خداوند متعال تمہیں ان اعمال کی خبر دے گا جو تم سرانجام دیتے رہے تھے!»۔(5)

اسی دنیا طلبی کی بنیاد پر آج یہودیوں کے سیاسی مکتب نے صہیونیت کے عنوان سے امریکہ کے زیر نگرانی «مشرق وسطی امن» نامی "مکر" کے تحت


سینچری ڈیل، نہیں
conference-abu-talib
We are All Zakzaky