انتظار کا صحیح مفہوم، امام خامنہ ای کی نگاہ میں

  • News Code : 755554
  • Source : ابنا خصوصی
Brief

حقیقت انتظار میں ایک اور خصوصیت شامل کر دی گئی ہے اور وہ خصوصیت یہ ہے کہ انسان موجودہ صورت حال پر، اس وقت تک حاصل ہونے والی پیشرفت پر ہی قانع نہ ہو جائے بلکہ روز بروز اس ترقی میں اضافہ، ان حقائق اور روحانی و معنوی صفات کو اپنے اندر اور معاشرے کی سطح پر نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ یہ انتظار کی لازمی باتیں ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

۹ جولائی ۲۰۱۱ کو عقیدہ مہدویت کے محققین اور اساتذہ سے خطاب کا ایک حصہ:
’’امام زمانہ علیہ السلام سے متعلق عقیدے کا جہاں تک تعلق ہے تو پندرہ شعبان (امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کی تاریخ) کے قریب ہونے کی وجہ سے اس موضوع پر گفتگو کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے، اس سلسلے میں بس اتنا عرض کرنا ہے کہ دینی عقائد اور معارف کی چند اہم ترین بنیادوں میں ایک یہی عقیدہ ہے، جیسے عقیدہ نبوت ہے۔ امام مہدی علیہ السلام سے متعلق عقیدے کی اہمیت اسی طرح کی ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ یہ عقیدہ جس چیز کی نوید دیتا ہے وہ وہی شئے ہے جس کے لئے تمام انبیاء و رسل کو مبعوث کیا گیا۔ یہ نصب العین ہے انسان کو اللہ تعالی کی ودیعت کردہ تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انصاف کی بنیاد پر توحیدی معاشرے کی تشکیل۔ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کا زمانہ انہی خصوصیات کا حامل زمانہ ہے۔ یہ توحیدی معاشرے کا زمانہ ہوگا، یہ یکتا پرستی کی بالادستی کا زمانہ ہوگا یہ انسانی زندگی کے گوشے گوشے میں دین و روحانیت کی حقیقی فرمانروائی کا زمانہ ہوگا، وہ انصاف کے مکمل قیام کا زمانہ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ انبیائے کرام کو اسی ہدف کے تحت بھیجا گیا تھا۔
میں نے بارہا یہ بات کہی ہے کہ انسانیت نے ان گزشتہ صدیوں کے دوران انبیائے الہی کی تعلیمات کے زیر اثر جو کچھ کیا ہے وہ در حقیقت اس شاہراہ کی جانب بڑھنے کی کوشش ہے جو حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے زمانہ ظہور میں انسانیت کو اعلی اہداف کی جانب لے جائے گا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے انسانوں کا ایک گروہ پہاڑی راستوں، دشوار گزار پہاڑیوں، دلدلوں، کانٹوں اور رہزنوں سے بھرے راستوں سے کچھ خاص ہستیوں کی تعلیمات کے سہارے آگے بڑھ رہا ہے کہ کسی صورت سے خود کو اس شاہراہ تک پہنچا دے۔ جب یہ کارواں شاہراہ پر پہنچ جائے گا تو پھر راستہ بالکل سیدھا، واضح اور ہموار ہوگا اور اس پر آگے بڑھنا آسان ہوگا۔ کارواں آسودہ خاطر ہوکر اس شاہراہ پر اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ شاہراہ پر پہنچ جانے کے بعد سفر ختم ہو جائے گا۔ جی نہیں، اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد ہی تو اعلی الہی اہداف کی سمت برق رفتاری سے سفر کا آغاز ہونے والا ہے۔ کیونکہ انسان کی استعداد کبھی نہ ختم ہونے والی استعداد ہے۔ ان گزشتہ صدیوں میں انسانی قافلہ مختلف راستوں، دشوار گزار اور سخت وادیوں سے گزرا ہے، مختلف رکاوٹوں اور مشکلوں سے دوچار ہوا ہے، زخمی بدن اور لہولہان قدموں کے ساتھ ان راستوں پر چلا ہے کہ کسی صورت خود کو شاہراہ پر پہنچا دے۔ یہ شاہراہ وہی امام زمانہ علیہ السلام کے زمانہ ظہور کی شاہراہ ہے۔ ظہور کا زمانہ ہی در حقیقت بشر کے ایک نئے سفر کا نقطہ آغاز ہے۔ اگر مہدویت کا عقیدہ نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انبیائے الہی کی تمام تر سعی و کوشش، یہ دعوت حق، یہ بعثت رسل، یہ طاقت فرسا جفاکشی، سب کا سب سعی لاحاصل تھا، بے سود تھا۔ بنابریں مہدویت کا عقیدہ ایک بنیادی معاملہ ہے۔ بنیادی ترین الہی معارف کا جز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ادیان الہی میں جہاں تک ہمیں اطلاع ہے ماحصل اور نصب العین کا درجہ رکھنے والے اس عقیدے کا وجود ہے اور وہی حقیقت میں عقیدہ مہدویت ہے۔ البتہ اس عقیدے کی شکلیں الگ الگ اور تحریف شدہ ہیں، اس میں واضح طور پر اس عقیدے کو بیان نہیں کیا گيا ہے۔ اسلام میں امام زمانہ علیہ السلام سے متعلق عقیدہ مسلمہ عقائد میں ہے، یعنی یہ صرف شیعوں سے مختص نہیں ہے۔ تمام اسلامی مکاتب فکر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ سرانجام دنیا میں حضرت مہدی (علیہ الصلاۃ و السلام و عجل اللہ فرجہ ) کے ہاتھوں عدل و انصاف کی حکمرانی قائم ہوگی۔ مختلف حوالوں سے پیغمبر اسلام اور دیگر عظیم ہستیوں کی روایات اس سلسلے میں نقل کی گئی ہیں۔ بنابریں اس میں کسی شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس درمیان شیعوں کا ایک خاصہ یہ ہے کہ مہدویت کا عقیدہ ان کے یہاں ذرہ برابر ابہام سے دوچار نہیں ہے، ان کے نزدیک ایسا پیچیدہ عقیدہ نہیں ہے جو لوگوں کے لئے قابل فہم نہ ہو۔ یہ بالکل واضح اور عیاں مسئلہ ہے جس کا بالکل واضح مصداق ہے۔ ہم اس مصداق کو جانتے ہیں، اس کی خصوصیات سے ہم واقف ہیں، اس ہستی کے آباء و اجداد سے ہم واقف ہیں، ان کے خاندان کو ہم جانتے ہیں، ان کی تاریخ ولادت ہمیں معلوم ہے، اس کی تفصیلات سے ہم آگاہ ہیں۔ اس تعارف میں بھی صرف شیعہ علماء کی روایات نہیں ہیں، غیر شیعہ راویوں کی روایات بھی ہیں جو ان علامات کو واضح کرتی ہیں۔ دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو چاہئے کہ ان روایات پر توجہ دیں تاکہ حقیقت ذہن نشین ہو جائے۔ تو اس عقیدے کی اہمیت کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں دوسروں سے پہلے خود ہمیں گہرا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں محکم اور مدلل علمی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔
(امام مہدی کے ظہور کے) انتظار کا مسئلہ بھی مہدویت کے عقیدے کا لازمی جز ہے اور یہ بھی منزل کمال کی سمت امت مسلمہ کی عمومی و اجتماعی حرکت اور حقیقت دین کو سمجھانے میں بنیادی حیثیت رکھنے والے مفاہیم میں ہے۔ انتظار یعنی توجہ، انتظار یعنی ایک یقینی حقیقت پر نظر رکھنا۔ یہ ہے انتظار کا مفہوم۔ انتظار یعنی یہ مستقبل جس کے ہم منتظر ہیں یقینی ہے۔ بالخصوص اس لئے بھی کہ یہ انتظار ایک جیتے جاگتے انسان کا انتظار ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص پیدا ہونے والا ہے، منصب وجود پر ظہور پذیر ہونے والا ہے۔ نہیں، وہ ایسی ہستی ہے جو موجود ہے، لوگوں کے درمیان موجود ہے۔ روایتوں میں منقول ہے کہ لوگ انہیں دیکھتے ہیں اور حضرت بھی لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن لوگ آپ کو پہچانتے نہیں۔ بعض روایات میں حضرت یوسف سے تشبیہ دی گئی ہے کہ حضرت یوسف کے بھائی انہیں دیکھ رہے تھے حضرت یوسف ان کے سامنے تھے، ان کے قریب جاتے تھے لیکن وہ انہیں نہیں پہچان پاتے تھے۔ آپ کا وجود اس طرح کی نمایاں، واضح اور حوصلہ افزاء حقیقت ہے۔ یہ حقیقت، انتظار کا صحیح مفہوم سمجھانے میں مدد کرتی ہے۔ بشر کو اس انتظار کی ضرورت ہے اور امت اسلامیہ کو تو بدرجہ اولی اس کی احتیاج ہے۔ یہ انتظار انسان کے دوش پر کچھ فرائض ڈال دیتا ہے۔ جب انسان کو یقین کامل ہے کہ اس طرح کا مستقبل آنے والا ہے، چنانچہ قرآن کی آیات میں بھی اس کا ذکر ہے «و لقدكتبنا فى الزّبور من بعد الذّكر انّ الارض يرثها عبادى الصّالحون. انّ فى هذالبلاغا لقوم عابدين»(1) جو لوگ بندگی پروردگار سے مانوس ہیں، سمجھتے ہیں انہیں چاہئے کہ خود کو آمادہ کریں، منتظر رہیں اور نظر رکھیں۔ انتظار کا لازمہ ہے خود کو آمادہ کرنا۔ اگر ہمیں علم ہے کہ کوئی بڑا واقعہ رونما ہونے والا ہے اور ہم اس کے منتظر ہیں تو کبھی ہم یہ نہیں کہیں گے کہ ابھی تو بڑا طویل عرصہ باقی ہے اس واقعے کے رونما ہونے میں اور نہ ہی ہم یہ کہیں گے کہ یہ واقعہ بالکل نزدیک ہے اور عنقریب رونما ہونے والا ہے۔ ہمیں ہمیشہ منتظر رہنا ہوگا، ہمیشہ نظر رکھنی ہوگی۔ انتظار کا تقاضا یہ ہے کہ انسان خود کو اسی وضع قطع میں ڈھالے اور وہی اخلاق و انداز اختیار کرے جو اس زمانے کے لئے مناسب ہے جس کا اسے انتظار ہے۔ یہ انتظار کا لازمہ ہے۔ جب اس زمانے میں عدل و انصاف کی بالادستی قائم ہونے والی ہے، حق کا بول بالا ہونے والا ہے، توحید و اخلاص و عبودیت پروردگار کا پرچم لہرانے والا ہے، ان خصوصیات کا حامل دور آنے والا ہے تو ہم جو اس کے انتظار کی گھڑیاں گن رہے ہیں خود کو ان صفات سے متصف کرنے کی کوشش کریں۔ ہمیں چاہئے کو عدل و انصاف کے حامی بنیں، خود کو انصاف کے لئے تیار کریں، خود کو حقانیت تسلیم کرنے کے لئے آمادہ کریں۔ انتظار اس طرح کی حالت پیدا کر دیتا ہے۔
حقیقت انتظار میں ایک اور خصوصیت شامل کر دی گئی ہے اور وہ خصوصیت یہ ہے کہ انسان موجودہ صورت حال پر، اس وقت تک حاصل ہونے والی پیشرفت پر ہی قانع نہ ہو جائے بلکہ روز بروز اس ترقی میں اضافہ، ان حقائق اور روحانی و معنوی صفات کو اپنے اندر اور معاشرے کی سطح پر نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ یہ انتظار کی لازمی باتیں ہیں۔
بحمد اللہ اس وقت انتظار کے موضوع پر عالمانہ انداز میں کام کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ جناب قرائتی صاحب کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا۔ ویسے میں پہلے بھی اس رپورٹ کو پڑھ چکا ہوں اور ایک بار پھر یہ چیز بیان کی گئی۔ انتظار کے مسئلے میں باریک بینی کے ساتھ عالمانہ انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں عامیانہ اور جاہلانہ باتوں سے بہت سختی سے پرہیز کرنا چاہئے۔ جو چیزیں خطرناک ہو سکتی ہیں ان میں یہی عامیانہ، جاہلانہ، معرفت سے عاری اور معتبر سند کے بغیر امام زمانہ علیہ السلام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے سلسلے میں بحث کرنا ہے۔ کیونکہ اس طرح مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کے لئے زمین ہموار ہوتی ہے۔ غیر عالمانہ، غیر معتبر، پختہ دلائل اور سند سے عاری بحث در حقیقت وہم و خیال ہے۔ اس طرح کی باتیں لوگوں کو حقیقی انتظار سے دور کر دیتی ہیں اور دجال صفت دروغگو لوگوں کے لئے راستہ کھل جاتا ہے۔ لہذا ان باتوں سے سختی کے ساتھ اجتناب کرنا چاہئے۔
تاریخ میں بہت سے دعویدار پیدا ہوئے ہیں۔ یہ دعویدار ظہور کی کسی ایک علامت کو اپنے اوپر یا کسی اور پر منطبق کر لیتے تھے۔ یہ سراسر غلط عمل ہے۔ بعض باتیں جو ظہور امام زمانہ علیہ السلام کی علامات کے طور پر بیان کی جاتی ہیں حتمی نہیں ہیں۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو معتبر روایات میں مذکور نہیں ہیں۔ ضعیف روایتوں میں ان کا ذکر ضرور ملتا ہے لہذا ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ جو علامتیں معتبر ہیں ان کے لئے بھی صحیح مصداق کی تلاش کرنا کارے دارد۔ تاریخ میں مختلف ادوار میں کچھ لوگ شاہ نعمت اللہ ولی کے اشعار کو مختلف لوگوں پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ چیز تو میں نے خود بھی دیکھی ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ یہ گمراہ کن باتیں ہیں، یہ غلط راستے پر لے جانے والے کام ہیں۔ جب انحراف اور گمراہ کن باتیں شروع ہو جاتی ہیں تو حقیقت متروک ہوکر رہ جاتی ہیں، مشتبہ ہو جاتی ہیں۔ عوام الناس کے اذہان کی گمراہی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ لہذا عامیانہ کاموں سے اجتناب، عامیانہ افواہوں پر سکوت سے اجتناب بہت ضروری ہے۔ عالمانہ، مدلل، معتبر سند پر استوار کام جو اہل فن کا کام ہے، ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے، اس کے لئے اہل فن کی ضرورت ہوتی ہے، علمائے حدیث کی ضرورت ہوتی ہے، علم رجال کے ماہر افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو سند کو پہچانتے ہوں، اہل نظر ہوں، باخبر لوگ ہیں، حقائق سے آشنا ہوں، ایسے لوگ ہی اس وادی میں قدم رکھ سکتے ہیں اور علمی تحقیق کر سکتے ہیں۔ اس پہلو کو جہاں تک ممکن ہے زیادہ سے زیادہ سنجیدگی اور توجہ سے انجام دیا جائے تا کہ لوگوں کے لئے راستہ کھلے۔ دل اس عقیدے سے جتنے محرم ہوں گے، مانوس ہوں گے، حضرت کا وجود مبارک ہمارے لئے جو زمانہ غیبت میں زندگی بسر کر رہے ہیں جتنا زیادہ قریب اور قابل ادراک ہوگا، حضرت سے ہمارا رابطہ جتنا زیادہ قوی ہوگا ہماری دنیا کے لئے، اعلی اہداف کی جانب ہماری پیش قدمی کے لئے اتنا ہی زیادہ بہتر ہوگا۔
مختلف زیارتوں میں ہم جو توسل کا انداز دیکھتے ہیں جن میں بعض کی سند بھی بہت معتبر ہے، ان کی بہت اہمیت ہے۔ حضرت سے توسل، آپ کی سمت توجہ، آپ سے انسیت۔ اس انسیت سے مراد یہ نہیں ہے کہ کوئی یہ کہے کہ میں تو حضور کو دیکھتا ہوں، آپ کی صدائے مبارک کو سنتا ہوں۔ ہرگز نہیں، ایسا نہیں ہوتا۔ اس طرح کی باتیں جو کہی جاتی ہیں ان میں بیشتر یا تو جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں یا وہ شخص جھوٹ نہیں بول رہا ہوتا ہے بلکہ اپنے تصورات اور تخیلات کے زیر اثر اس طرح کی باتیں شروع کر دیتا ہے۔ ہم نے ایسے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے جو جھوٹ بولنے والے انسان نہیں تھے بلکہ اپنی خیالی باتوں کے زیر اثر تھے۔ اپنی ان خیالی باتوں کو لوگوں کے سامنے حقیقت کے طور پر پیش کرتے تھے۔ ان باتوں سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ صحیح راستہ منطقی اور دلیلوں کا راستہ ہے۔ توسل اور امام سے راز و نیاز کا جہاں تک سوال ہے تو یہ عمل، انسان دور سے انجام دیتا ہے۔ امام علیہ السلام اسے سنتے ہیں اور التجا کو قبول بھی کرتے ہیں۔ ہم اپنے مخاطب سے جو ہم سے دور ہے کچھ حال دل بیان کرتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اللہ تعالی سلام کرنے والوں اور پیغام دینے والوں کا پیغام اور سلام حضرت تک پہنچاتا ہے۔ یہ توسل اور یہ روحانی انسیت فعل مستحسن اور لازمی امر ہے۔ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی حضرت کے ظہور کو زیادہ سے زیادہ نزدیک کر دے۔ ہمیں ان بزرگوار کے ناصرین میں قرار دے۔ زمانہ غیبت میں بھی اور زمانہ ظہور میں بھی، ہمیں حضرت کی قیادت میں جہاد کرنے والوں میں قرار دے اور اسی جہاد میں جام شہادت نوش کرنے والوں میں ہمیں شامل فرمائے‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲۔


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Mourining of Imam Hossein
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram