کیوں عاشور کا روزہ اہل تشیع کے نزدیک مکروہ جبکہ اہل سنت کے نزدیک مستحب ہے؟

کیوں عاشور کا روزہ اہل تشیع کے نزدیک مکروہ جبکہ اہل سنت کے نزدیک مستحب ہے؟

کیوں عاشور کے دن روزہ رکھنا اہل تشیع کے نزدیک مکروہ جبکہ اہل سنت کے نزدیک مستحب ہے؟ اور کیوں اہل تشیع اس دن فاقہ کرتے ہیں؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

سوال: کیوں عاشور کے دن روزہ رکھنا اہل تشیع کے نزدیک مکروہ جبکہ اہل سنت کے نزدیک مستحب ہے؟ اور کیوں اہل تشیع اس دن فاقہ کرتے ہیں؟
جواب: جیسا کہ سب کے نزدیک عیاں ہے کہ اہل تشیع اور اہل سنت کے یہاں فقہی احکام کے استنباط کرنے کے منابع و مآخذ مختلف ہیں۔ اہم ترین اختلاف یہاں ہے کہ اہم سنت پیغمبر اکرم (ع) کے بعد  صحابہ کے قول و فعل کو حجت سمجھتے ہیں لیکن اہل تشیع پیغمبر اکرم(ص) کے بعد بارہ اماموں کے اقوال اور ان کی سیرت کو حجت اور کتاب الہی کے بعد سنت رسول(ع) کے برابر کا درجہ دیتے ہیں جسے اہل سنت قبول نہیں کرتے۔ اہل تشیع ائمہ طاہرین کو اہل بیت(ع) رسول کا حقیقی مصداق قرار دیتے ہوئے انہیں معصوم جانتے اور اس بات کے معتقد ہیں کہ علم پیغمبر (ص) ان کے بعد ائمہ طاہرین کی طرف منتقل ہوا اور وہ سب سے زیادہ دین الہی کے بارے میں جانتے ہیں چونکہ’’ اھل البیت ادری بما فی البیت‘‘ گھر والے گھر میں کیا ہے کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ بھی ہے کہ طول تاریخ میں کوئی ایک بھی شخص ائمہ طاہرین کو علمی میدان میں شکست نہیں دے سکا۔
بہر حال، عاشور کا روزہ فقہی مسائل میں سے ایک ہے لہذا ہر فرقہ اپنے فقہی منابع سے استناد کرتے ہوئے اس کا حکم بیان کرتا ہے۔
لیکن اگر ان روایات کی چھان بین کی جائے جو عاشور کے روزے کے بارے میں منقول ہیں یا رسول اسلام کی طرف منسوب کی گئی ہیں اور اہل سنت کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں تو ان میں واضح تعارض نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر صحیح مسلم میں کتاب الصوم میں عاشور کے روزے کے بارے میں ابن مسعود سے نقل کیا گیا ہے: ’’ماہ رمضان کے روزے کے حکم سے پہلے عاشور کا روزہ واجب تھا لیکن جب رمضان کے روزے واجب ہو گئے تو عاشور کے روزہ کا وجوب منسوخ ہو گیا‘‘ ۔ صحیح بخاری میں اسی باب میں عاشور کے روزے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ عصر جاہلیت میں عاشور کو روزہ رکھا جاتا تھا اور پیغمبر نے بھی عصر جاہلیت کی پیروی کرتے ہوئے عاشور کو روزہ رکھا(۱)۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم عاشور کے روزے کی فضیلت نہیں جانتے تھے لیکن جب انہوں نےمکہ سے مدینہ ہجرت کی اور وہاں یہودیوں کو عاشور کے دن روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو خود بھی رکھنے لگے۔(۲)
پہلی بات یہ ہے کہ خود ان روایات کے اندر تعارض پایا جاتا ہے ایک روایت کہتی ہے کہ پیغمبر عصر جاھلیت کی پیروری کرتے ہوئے روزہ رکھتے تھے دوسری روایت کا کہنا ہے کہ جب تک پیغمبر نے ہجرت نہیں کی تھی تب تک وہ عاشور کی فضیلت سے آشنا نہیں تھے اور یہودیوں کی پیروری میں انہوں نے روزہ رکھا تیسری روایت رمضان کے روزوں سے پہلے عاشور کے روزے کو واجب قرار دیتی ہے۔
تھوڑا سا غور کرنے سے ہر مسلمان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام عصر جاہلیت یا یہودی طور طریقے کا تابع تھا کہ جو رسومات عصر جاہلیت یا یہودیت و عیسائیت کی پیغمبر کو اچھی لگتی رہیں وہ ان پر عمل کرتے رہے؟(نعوذ باللہ) یا اگر ماہ رمضان سے پہلے عاشور کا روزہ واجب تھا اور بعد میں منسوخ ہو گیا توپھر قرآن میں ناسخ و منسوخ موجود ہوتے جب اللہ نے ماہ رمضان کے روزے واجب کئے تو ساتھ میں یہ بھی حکم دیتا کہ اب اس کے بعد عاشور کا روزہ تم پر سے ساقط کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ قرآن میں عاشور کا کوئی تذکرہ نہیں۔
حقیقت امر یہ ہے کہ ۶۱ ہجری میں نواسہ رسول کو قتل کرنے کے بعد یزید نے اس دن اپنی فتح کا اعلان کیا اور اس دن کو مسلمانوں کے لیے عید کا دن قرار دیا اور اس میں روزہ رکھنے کی فضیلت کے بارے میں حدیثیں جعل کروائیں جیسا کہ زیارت عاشورہ میں عاشور کو بنی امیہ کی طرف سے عید قرار دینے کے بارے میں واضح طور پر کہا گیا ہے’’ اللھم ان ھذا یوم تبرکت بہ بنی امیہ‘‘ ’’ ھذا یوم فرحت بہ آل زیاد و آل مروان بقتلھم الحسین صلوات اللہ علیہ‘‘۔ یعنی خدایا یہ وہ دن ہے جسے بنی امیہ نے بابرکت قرار دیا، یہ وہ دن ہے جس دن آل زیاد اور آل مروان نے حسین علیہ السلام کے قتل کی وجہ سے عید منائی۔
اس کے برخلاف اہل تشیع  جو اس دن روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں کے نزدیک اس کی دلیل ائمہ طاہرین سے مروی احادیث ہیں بنعوان مثال’’ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: عاشور کا دن روزہ رکھنے کا دن نہیں ہے بلکہ غم و مصیبت کا دن ہے ایسی مصیبت جو اہل آسمان، زمین اور تمام مومنین پر پڑی۔ یہ دن مرجانہ کے بیٹے، آل زیاد اور اہل جہنم کے نزدیک خوشی کا دن ہے‘‘۔
لہذا عاشور مصیبت اور غم کا دن ہے عید کا دن نہیں کہ روزہ رکھنا مستحب ہو۔ جبکہ اس کے برخلاف بنی امیہ اس دن عید منا کر روزہ رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی روزے کی تشویق کرتے تھے۔
رہی بات عاشور کو فاقہ کرنے کی تو فاقہ کرنا شرعی حکم نہیں ہے اور نہ ہی فقہی کتابوں میں موجود ہے بلکہ دعاؤں کی کتابوں میں عاشور کے دن کے حوالے سے وارد ہوئے اعمال میں کہا گیا ہے جیسا کہ شیخ عباس قمی نے کتاب مفاتیح الجنان میں بیان کیا ہے اور واضح ہے کہ مفاتیح الجنان میں وارد شدہ اعمال فقہی اور شرعی اعمال کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ ان کا ماخذ اخلاقی روایات ہیں انہوں نے اعمال عاشورہ کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سزاوار ہے شیعوں کے لیے کہ وہ عاشور کو روزہ کی نیت کئے بغیر فاقہ کریں اور عصر کے وقت کسی ایسی چیز سے افطار کریں جو مصیبت زدہ لوگ استعمال کرتے ہیں۔
اور اس کا فلسفہ شاید یہ ہو کہ مولا امام حسین (ع) عصر عاشور تک جو ان کی شہادت کا وقت ہے بھوکے پیاسے لاشوں پر لاشے اٹھاتے رہے لہذا ان کے چاہنے والے بھی اس وقت تک کچھ نہ کھائیں پئیں تو بہتر ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱: صحیح بخاری، کتاب الصوم،  ح 1794.
۲ـ وہی حوالہ؛ ح 1900، 3726 و 3727.

بقلم: الف۔ ع۔ جعفری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی